ذہنی امراض
ذہنی امراض،ڈپریشن وغیرہ حقیقی جیتی جاگتی بیماریاں ہیں،اور بہت سیریس بیماریاں ہیں۔ان کا مذاق اڑانااب بندکردینا چاہیے۔یہ کوئی افسانوی یا خیالی بیماریاں نہیں ہیں جنہیں لفظوں سے تراش لیا گیا ہے۔ اکثر کا ماننا ہے کہ یہ دین سے دُوری کانتیجہ ہے۔جو لوگ دل کے مریض ہوں یا پھر جنہیں کینسر ہو جائے تو کیا وہ دین سے دُور تھے جنہیں یہ بیماریاں ہوئیں؟وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔دین سے قربت بیمار کے لیے فائدہ مند ہے،لیکن صرف یہ سوچ لینا کہ یہ دین سے دُوری کا نتیجہ ہے درست نہیں ہے،بلکہ یہ جہالت ہے۔ذہنی امراض، یاڈپریشن ذہن کا فتور نہیں ہے۔ٹینشن، ڈپریشن، اینزایٹی، متنشرخیالی، مستقل اداسی، ذہنی امراض کی چند قسمیں ہیں،اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اورتکلیف دہ لیکن قابل علاج ذہنی امراض اپنا مکمل وجود رکھتے ہیں۔ ماضی میں لوگوں کو جب کوئی نئی بیماری ہوتی تھی تو اسے گناہ گار مان لیاجاتا تھا۔نئی بیماری سے مراد ایسی بیماری ہے جو اس زمانے میں دیکھنے اور سننے میں کم ہی آیا کرتی تھی۔ ہندوستان میں خواتین میں پاگل پن عام ہونے لگا تو اسے جنوں،چڑیلوں کا سایہ کہاجانے لگا۔انہیں کوٹھریوں میں بندکردیاجاتا،زنجیروں سے باندھ جاتا کہ ان پر ہوائی چیزوں کا سایہ ہے۔چونکہ خواتین کے سبھاؤ میں تبدیلی آنے لگتی تھی تو یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ ایسی حرکتیں کوئی شرر مخلوق ہی کر سکتی ہے،عام انسان نہیں۔ بے جا سختیاں اور پابندیاں بھی ان ذہنی امراض کی وجہ بنیں۔جیسے کسی کو ٹھنڈ لگی اور نمونیا ہوگیا، ایسے ہی کسی کو ذہنی ٹھیس پہنچی اور دماغ متاثر ہو گیا۔اب اس میں ایسا کیا ہے جو سمجھ میں نہ آسکے۔ان لوگوں،خاص طور پر خواتین کو پاگل مان لیا گیا اور ان کے علاج پر بالکل توجہ نہیں دی گئی، بلکہ علاج کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا۔نمونیہ کا علاج نہ کروائیں تووہ بگڑ جاتاہے،ان کے ذہنی امراض بھی بگڑ گئے اور وہ واقعی میں پاگل ہی ہو گئیں۔اس زمانے کے دانا اور ڈاکٹرز بار بار کہتے رہے کہ ان کا علاج ہونا چاہیے،یہ ٹھیک ہو جائیں گی لیکن لوگوں کی جاہلیت کا یہ عالم تھا کہ وہ سمجھتے تھے یہ جن بھوت یا ذہن کا فتور تو ہو سکتاہے لیکن کوئی بیماری نہیں۔بھلا بیماریاں ایسی ہوتی ہیں۔ان خواتین اور لوگوں کی نسلیں آگے بھی چلیں، یہ دیوانگی ان کی آئندہ نسلوں میں بھی آئیں۔اس لیے بھی ذہنی امراض بڑھ چکے ہیں کہ یہ اگلی نسلوں میں منتقل ہوئے۔جن خاندانوں میں ایسے افراد نے خود کشیاں کیں، ان کی آئندہ نسلوں نے بھی یہ کوششیں کیں۔ حاصل کلام……؟ لوگ اب بھی ایسے بیماروں کو بیمار نہیں بلکہ پاگل ورنہ نفسیاتی مریض سمجھتے ہیں۔خبطی، دیوانہ کہہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ان پر طنز کیے جاتے ہیں۔انہیں الٹے سیدھے نام دیے جاتے ہیں۔ اور یہ سب جاہل ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے آج تک دماغ کی کارکردگی پر ایک کتاب چھوڑ ایک آرٹیکل نہیں پڑھا وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایسی بیماریاں دماغ کا فتور ہیں، ورنہ دین سے دوری کا انجام ہیں۔جبکہ حقیقت میں اس وقت پوری انسانیت کو ذہنی امراض، خاص طور پر ڈپریشن سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ یہ چھپا ہوا قاتل ہے۔ جو بیمار ہوتاہے، اسے بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس مرض ڈپریشن کا بیمار ہے۔ ڈپریشن کے بارے میں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’یہ ایک بیماری ہے‘‘، جیسا کہ نزلہ، زکام، بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دیگر امراض۔ جن کے مریض دوا کے ساتھ توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی بھی انسان جسمانی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح نفسیاتی بیماریاں کسی بھی خاک کے پتلے کو جکڑ سکتی ہیں۔اداسی ایک کیفیت ہے جو کسی واقعہ کے پیش نظر انسان پر طاری ہوتی ہے۔ ایک حد تک اداسی انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن اگر یہ اداسی معمول سے طویل ہو، روزمرہ کے معمولات اس سے متاثر ہوں تو ڈپریشن کی بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔نیورو سائنس کی رو سے ڈپریشن میں آپ کا اعصابی نظام مخصوص نیوروٹرانسمیٹرز (نار ایڈرنالین، سیروٹونین، اور ڈوپامین) کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔ڈپریشن دائمی حالت ہے اور اس کی سنگین کنڈیشن خود بہ خود ختم نہیں ہوتی۔ ڈپریشن کوئی چوائس نہیں ہے، یہ ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے۔ مایو کلینک کے مطابق ڈپریشن میں مبتلا شخص میں دماغی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں اور ہورمونز کے عدم توازن کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔ ان علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر اس کی شدت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ خودکشیوں کی ایک بڑی وجہ ڈپریشن ہے۔ ماضی میں خودکشی پر ہی توجہ دی جاتی تھی تاہم اب ڈپریشن جیسی وجوہات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔کچھ لوگ چیزیں توڑتے ہیں،کچھ پالتو جانوروں کو مار دیتے ہیں، آگ لگا دیتے ہیں،اپنی کھال، بال نوچتے اور کاٹتے ہیں یا جہاں جسے نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچا دیتے ہیں، حتیٰ کہ خود کو بھی۔اور یہ سب ان کی بیماری کی وجہ سے ہوتاہے، وہ خود بھی نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہورہاہے۔ہمارے گھر میں رہنے والا پر امن انسان ایک دم سے چیخنے چلانے کیوں لگا ہے، یا یہاں وہاں پھرتی سے کام کاج کرنے والا اب کمرے سے ہی کیوں نہیں نکل رہا ہے،اس جیسی باتوں کو ہم ’’موڈ‘‘ کہتے ہیں۔جبکہ ہو سکتاہے کہ وہ کیمیکل ام بیلنس کا شکار ہو۔اس میں ڈپریشن کی ابتدائی علامات ہوں، وہ پی ٹی ایس ڈی کو جھیل رہا ہو۔اچھی بھلی مائیں ایک دم سے ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بستر کی ہو جاتی ہیں، اور ہم یہ نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ اچانک ملنے والا کوئی صدمہ ہو سکتاہے۔ ہنستے کھیلتے لوگ آدم بیزار ہو جاتے ہیں، اس کی وجہ نیوروز کی کار کردگی میں توڑ پھوڑ ہو سکتی ہے۔ ایک وقت تھاکہ جسے کوڑھ ہوتا تھا اسے پتھر مارے جاتے تھے، آج بھی وہی پتھر مارے جاتے ہیں پر آج انہیں کمنٹ، اور طنز کہا جاتا ہے۔کوڑھیوں کو خدا کا عذاب کہا جاتا تھا، آج بھی وہی سب ہے فرق اتنا ہے کہ بیمار کو پاگل کہا جاتاہےورنہ گناہ گار۔ کہ یہ سب دین سے دوری کی سزا ہے۔تب بھی لوگ ’’کوڑھ‘‘کو نہیں سمجھتے تھے۔داناؤں نے بہت سمجھایا کہ یہ ایک بیماری ہے۔ بس!آج بھی لوگ ذہنی امراض کو نہیں سمجھتے کہ یہ صرف بیماری ہے۔اس کا گناہ ثواب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔علماء دین سمجھا رہے ہیں، لیکن ایک مخصوص طبقہ ہے کہ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے، اور بہت سنگدلی سے ان بیماریوں کا مذاق اڑاتاہے۔جس چیز کی سمجھ نہیں ہے، بہتر ہے کہ اس پر با ت نہ کی جائے۔ ذہنی امراض دکھائی نہیں دیتے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کا حقیقی وجودنہیں ہے۔ یہ بیماریاں چھوٹے بچوں سے لے کر ہر عمر کے افراد میں پائی جاتی ہیں۔
یاد رکھیں کہ ہر عہد،ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی ایسی بیماری ضرور پیدا ہوتی ہے جو ساری انسانیت کے لیے آزمائش بن جاتی ہے،یہ اس عہد کی آزمائش ہے۔ بہتر ہے کہ ان امراض،اور ان سے متاثر بیماروں کے لیے الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جا ئے۔بیمار سے ہمدردی رکھی جائے، اسے علاج کے لیے اکسایا جائے۔ اس کی بات کو توجہ سے سنا جائے، اور اس کے گھر والے، دوست احباب اس کے ساتھ تعاون کرنے کی پوری کوشش کریں۔
ڈپریشن کے بارے میں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ’’ یہ ایک بیماری ہے‘‘ جیسا کہ نزلہ، زکام، بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دیگر امراض۔ جن کے مریض دوا کے ساتھ توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی بھی انسان جسمانی بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے بالکل اسی طرح نفسیاتی بیماریاں کسی بھی خاک کے پتلے کو جکڑ سکتی ہیں
جون ۲۰۲۱