راہِ ایمان پر ایک قدم
میری نماز میری ساتھی
سنو ! یار تم نماز کیوں نہیں پڑھتیں ؟
پڑھ تو لیتی ہوں کبھی کبھی ۔۔۔
نہیں! میں یہ کہہ رہی ہوں کہ روزانہ باقاعدگی سے نماز کیوں ادا نہیں کرتیں ؟
کیا فائدہ ہوگا؟ میرے گناہوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ نماز اور قرآن سے میری بخشش نہیں ہوگی ۔
یہ کس نے کہہ دیا تم سے کہ تمہاری بخشش نہیں ہوگی ۔ کیا تمہیں اللہ کے رحیم ہونے پر یقین نہیں ہے ؟
مجھے نماز میں سکون ہی نہیں ملتا ۔۔۔!
یہ سب شیطان کے وسوسے ہوتے ہیں۔ ہم گناہ کرتے ہیں اور ڈھیٹ بن جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم نماز چھوڑ دیتے ہیں۔ جیسے بچہ غلطی کرتا ہے تو وہ اپنی ماں کے پاس جاتا ہے، اسی طرح ہم جب غلطی کرتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے۔ نماز کو ٹھہر ٹھہر کر ، سمجھ کر پڑھو گی تو نماز میں مزہ آئے گا اور سکون بھی ملے گا ۔
بے شک دلوں کا سکون تو رب کے ذکر میں ہے ۔(الرعد:28)
اور دیکھو نا ! اللہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہے۔اس نے بندوں کے لیے کتنی سہولتیں عطا کی ہیں۔ نماز کے بارے میں اس کا حکم ہے کہ کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھ لو ، بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھ لو اور لیٹ کر بھی پڑھنا مشکل لگ رہا ہے تو اشاروں میں
پڑھ لو۔
میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ ہم نماز کیوں پڑھتے ہیں؟
اللہ کے خوف سے ! پھر یاد آتا کہ اللہ تو غفور الرحیم ہے ۔ پھر سوچتی کے شکر ادا کرنے کے لیے ، پھر خیال آتا کہ اللہ کو اس کی ضرورت نہیں۔ پھر سوچتی کہ جنت کے لیے ، لیکن اللہ تو درگزر کرنے والا ہے۔ پھر سوچتی کہ شاید فرض کی ادائیگی کے لیے، لیکن زمین پر سر ٹکرانے سے نماز تو نہیں ہوتی ۔
اب میں سمجھ گئی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ اللہ ہم سے کلام کرنا چاہتا ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ ہم اس سے دوستی کریں ، اس سے مشورہ کریں، اسے اپنی داستان سنائیں اور اپنے حالِ دل سنا کر بے قراری کو سکون میں بدل لیں۔
ایک ایسا دوست جو ہم سے بات کرنا چاہے ، جو ہماری مشکلات کو آسان کرنا چاہے اورجو ہم سے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے تو کیا ہم اس کی دوستی کو قبول نہیں کریں گے ؟کیا ہم اسے اپنا سچا دوست نہیں بنائیں گے؟ کیا ہم اپنے بے سکون دل کو سکون نہیں پہنچائیں گے؟
ایک وقت تھا جب میں بہت بیزار ہو کر نماز پڑھتی تھی۔ بوجھل دل کے ساتھ اپنے اندر سے لڑ لڑ کر آخری وقت میں اپنے آپ کو اللہ کے سامنے کھڑا کرتی تھی ۔ میں سمجھتی تھی کہ میری نمازیں کبھی ایسی حالت میں قبول نہیں ہوگی۔پھر میں نے کہیں پڑھا کہ اللہ کو ایسی نمازیں بہت محبوب ہیں، جب بندہ اپنے نفس پر غالب آ کر اور شیطان کو مات دے کر کھڑا ہوتا ہے۔جب مجھے یہ علم ہوا تو مجھےاپنے آپ سے شرمندگی ہوئی اور یہ احساس ہوا کہ اللہ ہمیں کتنے خلوص سے چاہتا ہے اور ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ ہم اللہ کی محبت کو سمجھ نہیں سکے ۔
آپ ؐ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو آپ ؐ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے ۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بامراد ہوا وہ شخص (قرآن سن کر برے عقائد وہ اخلاق سے) پاک ہو گیا اور اب اپنے رب کا نام لیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔
آپؐ نے فرمایا :
’’مسلمان اور کافروں کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا ۔‘‘
نماز چھوڑ نے سے چہرے کا نور ختم ہوجاتا ہے، روزی سے برکت ختم ہوجاتی ہے ، بدن سے طاقت چلی جاتی ہے، صالح اولاد سے محروم ہوتے ہیں ، نیند سے راحت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ سب نقصان کس کو ہو گا؟ اللہ کو؟ نہیں نا ؟ ہم نے نماز ہمارے لیے پڑھنی ہے۔اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں لینے کے لیے ، پل صراط سے بجلی کی طرح گزرنے کے لیے، بغیر حساب کے جنت میں جانے کے لیے۔ نماز دین کا وہ ستون ہے، جس کو ادا نہ کیا گیا تو ایمان کی بنیاد ہی منہدم
ہوجائے گی۔
جیسے تو راضی ویسے راضی کردے
میرا کوئی عمل تو امتیازی کردے
سر جھک جاتا‌ ہے من جھکتا ہی نہیں
دل بھی کسی وقت نمازی کردے
اب میں سمجھ گئی ۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ اللہ ہم سے کلام کرنا چاہتا ہے۔اللہ چاہتا ہے کہ ہم اس سے دوستی کریں ، اس سے مشورہ کریں، اسے اپنی داستان سنائیں اور اپنے حالِ دل سنا کر بے قراری کو سکون میں بدل لیں۔
۲۰۲۱ ستمبر