راہ ہدایت کے مُسافر
قسط:1
ثنا نے بچپن سے جس گھرانے کو پورے خاندان سے منفرد اور سکون کا مسکن پایا تھا، وہ اُس کی خالہ کا راحت کدہ تھا۔ بچپن سے اس کی یہ عادت تھی کہ جونہی دنیا کی محفلوں سے اکتاتی تو خالہ کی آغوش میں آجاتی۔ خالہ کی مشفق مادرانہ مسکراہٹ اس کے دکھوں کا تریاق تھی۔
’’اچھا آپ پھر آگئیں ہماری امی پر قبضہ جمانے۔‘‘
بارہ سالہ اشعر اسکول سے واپس آیا تو ثنا حسبِ سابق اس کی والدہ کی گود میں سر رکھے راز ونیاز میں مصروف تھی۔
’’خالہ جانی! کہیں سے جلنے کی بُو آرہی ہے آپ کو…….؟‘‘
’’آپ کو اپنے گھر میں سکون نہیں ملتا…….؟‘‘
’’نہیں ملتا سکون۔ اس لیے تو یہاں آتی ہوں اور تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ یہ میرا خونی، رضاعی اور آئینی حق ہے۔‘‘
’’آپی آپ بالکل ناراض نہ ہوں۔ اشعر بھائی آپ کو ویسے ہی چڑارہے ہیں۔ آج صبح بھی ہم تینوں بھائی دن گن رہے تھے اور اللہ سے دعا کررہے تھے کہ آپی کو جلدی بھیج دیں۔‘‘
سات سالہ معاذ کی اطلاع پر ثنا کی مصنوعی خفگی اب فخریہ مسکراہٹ میں تبدیل چکی تھی۔
***
جوں جوں گاڑی گھر کے قریب آرہی تھی، ثنا کو لگ رہا تھا کہ اُس کے حلق میں گولہ سا پھنس رہا ہے۔خالہ جانی کے گھر سے واپسی پر اس کی ہمیشہ یہی حالت ہوتی۔ اسے لگتا جیسے وہ جنت سے زمین پر لاکر پٹخ دی گئی ہو۔ روح قفسِ عنصری سے پرواز کرتی محسوس ہوتی، حالاں کہ خالہ کے سادہ ترین گھرانے کا الٹرا ماڈولا سے کیا مقابلہ؟ بظاہر اس کی امی اور خالہ دونوں سگی بہنیں تھیں، لیکن مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
’’تم آگئیں بی بی، نیک پروین بن کر، پچھلے ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار ہورہاہے۔‘‘
’’کیوں آپی!……. کیا ہوا؟‘‘
’’ پہلے تو یہ بتاؤں تمہیں میری آواز آرہی ہے؟ یہ جو اتنی بڑی’چادرا‘ لپیٹی ہوئی ہو تو عقل کے ساتھ کان بھی متاثر ہوگئے ہوں گے۔‘‘
ضبط کا جو سبق ابھی خالہ جانی کے گھر سے پڑھ کر آئی تھی، یہاں اب برتنے کا وقت تھا۔سو وہ خاموش رہی۔
’’آج صفی چچا کے حیدر کی منگنی ہے۔‘‘
’’تو اس بات کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟‘‘
’’اوہ! مجھے تو یاد ہی نہیں رہا کہ تم ابھی ہپناٹائزڈ ہو۔ خالہ جانی کے گھر سے واپسی پر کچھ دیر کے لیے تمہارا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
’’آپ لوگ جائیں، مجھے نہیں جانا۔‘‘
’’ماما…….ماما!‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘
زرین بیٹیوں کا شور شرابے کو سنتے ہی بھاگتی ہوئی کمرے میں آئیں۔
’’کیوں چلارہی ہوں سحر؟…….کیا ہوا؟‘‘
’’جی خیر سے آپ کی دختر نیک اختر آج کا فنکشن اٹینڈ نہیں کریں گی۔‘‘
’’کیوں ثنا؟……. یہ میں کیا سن رہی ہوں؟
’’امی! آپ جانتی ہیں کہ میں اِس فنکشن میں شامل نہیں ہوسکتی۔‘‘
’’دیکھو بیٹا! صلہ رحمی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘
’’کیا خوشی اور صلہ رحمی کا تعلق صرف اِن بے ہودہ محفلوں کے ساتھ جڑا ہے۔ مکس گیدرنگ، میوزک اور…….‘‘
’’بس بس! اب آگے کا سبق مجھے یاد ہے۔ خالہ جانی خود تنہا پسند رہتی تو ٹھیک تھا، لیکن ہمارے خالو کو بھی سارے خاندان سے کاٹ ڈالا۔ اپنے بچوں تک تو چلو ٹھیک تھا، لیکن دوسرے کے بچوں کو بھی برین واشنگ کرنا……اِسی لیے تو میں انھیں دیکھ کر راستہ بدل لیتی ہوں۔ خیر ماما! آپ ثنا کو کنٹرول کریں، نہیں تو’خالہ جانی پارٹ ٹو‘ بننے نہیں جارہا، بلکہ بن چکا ہے۔ آج جس طرح آپ اپنی بہن کو خاندان کی ہر خوشی میں نہ پاکر غمگین ہوتی ہیں، کل کو اللہ نہ کرے، مجھے بھی ایسے حالات نہ دیکھنا پڑے۔‘‘
پچھلی کم و بیش چار دہائیوں سے زرین یہی سب دیکھتی آئی تھی۔
تین نسلیں فاطمہ کی ہٹ دھرمی کا شکار ہوچکی تھیں۔ اب چوتھی نسل کی فصل بھی تیار تھی۔ لیکن اپنی لاڈلی نازوں بھری چھوٹی بہن کو وہ آج تک رتی برابر بھی قائل نہ کرسکی تھی۔ انھیں آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد تھا، جب پہلی بار فاطمہ کے ساتھ کچھ برقع شدہ لڑکیاں گھر میں آن وارد ہوئیں۔ اُن کا اخلاق، باتیں سب کچھ بہت اچھا تھا، لیکن اُن کا حلیہ ……! توبہ، ماحول میں گھٹن بڑھ رہی تھی۔ رفتہ رفتہ فاطمہ بھی ان کے رنگ میں رنگ گئی اور برقعے کو پیاری ہوگئی۔ بی۔اے کے امتحانات میں فرسٹ ڈویژن اور کالج میں فرسٹ پوزیشن کے باوجود آگے پڑھنے سے انکار کردیا۔ اماں ابا کے لاکھ سمجھانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اللہ کے دین کی کارکن بن گئی۔ اماں ابا اسے مزید گھر بٹھانا مناسب نہ سمجھا اور والدہ کے دور پار کے رشتے داروں کے ہاں رشتہ طے پاگیا۔
زرین کا خیال تھا کہ الٹرا ماڈرن فرحان بہت جلد فاطمہ کا دماغ درست کردیں گے۔ اسے وہ دن بخوبی یاد تھا جب رشتہ طے ہونے کے بعد فاطمہ کچھ متذبذب تھی۔ اماں نے تشویش محسوس کرتے ہوئے فوراً فرحان کو بلالیا اور فاطمہ کے حوالے سے آگاہ کیا کہ وہ ایک الگ ماحول کو قبول کرچکی ہے، کہیں فرحان کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟
فرحان جو ہر طرح سے فاطمہ کو خوش رکھنے کا وعدہ اور یقین دہانی کراچکے تھے، بار بار پوچھے جانے پر تلملا کر بولے:
’’خالہ جان آپ کی بیٹی خوش رہے گی، ان شاء اللہ! اب میں ضمانت کے طور پر کیا اسلام کا سبز جھنڈا گھر پر لگادوں؟‘‘
سیدھے سادے، لیکن مضبوط اور کھرے لہجے میں ادا کیے گئے الفاظ نے ماں کو سر تا پا اطمینان سے بھر دیا۔
اُدھر فاطمہ جو پہلے یورپ پلٹ فرحان کے رشتے سے کچھ خائف سے رہتی تھی، اللہ پر بھروسہ کرکے اجنبی راستوں پر اِک اَن دیکھے، اَن جانے محرم کی معیت میں نئے سفر پر چل نکلی۔ فرحان دیکھنے والوں کو پہلی نظر میں بظاہر ماڈرن لگتے، لیکن فاطمہ نے محسوس کیا کہ یورپ میں رہنے کے باوجود ماحول سے مرعوبیت اِس بندے میں خردبین سے ڈھونڈنے کے باوجود بھی نہیں مل سکی۔
’’میں سوچتا تھا کہ بیگم آتے ہی بذریعہ ڈنڈہ نماز، روزے کی پابندی کا حکم صادر فرمائیں گی، لیکن آپ خود نماز پڑھتی ہیں، مجھے کیوں نہیں کہتیں؟‘‘
ایک دن فرحان ہنستے ہوئے تعجب سے بولا تو فاطمہ مسکراکر رہ گئی۔
اب وہ انھیں کیا بتاتی کہ اللہ سے ہر وقت اٹھتے بیٹھتے، فرض نفل نمازوں میں وہ انہی کے لیے تو رویا کرتی ہے۔
آہستہ آہستہ فرحان بغیر کہے ایک سے دو اور پھر پانچ وقت اللہ کے حضور حاضری دینے والے بن گئے۔ اُدھر باقی گھر والوں کا آزاد ماحول فاطمہ کے لیے سوہانِ روح تھا۔ گرمیوں میں بڑی سی چادر اوڑھے وہ گھر کے کاموں میں جتی رہتی، لیکن اہل خانہ کو یہ ’’بڑی سی چادر ‘‘بھی چار دیواری کے اندر، آزادانہ افکار اور جدید طرز زندگی کو چاروں شانے چت گرانے کے درپے نظر آتی، جو بہر حال انھیں قبول نہ تھا۔
’’دیکھو فرحان بھائی! سارا دن گھر میں دادیوں کے حلیے میں پھرتی ہیں۔ اب گھر کے ملازمین سے کیا پردہ؟ آج صفی ماموں آئے تو چادر سے چہرہ بھی ڈھانپ رکھا تھا۔یہ کیا تماشہ ہے؟ اتنی محبت سے بری کے سوٹ سلوائے، زیور لیا، سب بے کار۔ بھابھی کو شوخ کپڑوں میں دیکھے بغیر لگتا ہے، میں قبر میں اتر جاؤں گی۔ امی! آپ کچھ کہتی کیوں نہیں؟‘‘
’’تم نے جو کہہ دیا وہی کافی ہے۔‘‘
امی نے کہا اور جواب طلب نظروں سے فرحان کی جانب دیکھا۔
وہ نظریں جھکاکر گویا ہوئے:
’جی امی! میں بات کرتا ہوں۔‘‘
شادی بالکل ابتدائی دنوں میں گھر والوں کا ان کی دلہن کے حوالے سے شکوہ ان کے لیے بے حد پریشان کن تھا۔ اب اگر دوسری طرف بھی جواب شکوہ شروع ہوگیا تو کیا وہی روایتی ساس بہو کا کھیل شروع ہونے کو ہے……؟
’’فاطمہ! آج امی اور مہوش باجی کے حوالے سے کچھ ناراض تھیں۔ دیکھیں! میں نے آدھی سے زیادہ زندگی باہر گزاری ہے۔ اس لیے میرے لیے گھر اور رشتوں کی اہمیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا اور آپ نے گھر والوں کو پریشان کردیا ہے۔‘‘
سفر کے آغاز میں ہی ہم سفر کی ناراضی فاطمہ کو بے قرار کرنے کے لیے کافی تھی۔
یفقھوا قولی اور الودود کا غیر محسوس طریقے سے زیر لب ورد کرتے ہوئے وہ نظریں جھکاکر بولی:
’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن آپ کے اوپر بھی ایک احکم الحاکمین ہے، بس اس کی نافرمانی سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ گھر میں موجود ملازم یا کوئی بھی مرد مجھے اس طرح دیکھے جو صرف آپ کا حق ہے۔‘‘
فاطمہ کو چند ہی دنوں میں بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ فرحان کے اندر رب نے مردانہ غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، جو اس کے لیے آگے آنے والے مشکل لمحات میں مضبوط سائبان کا کام دے گی اور واقعی یہی ہوا۔ فرحان نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔ ساری ناراضگی اور دبا دبا غصہ نہ صرف ایک لمحے میں ختم ہوگیا، بلکہ اس کے بالمقابل غیرت خم ٹھونک کر کھڑی ہوگئی۔
اسے دیکھتے ہوئے مضبوط لہجے میں بولے:
’’ٹھیک ہے، میں امی اور باجی سے بات کرلوں گا۔ آپ بے فکر رہیے۔‘‘
گھر والوں نے جب دیکھا کہ فرحان کسی طور بیوی کو قابو نہیں کررہا، اسے چادر اور چاردیواری سے آزاد کرکے آزاد خیال اور لبرل بننے پر مجبور نہیں کررہا تو دونوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
کچھ عرصے بعد فاطمہ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی، لیکن اللہ کو منظور نہ تھا۔ پیدائش کے فوراً بعد ہی اللہ نے وہ امانت واپس لے لی۔ فاطمہ کا صبر اور خاموشی سب کو حیران کرگئی۔
اتفاق سے اگلے کچھ دنوں میں ہی فاطمہ کی بڑی بہن زرین کے ہاں بھی ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی، لیکن پیدائش کے بعد کچھ طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے زرین کی طبیعت کافی خراب ہوگئی۔ بڑوں کے مشورے میں طے پایا کہ جب تک زرین صحت یاب نہیں ہوجاتی، ثنا فاطمہ کے پاس رہے گی۔ چھ ماہ ثنا اپنی خالہ اور رضاعی والدہ کے پاس رہی۔ فاطمہ کا دکھ جو کہ اپنی بچی کی وجہ سے ہرا تھا، اللہ نے چھے ماہ تک اس کا متبادل اس کی جھولی میں ڈال کر اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ کچھ ہی عرصے بعد فرحان کو اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں انگلینڈ جانا پڑگیا۔ وہ اور فاطمہ انگلینڈ چلے گئے۔
سب کو یقین تھا کہ فاطمہ کا پردہ اب چند دنوں کا مہمان ہوگا اور واپسی پر انھیں ’’اچھی خبر‘‘سننے دیکھنے کو ملے گی۔مگر وہاں تو بازی بالکل ہی الٹ گئی۔ فاطمہ کے وہاں جاتے ہی اس پاس کے دینی بہنوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہر روز کہیں نہ کہیں اللہ کے دین کی بات سننا، پھر آکر فرحان کو سنانا۔ آہستہ آہستہ دونوں کو محسوس ہوا کہ مٹھاس اور سکون صرف رب کو ماننے میں ہی نہیں بلکہ رب کی ماننے سے ہی ممکن ہے۔ رب کی رضا اور جنت جو اصل ہدف ہے۔ اجتماعیت کے بغیر ان اہداف کو حاصل کرنے کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔ نو مسلم خواتین کو دیکھ کر فاطمہ کو اندازہ ہوا کہ رب سے لاعلم رہنا ایسے ہے، جیسے بھیڑ میں بچہ ماں سے بچھڑ جائے۔ آنے والے برسوں میں اوپر تلے تین بیٹوں نے فاطمہ اور فرحان کے گھر کو مکمل کردیا۔
تعلیم مکمل ہوتے ہی دونوں میاں بیوی واپس دوڑے چلے آئے۔ دارالکفر میں بچوں کی تربیت اور نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنا انھیں ناممکن لگتا تھا۔
ائیر پورٹ پر دونوں کا خاندان انھیں لینے ریلی کی صورت میں آیا تھا۔ اتنا رش تو حاجیوں کے استقبال کے لیے بھی نہیں ہوتا تھا، جتنا ان دونوں کی وصولی پر تھا۔ لگ رہا تھا کہ تارے زمین پر آرہے ہیں، لیکن یہ کیا؟ تاروں کے ائیر پورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی سب کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔
کئی خفیف القلب خواتین کو اہل خانہ نے سنبھالا دیا۔ ٹخنوں سے اونچی جینز یا پینٹ نہیں بلکہ شلوار ، ڈھیلی، ڈھالی قمیص ، چہرے پر سجی ڈاڑھی، پیچھے چہرہ چھپائے مکمل پردے میں تین بچے سنبھالتی فاطمہ……!
یہ کیا؟…… یہ لوگ انگلینڈ گئے تھے، یا چلہ لگانے ……؟
سب کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ (جاری……)
آہستہ آہستہ فرحان بغیر کہے ایک سے دو اور پھر پانچ وقت اللہ کے حضور حاضری دینے والے بن گئے۔ اُدھر باقی گھر والوں کا آزاد ماحول فاطمہ کے لیے سوہانِ روح تھا۔ گرمیوں میں بڑی سی چادر اوڑھے وہ گھر کے کاموں میں جتی رہتی، لیکن اہل خانہ کو یہ ’’بڑی سی چادر ‘‘بھی چار دیواری کے اندر، آزادانہ افکار اور جدید طرز زندگی کو چاروں شانے چت گرانے کے درپے نظر آتی، جو بہر حال انھیں قبول نہ تھا۔

2 Comments

  1. Lubna khanam

    Bht achcha
    Agli qist ka intezar rahega

    Reply
  2. Bazegha Mirza

    ماشاءاللہ بہت خوب
    اگلی قسط کے انتظارمیں۔۔۔۔۔

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر