رحمدل شہزادی

آج سے تقریباً ایک ہزار برس پہلے خراسان میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ آج کل خراسان ملک ایران کا ایک صوبہ ہے۔ خراسان کا تمام علاقہ بہت خوبصورت ہے۔ سرسبز و شاداب جنگل جو ہمیشہ پھولوں اور پھلوں سے لدے رہتے ہیں۔ جنگلات کے درمیان کہیں کہیں ہرے بھرے گھاس کے میدان ہیں۔ ایسا لگتا ہے کسی نے بڑے سے باغ میں سبز رنگ کا غالیچہ بچھا دیا ہو ۔
خوبصورت زمین کی طرح بادشاہ کا دل بھی بہت خوبصورت تھا۔ بادشاہ کو ایک ہی اولاد تھی، شہزادی علینہ جو بہت خوبصورت تھی۔ نیلی نیلی آنکھیں اور بھورے رنگ کے گھنگریالے بال اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے تھے۔ شہزادی علینہ کو سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر اپنی سہیلیوں اور محافظوں کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے نکل جایا کرتی تھی۔
ایک مرتبہ وہ گھومتے پھرتے ایک گھنے جنگل میں پہنچ گئی۔ جنگل کے بیچوں بیچ اسے ایک بستی نظر آئی۔ بستی دیکھ کر علینہ کو بہت حیرت ہوئی۔ وہ سوچ میں پڑ گئی کہ اس گھنے جنگل میں انسانوں کی بستی کیوں کر ہوسکتی ہے۔ وہ اپنی سہیلیوں اور محافظوں کے ساتھ بستی میں داخل ہوگئی۔
انھیں بستی میں داخل ہوتے دیکھ بستی کے تمام مرد ،عورتیں اور بچے شہزادی اور محافظوں کے گرد جمع ہوگئے۔ ان کےچہرےخوفزدہ نظر آ رہے تھے۔ شاید انھوں نے محافظوں کو سپاہی سمجھ لیا تھا۔ بستی کے تمام بچے ننگ دھڑنگ تھے۔ عورتوں اور مردوں کے بدن پر بھی برائےنام کپڑے موجود تھے۔ بستی کے تمام گھر گھاس پھوس سے بنے ہوئے تھے۔ شہزادی کو ان کی غربت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔
شہزادی نے آگے بڑھ کر ایک عورت سے بات کی ’’ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں ایک شہزادی ہوں۔ جنگل کی سیر کرتے ہوئےاس طرف آ نکلی ہوں۔ کیا تمہارے پاس پہننے کے لیے مناسب کپڑے نہیں ہے۔‘‘عورت نے کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک بوڑھے نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا جو بستی کا سردار لگ رہا تھا، ’’بیٹی ہم سب بہت غریب ہیں۔ دن بھر جنگل سے جڑی بوٹیاں، شہد، گوند اور لکڑیاں جمع کرتے ہیں۔ قریبی شہر میں جاکر بیچتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء خرید لاتے ہیں، ہم چاہ کر بھی کپڑے نہیں خرید سکتے۔ ‘‘
بوڑھے کی باتیں سن کر شہزادی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے دو محافظوں کو حکم دیا۔ ’’جلدی سے محل جاؤ اور شاہی خزانے سے بستی کے تمام لوگوں کے لیے کپڑے لے کر آؤ۔‘‘محافظ فوراً روانہ ہوگئے۔ شہزادی اور اس کی سہیلیوں کے لیے ایک جھونپڑی خالی کردی گئی۔ شہزادی کی خدمت میں عورتوں نے تازہ شہد اور کچھ پھل پیش کیے، شہزادی نے خوش دلی سے لے لیا۔ دوسرے دن بادشاہ نے وزیراعظم کے ہاتھوں کپڑوں کے تھان اور دیگر بہت سی چیزیں بھی روانہ کیں۔ شہزادی نے اپنے ہاتھوں سے بستی کے لوگوں میں کپڑے تقسیم کیے۔ شہزادی نے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ ہر سال بستی کے لوگوں کو کپڑے لا کر دیں گی۔ لوگ بہت خوش ہوئے اور شہزادی کو ڈھیروں دعائیں دیں۔
شہزادی جب تک زندہ رہی بستی کے لوگوں کو کپڑے لاکر دیتی رہی۔ اس کی موت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ تب سے لےکر آج تک حکومت کی جانب سے بستی کے لوگوں کو کپڑے مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔
پیڑھی در پیڑھی شہزادی کی رحم دلی کی کہانی آگے بڑھتی رہی۔ بستی کے لوگ آج بھی شہزادی کو دعائیں دیتے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱