رمضان المبارک اور خواتین کی ذمہ داریاں

الحمدللہ ہم مضان المبارک میں داخل ہونے والے ہیں اس ماہ مبارک میں جو داخل ہوگیا وہ خوش قسمت ہے کیونکہ اسے کم سے کم عبادت میں زیادہ نیکیاں کمانے کا موقع ملتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ رمضان میں ایک نیکی کا اجر ستر گنا کر دیا جاتا ہے نفل کا ثواب فرض کے برابر اور روزے کا اجر تو بے شمار ہوتا ہے اس لئے اس رمضان کو اپنی زندگی کا آخری رمضان سمجھ کر خوب نیکیاں کمانی ہے۔
شعبان ہی سے ہم گھر کی صفائی رنگ و روغن خریداری سلائی کی صفائی وغیرہ کا کام کر لیتے ہیں تاکہ رمضان میں ہمارا وقت زیادہ تر عبادت میں گزرے مگر ایک اہم تیاری کرنا ہم بھول جاتے ہیں اور وہ کیا ہیں۔۔۔۔؟؟؟
ہمارے ہمارے دل سے تمام برائیاں ہمیں دور کرنی ہیں جیسے کینہ، بغض، نفرت،بدگمانی،چغلی،غیبت وغیرہ۔ تمام برائیوں کو دل سے باہر نکال کر جگہ نہیں بنائیں گے تب تک اچھائیاں ہمارے اندر پنپ نہیں سکتی۔
اس موسم یعنی موسم رمضان میں نیکیاں پھلتی پھولتی ہیں ۔ جس طرح بارش کے موسم میں پودے اگر بارش کے آنے سے پہلے زمین کی صفائی نہ کی اور ویسے ہی بیج بودی تو پودا نہیں نکلے گا۔ بالکل اسی طرح جب تک ہماری تمام برائیاں باہر نہ نکلیں تب تک ہم روزہ کی صفت تقوی کو پا نہیں سکتے۔
نبی کا ارشاد ہے, “جس کسی نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو تو اس کا کھانا اور پانی چھڑا دینے کی کی اللہ تعالی کو کوئی حاجت نہیں۔” (بخاری)
روزہ رکھ کر بھی ہمارے اندر تبدیلی یا انقلاب نہ آئے تو سمجھئے کہ روزے کا اصل مقصد ہم نے پایا ہی نہیں۔ تمام برائیوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کہ ہم چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے، روٹی بناتے وقت،سبزی کاٹتے وقت، باہر جاتے وقت، غرضیکہ تمام کاموں کے وقت تسبیحات کا ورد کرتے رہیں۔ جیسے استغفراللہ، الحمد لله، سبحان اللہ، اللہ اکبر، لاحول ولا قوۃ الا باللہ، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم، درودشریف،دعائیں۔
اگر اس طرح ہم اپنی زبان سے ذکر الہی کرتے رہتے ہیں تو گناہوں سے بھی بچیں گے اور نیکیوں میں اضافہ ہوگا۔ افطار میں بھی ہم وہ ڈش بنائیں جو آسان ہو۔ کم وقت لے اور سب کی پسندیدہ ہوں۔ تاکہ عبادت زیادہ ہوسکے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ ہے، “جس نے رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کروایا تو یہ اسکے گناہوں کی بخشش ہونگی۔ اسکی گردن کو آگ سے چھڑانے کا ذریعہ ہوگا۔ اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔ بغیر اسکے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔”
بڑی افطار پارٹی نہ دے کر کبھی کبھار کسی غریب رشتہ دار، پڑوسی کے یہاں افطاری بھجوادیں۔ اگر پکوان بنانا ممکن نہ ہو تو خشک سامان جیسے شکر، پتی، بیسن،تیل،کھجور،چاول،آٹا بھجوادیں۔ کیونکہ بڑی افطار پارٹی کے بعد جو تھکان ہوتی ہے وہ ہماری عبادتوں میں کمی لاتی ہے۔
افطار کا سامان  کسی پیپر بیگ یا پھر یوز اینڈ تھرو والے ڈبوں میں پہنچائیں تاکہ کسی کو جواباً برتن میں افطار بھجوانے کے لئے پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ ہم اپنی نیکی کا اجر صرف اور صرف اللہ وحدہ سے چاہیں۔
رمضان المبارک میں کوشش کریں کہ ہر نماز اول وقت میں ادا کریں۔ ہر وقت با وضو رہیں۔ زکوٰۃ مال کو پاک کرتی اور بڑھاتی ہے اگر زکوٰۃ پوری ادا نہ ہوتو یہ ہمارے پاک مال کو بھی تباہ و برباد کر دیتی ہے۔
زکوۃ صاحب نصاب پر فرض ہے اسلئے وہ تو دنیا ہی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ صدقات، خیرات، فی سبیل اللہ کے ذریعے نیکیوں میں اضافہ کرتاہے۔
ان دنوں میں بھی تسبیح جاری رکھیں اور گھر کے کاموں میں روزے داروں کی خوب مدد کریں۔ یہ نیکیاں اضافی ہوگی جب ہم قضاء روزے رکھیں گے تو وہ آج بھی ہمیں پورا پورا ملے گا۔ رمضان میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اسلئے ہر وقت دعائیں مانگتے رہیں۔ خوب گڑ گڑ گڑاکر،اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے توبہ کرلیں۔ آپ دیکھیں گے کہ سال بھر میں آپ کی بہت ساری دعائیں قبول ہو رہی ہیں رمضان کے لئے ایک ڈائری ترتیب دیں جس میں روز کرنے کے کام ان عبادات نوٹ کر لیں۔ پھر روز اسے چیک کرتے رہیں تاکہ کوئی عبادت کرنے سے آپ محروم نہ رہ جائے۔
روز سوتے وقت اپنا محاسبہ کریں کہ آج مجھ سے کیا گناہ ہو۔۔؟؟
ہمارا اگلا دن گزرے دن سے اچھا ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ اللہ تعالی ہمارا حساب لے ہم خود اپنا محاسبہ کرکے خود کی اصلاح کر لیں۔
رمضان کے آخری عشرے میں پانچ طاق راتوں میں خوب عبادت کریں۔ چاند رات یعنی لیلۃ الجائزہ میں بھی خوب گڑ گڑاکر دعائیں کیجئے کیونکہ یہ وقت مزدور کو اس کی مزدوری دینے کا ہوتا ہے اللہ تعالی مہینہ بھر کے روزوں کی جزا دیتے ہیں۔ جو معذور ہیں ان کی طرف سے فدیہ بھی جلد ادا کردیں اسی طرح صدقۂ فطر بھی عید سے پہلے پہلے ادا کر دیں تاکہ غریب-مسکین بھی عید کی خوشیاں منا سکیں۔اللہ تعالی ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں،رحمتوں اور فضیلتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور آخرت میں ہمیں باب الریان سے جنت میں داخلہ ملے۔ (آمین)

روزہ رکھ کر بھی ہمارے اندر تبدیلی یا انقلاب نہ آئے تو سمجھئے کہ روزے کا اصل مقصد ہم نے پایا ہی نہیں۔ فریضہ ہے۔
اپریل ۲۰۲۱