رمضان اور ذیابیطس
احتیاط اور تدابیر
الحمد للہ ماہ رمضان کی آمد ہے۔ ساتھ ہی مختلف امراض میں مبتلا مریض روزے رکھنے کے تعلق سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔ خصوصأ شوگر (ذیابطیس) کے مریضوں کو اس سلسلے میں کافی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں تقریبأ چارسو تیرسٹھ ملین افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں۔ ذیابیطس ہمارے جسم کے ایک عضو لبلبہ یا پینکریاز کے صحیح طور پر کام نہ کرنے کی صورت میں ہونے والی بیماری ہے۔ پینکریاز کا کام انسولین نامی ہارمون خارج کرنا ہے۔ اس مرض میں انسولین کا اخراج نہیں ہوگا یا تو وہ صحیح طور پر کام نہیں کرےگا۔ انسولین ہماری غذا میں موجود گلوکوز کو جسم کے خلیات میں داخل کرکے جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں۔ جسم میں انسولین نہ بننے یا صحیح طور پر کام نہ کرنے کی صورت میں خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ذیابیطس دو قسم کا ہوتا ہے۔ ٹائپ ون۔۔ اس میں انسولین بالکل نہیں بنتا، ایسے مریضوں کو باہر سے انسولین دیا جاتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں جسم انسولین تو بنتا ہے مگر یا تو وہ وافر مقدار میں نہیں پایا جاتا یا پھر اسکی کارکردگی صحیح نہیں رہتی۔ ابتدائی مرحلہ میں غذا میں تبدیلی، ورزش اور گولیوں کی مدد سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ آئیے دیکھیں! شوگر کے مریضوں کو خصوصی طور پر رمضان میں روزوں کے دوران کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ بحفاظت روزے رکھ سکیں۔ روزہ رکھنا یا نہ رکھنا یہ تو مریض کے اپنے فیصلے پر منحصر ہے لیکن روزے رکھنا ان افراد کے لئے مناسب نہیں ہے جو بوڑھے یا کمزور ہوں، یا کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوں، جن کے بلڈ شوگر لیول یکساں نہیں رہتے یعنی کبھی کم یا کبھی بہت زیادہ اور اسکے لئے انھیں بار بار ہاسپٹل میں شریک ہونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یا ایسی خواتین کے لئے بھی روزے رکھنا مناسب نہیں ہے جو حمل سے ہوں یا بچوں کو دودھ پلارہی ہوں۔ ذیابطیس کے ہر مریض کو روزے رکھنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔اگر شوگر کے مریض انسولین یا گولیاں استعمال کرتے ہیں تو رمضان سے قبل جتنی جلدی ممکن ہوسکے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرکے دوائیوں کی خوراک اور ان کے اوقات میں مناسب تبدیلیاں کرلیں، کیونکہ روزے کی حالت میں سحری کے تقریبأٌ آٹھ گھنٹے بعد ہمارا جسم بلڈ گلوکوز کی سطح کو عام رکھنے کے لئے توانائی کے ذخیرے کو استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ شوگر کے ایسے مریض جو انسولین یا گولیاں استعمال کرتے ہیں ان میں ہائپوگلاسیمیا(خون میں گلوکوز کی کمی) اور ڈی ہائیڈریشن(جسم میں پانی کی کمی) کے امکانات رہتے ہیں۔ ہائپوگلاسیمیا یعنی خون میں گلوکوز کی کمی کی وجہ سے چکر، متلی، تھرتھراہٹ اور گھبراہٹ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں تو ہائپر گلاسیمیا یعنی خون میں گلوکوز کی زیادتی کی وجہ سے تھکاوٹ، زبان کا سوکھنا، پیاس محسوس ہونا اور بار بار پیشاب آنا یہ علامتیں نظر آتی ہیں۔ یہ سوال بھی اکثر پیدا ہوتا ہے کہ روزے کی حالت میں بلڈ گلوکوز ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جی ہاں، روزے کی حالت میں بلڈ گلوکوز ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے، بلکہ کمزوری، بدحواسی، بےچینی تھرتھراہٹ محسوس ہونے کی صورت میں توبلڈ گلوکوز ٹیسٹ کرنا لازمی ہے۔ اور اگر شوگر لیول ساٹھ ملی گرام سے کم ہوتو فوری روزہ توڑ دینا چاہیے۔ اور اگر گلوکوز کی سطح تین سو ملی گرام سے زیادہ ہورہی ہو تو ڈٓاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ بلڈ گلوکوزکی سطح زیادہ رہنے کی صورت میں ڈی ہائیڈریشن(جسم میں پانی کی کمی) کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ سحری اور افطار کے وقت زیادہ نشاستہ دار یا کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس اور آہستہ جذب ہونے والی غذائیں اور پھل وغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے۔ شوگر کے مریضوں کو تو سحری کرنا لازمی ہے۔ سحری تاخیر سے کریں۔ مختلف اناج کو ملاکر بنائی گئ روٹیاں، دالیں، پھل اور سبزیاں وغیرہ کا استعمال کثرت سے کریں۔ سحری کے وقت اور افطار کے بعد کافی مقدار میں پانی پئیں۔ افطار میں ایک یا دو سے زائد کھجوریں نہ کھائیں۔ شوگر اور چربی والی غذائیں، کیفین یعنی چائے ،کافی اور شوگر کے مشروبات سے پرہیز کریں۔ تراویح کے دوران مسائل سے بچنے کے لئے افطار میں نشاستہ دار خوراک کھائیں، کافی مقدار میں پانی پئیں۔ تراویح میں پانی کی بوتل اور گلوکوز ٹریٹمنٹ اپنے ساتھ رکھیں۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوکرانشاءاللہ روزے کی حالت میں ذیابطیس کے مضر اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔
شوگر کے مریضوں کو تو سحری کرنا لازمی ہے۔ سحری تاخیر سے کریں۔ مختلف اناج کو ملاکر بنائی گئ روٹی، دالیں، پھل اور سبزیاں وغیرہ کا استعمال کثرت سے کریں۔ سحری کے وقت اور افطار کے بعد کافی مقدار میں پانی پئیں۔
اپریل ۲۰۲۱