زکوٰۃ اسلام کا چوتھا ستون
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے ہر گوشے پر محیط ہے۔چاہے معاشرت ہو ، معاملات ہو، سماجیات ہو، سیاست ہو، انفرادی ہو ، اجتماعی ہو، غرض انسانی زندگی کے تمام مسائل کا حل اسلام میں موجود ہے۔زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ جن پر اسلام کی بنیاد استوار کی گئی ہے۔ زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں تقریباً بتیس مقامات پر نماز جیسی اہم عبادت کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے۔ تو وہیں اس کے نہ ادا کرنے والوں کوسخت عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اس کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ کے وصال کے بعد جب ارتداد کی ہوا چلی تو مختلف قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تب سیدنا ابوبکر صدیق نے ان لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ زکوٰۃ کے معنی طہارت اور پاکی کے ہیں۔ شریعت میں اسکا مفہوم اپنے مال کا چالیسواں حصہ الله کی راہ میں دینا ہے، جو غریب مساکین کا حق ہے۔ اللہ رب العالمین کی ذات بڑی حکمت والی ہے کہ جس نے وراثت کی تقسیم بڑے احسن طریقے سے کی ہے ۔بالکل اسی طرح مالدار پر زکوٰۃ فرض کرکے غربا و مساکین کو بھوکے مرنے سے بچالیا ہے۔ زکوٰۃ ٢ ہجری رمضان المبارک کے روزوں سے پہلے فرض ہوئی۔ زکوٰۃ کی آیت کا نزول ہوتے ہی صحابہ اکرام فکر مند ہی نہیں مستعد ہوگئے کہ جن کے پاس مال نہ تھا۔ انھوں نے محنت مزدوری کرکے صدقہ و خیرات دینا شروع کردیا۔ غزوۂ تبوک کے وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انفاق کی بہترین مثال قائم کی۔مالدار شخص کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے سے اس کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ زکوۃ دینے سے اس کا مال پاک ہوتا ہے۔ اور اس میں اضافہ برکت خود اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ آخرت کا اجر اس سے بڑھ کر ہے۔ سبحان اللہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ “جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے .تو اے نبی تم ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو جس دن سونا چاندی دوزخ کی آگ میں گرم کیا جاےگا۔ پھر اس سے ان بدنصیبوں کی پیشانی اور انکے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی اور ان سے کہا جاے گا کہ یہی وہ سونا چاندی ہے جسکو تم نے اپنے لئے جمع کر رکھا تھا (اس کی زکوٰۃ نہیں نکالی تھی) بس تم اس کا مزہ چکھو”۔( سورہ توبہ) واللہ کیسی سخت وعید ہے۔ دل کانپ جاتا ہے۔ہر مالدار اپنے مال کی صحیح طریقے سے یعنی پورا حساب و کتاب کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرے تو معاشرے سے غربت کا خاتمہ یقینی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارےمالداروں کا اکثر المیہ رہاہے کہ حساب کے ساتھ زکوٰۃ نہیں نکالتے اسکی وجہ سے غربت کا خاتمہ ہو نہیں پاتا۔ زکوٰۃ کا اجتماعی نظم یعنی مرکزی بیت المال میں زکوٰۃ جمع ہو اور پھر ضرورت مندوں میں تقسیم ہو مزید زکوٰۃ پوری پوری نکلنی چاہیئے کہ زکوٰۃ کا کچھ حصہ یا آدھا حصہ صاحب نصاب پر باقی رہ جائےاور اسکا مال اس سے تباہ ہو جائےاور غربت کا خاتمہ بھی نہ ہوپائے۔ اللہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ تو ہوا مختصراً زکوٰۃ نہ ادا کرنے والوں کا تذکرہ۔زکوٰۃ اداکرنے والوں کیلئے اللہ رب العالمین نے متعدد مقامات پر خوشخبری کچھ اس طرح سنائی ہے۔” نماز پڑھنے والے، زکوٰۃ دینے والے،اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے یہ لوگ ہیں جن کو ہم اچھا بدلہ دیں گے۔” (النساء) دوسری جگہ ارشاد فرمایا،”تم نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو میرے سب پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور انکی مدد کرو۔اللہ کو قرض حسنہ دو تو میں تمہارے ساتھ ہوں اور بے شک میں تمہارے گناہ دور کروں گا اور ضرور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرونگا،جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی”۔(المائدہ)پھر ایک جگہ ارشاد فرمایا “نیک کامیاب لوگ جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔”مزید ارشاد ہوتاہے “نماز ادا کرنے والے، زکوٰۃ دینے والے،اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ مہربانی کرے گا” ۔(نور) اللہ کا شکر و احسان ہے کہ اس کرونا جیسی وباء میں سبھی مسلمانوں نے خوب دل کھول کر بلا تفریق مذہب و ملت اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ اللہ قبول فرماے۔آمین۔ ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر صبح دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ سخی کو اسکا بدلہ عنایت فرما اور دوسرا یہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کو ہلاکت نصیب فرما۔”مشکوہ المصابیح 164بحوالہ۔(بخاری و مسلم)بحوالہ کتاب العشر والزکوٰۃ۔ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا” جس کو اللہ مال دے اور وہ اسکی زکوٰۃ ادانہ کرے تو اسکا مال قیامت کے دن اس کے لئے زہریلے سانپ کی شکل اختیار کرے گا اور اسکے دونوں جبڑوں کو اپنے منہ میں لے گا اورکہے گا میں تیر امال ہوں۔ “الصحیح البخاری باب اثم منع الز کوتہ۔188اللہ امت کو زکوٰۃ کی ادائیگی کرنے والا بنا ۔آمین۔عہد کریں کہ زکوٰۃ خود بھی ادا کریں گے اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیں گے ۔انشاء اللہ
مالدارشخص کو یہ جاننےکی ضرورت ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنےسے اس کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ زکوۃ دینے سے اس کا مال پاک ہوتا ہے۔ اور اس میں اضافہ برکت خود اللہ کی طرف
سے ہوتی ہے۔
اپریل ۲۰۲۱