سعدیہ ممتاز

2 مارچ 2021 کو الیکٹرونک دنیا میں افراتفری مچ گئ۔ تمام ای رسائل، جریدے اور اخبارات دانتوں تلے انگلیاں دبائے حیران نظروں سے سارا منظر دیکھ رہے تھے۔
تمام محققین، مصنفین، شعراء، جشن منا رہے تھے اور گنگنارہے تھے ’’ ہم کتنے ہی برس سے اس دن کے منتظر تھے۔‘‘
ہمیں جسکا انتظار تھا وہ ہستی آگئی۔
اچانک ای بکس کے گروہ سے کسی نے ہمت کرکے پوچھا: ہمیں بھی اس جشن میں شریک ہونا ہے۔ہمیں بتائیں وہ کون ہے؟ تو ای دنیا نے جواب میں کہا:
آج اس ہستی کا جنم ہوا جو ہم سب کا استاد ہے ،ہم سب کی شان ہے۔ جس کا نام ہے ہادیہ ای میگزین۔
بیشک ہادیہ کے تمام کالم نگاروں نے خواتین کی زندگی کے ہر شعبہ میں مؤثر اصلاح کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔
ایڈیٹر صاحبہ! اپریل کے شمارے میں تمام کالمز بے حد پسند آئے خاص طور سے زمرہ منتخب مضامین میں بشریٰ ناہید صاحبہ کا مضمون رمضان اور سوشل میڈیا پڑھ کر بے حد خوشی ہوئی انہوں نے جو مفید تجاویز سے دی ہیں اگر ان پر عمل کریں گے تو ہم سوشل میڈیا پر بھی رمضان المبارک کی تمام بابرکت ساعتوں سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
فوز و فلاح کا کالم مجھے بے حد پسند آیا کیونکہ ہمیں اس کالم سے مختصر وقت میں کئ عظیم اور متاثر کن شخصیات کو جاننے کا
موقع ملتا ہے۔
زمرہ سخن سراپا میں ثمر آرزو صاحبہ کی نظم وطن پڑھ کر یہ محسوس ہوا کہ یہ ہم سب کے دل کی آواز ہے۔
بجھادو آگ نفرت کی وطن اچھا نہیں لگتا
لہو کی سرخیوں سے یہ چمن اچھا نہیں لگتا
زمرہ عکسِ ہادیہ میں بریرہ ایمن صاحبہ کا مضمون مظلومین کے گھروں کی کہانی پڑھ کر یقین مانیں میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ذہن سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ یہ کیسا معاشرہ ہے جو انسانیت سے عاری ہے۔اس ملک کے زندانوں میں نہ جانے اور کتنےقیدی اس جرم کی سزا کاٹ رہے جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔
ادبی فن پارے میں مریم جمیلہ صاحبہ کا مضمون ’’تربیت ایسے بھی کی جاتی ہے‘‘پڑھ کر اچھا لگا۔
شہیمہ صاحبہ کا مضمون جمہوریت فاشزم کے نرغے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔اور میں سلمیٰ نسرین صاحبہ کو اکیسویں صدی میں 2021 کے ماہ رمضان کی پیشگی مبارکباد پیش کرتی ہوں ہاہاہا۔۔
آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ خواتین کی آواز ہادیہ ای میگزین کو عالم اسلام کے لئے ایک انقلابی آواز بنائے ۔
آمین۔

مئی ۲۰۲۱