سفرنامہ آذر با یئجان (کوہِ قاف)
فردوسِ بریں

ایسی بلندی پر ایسی خوبصورتی بالکل کسی کوہ قاف کی چوٹی پر ہی ہوسکتی تھی اور اس بلندی اور خوبصورتی کوکم از کم میرا قلم گرفت میں نہیں لا سکتا۔ میں کون سی ترکی کی ’اولیاءچلیبی‘ (مشہور ترین ترک سفرنامہ نگار) جنھوں نے خواب میں حضور نبی اکرمؐ کو دیکھا تو کہنا چاہاکہ ’’شفاعت یا رسول اللہ‘‘، لیکن زبان پھسلی اور منہ سے نکلا ’’سیاحت یا رسول اللہ‘‘، سو وہ سیاحت کرتے رہے۔ تمام عمر اور تقریبا دنیا کا ہر کونہ چھان مارا۔ یا پھر پاکستان کی ’مستنصر حسین تارڑ ‘ (اردو کے مقبول سفرنامہ نگار) جسے فطرت کے بیان کا ہنر آتا ہے۔ مجھے تو غصہ ہی آتا ہے اس بیاں سے باہر بے بسی پر۔
نیچے اترے تو شربت فروش کے دام میں پھنسے۔ اس نے چند مقامی پھولوں ’مالینا‘ اور ’یمیشین‘ سے بنے مربے اور اخروٹ والے شہد خریدنے پر ہمیں مجبور کیا۔ جب زیادہ پیسے مانگے تو میں نے بھی رعایت مانگی، اس نے بطور ہدیہ ایک بوتل گلاب کا رس جو چائے کو ذائقہ بخشتا ہے وہ دیا۔اب ہم نوخور نامی گاؤں میں داخل ہوئے یہ دو تین چیزوں کے لئے مشہور ہے۔ ایک تو یہاں کے قریبی علاقے ’ویندام‘ سے بہادر سپوت مرحوم جنرل جناب پولاد ہاشموف کا خاندان تعلق رکھتا ہے۔ جن کو جولائی دوہزار بیس میں آرمینیا نے جاسوسی کرکے شہید کر دیا تھا۔جو اتنا بڑا قومی نقصان تھا آذربائیجان کے لئے جسے عوام نے سہنا گوارا نہیں کیا اور پھر حالات اتنے کشیدہ ہوئے کہ باقاعدہ خونریز جنگ ہوئی اور بڑی تباہی ہوئی، لیکن آذربائیجان نے فتح حاصل کی۔ آذری فوج کے جوانوں نے خون کے بدلے اپنے مقبوضہ علاقے آزاد کروا کر مال غنیمت بھی سمیٹا۔ اس مشکل وقت میں آزربائیجان کو پاکستان اور ترکی کی لفظی اور سفارتی حمایت بھی حاصل رہی۔

مال غنیمت کی نمائش کے لئے باقاعدہ قومی سطح کی پر شکوہ تقریب ہوئی جس میں مہمان خصوصی ترک صدر جناب رجب طیب ایردوان اور ان کی بیگم خاتون اول امینہ ایردوان تھے۔ میں نے اس نمائش کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا تھا مگر وہ ولولہ جس کے لئے کوئی ریکارڈنگ کا آلہ ابھی دستیاب نہیں ہے۔دن کی طرح بات بھی پھیل گئی دیکھیں۔ تو جنرل پولاد اور ایک جھیل جسے نوخور جھیل کہا جاتا ہے اس کی وجہ سے یہ گاؤں مشہور ہے اور ایک ہوٹل بھی جس کا نا ’ شینو پیلس‘ ہے۔ یہاں خواص ٹھہرتے ہیں اور اپنی تعطیلات گزارتے ہیں ۔ یہ بہت ہی مہنگا ہوٹل ہے لہذا جز صبر دیگر چارہ نیست۔
خیر ہم شام ڈھلے نوخور جھیل دیکھنے پہنچے ، وہاں چند بابے اور بوڑھے گھوڑے موجود تھے۔ ایک خاتون کو دیکھ کر وہ گھوڑا ایسا بدکا کہ پھر اس خاتون کو بھاگنا پڑا لیکن جب ہم قریب گئے تو بالکل مؤدب ہو کر کھڑا ہوگیا۔ مجھے اس سفر سے پیشتر اور اس سفر سے لے کر اب تک یہی احساس مایوس اور خوش بھی کئے جا رہا ہے کہ آخر کاہے کو جانور مجھے پیار کرتے ہیں جب کہ انسان بیزار رہتے ہیں۔ یہ کیسا راز ہے؟ لیکن میں اس سے خوش ہوں۔ خیر چند مقامی سوغاتیں خریدنے کے بعد جھیل دیکھنے میں مگن ہوئے۔ جھیل اس قدر پھیلی ہوئی تھی جس قدر میری حیرانی۔ اس حیرانی کے حصار سے میں تب نکلی جب تین عدد مرغابیوں نے اپنے پنجوں کے بل پانی میں تیراکی کرکے میری توجہ حاصل کی۔ مجھے ان کو اس طرح دیکھنا بہت ہی بھلا نظارہ معلوم ہوا۔ پھر میرا بھی تیراکی کا دل کیا لیکن یہ موت کے مترادف تھا اتنی ٹھنڈ اور اتنی گہری جھیل مجھےتو تابوت میں سلا دیتی۔ سو کشتی والے بابے سے اس سفر کے دام طے کئے اس نے دس منٹ کے حساب سے دس منات لئے۔اور ہم جھیل کا ایک کنارہ دیکھ آئے۔ اب مرغابیوں کی برابری کرکے بڑا سکون ملا۔
شام ڈھل چکی تھی۔ پیٹ بھی خالی ہونے کا اشارہ دے رہا تھا۔ ایک جھیل کے دو کنارے غربت و امارت کے گواہ تھے۔ ہم نے غریب خانے پر کھانا تناول کرنا پسند کیا۔ سو ہم ایک جھونپڑی نما ہٹ میں بھاگے اور کھانا منگوایا۔
واپس ہوٹل پہنچے ۔ رات کو شروع ہونے والی برف باری اگلے دن کی شام تک بھی تھمنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی ۔ نتیجتا صبح تک اس قدر برف پڑی کہ راستے ہی مسدود ہوگئے۔ اب ہم شہر کے اندر جا نہیں سکتے تھے سو اس ہوٹل میں ہی رہنا تھا۔ مجھے گرم پتھروں سے آنکھ کے بالائی حصے پر ٹکور کروانا تھا تاکہ اندر منجمد خون منتشر ہوجائے ۔ایک خاتون ملازمہ تھی جو بڑی مشاقی سے ٹکورکر کے میرے درد کا درمان ثابت ہو رہی تھی۔خیر یہ دن اندر ہی گزرا۔ اگلے دن شہر کے داخلی مقامات کی سیر طے تھی۔ کس قدر امارت کا مظہر کس قدر غریب شہر تھا’ گیبیلہ ‘ جہاں سارے امراء کی دولت ہر قدم پر بکھری پڑی تھی۔ یہ بڑے بڑے ولاز، بینگلوز، ہٹس، ہوٹل، ریستوران، اس قدر عیش و عشرت کا سامان۔ یہ جنت نہیں تو جنت کیا ہوگی بھلا!
اب یہ جنت برف سے ڈھکی پڑی تھی۔ ایک جانب کوئی دریا کسی نہر کہ مانند رواں تھا ، کہیں کہیں جم بھی چکا تھا۔ بچوں کے پارک ویران پڑے تھے۔ سیاح تھے ہی نہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد معاشی طور پر یہاں سرمایہ صرف کرنے والوں کودھکا لگا تھا۔ خیر اب زندگی رواں ہوچکی تھی لیکن شہر منجمد تھا۔ میرے لئے سب سے زیادہ خوبصورتی کا مظہر مقامی چیری کے درخت تھے جن کو ’زوعال‘ کہا جاتا ہے۔ جن کے پیلےپھول مجھے کوئی کہانی سناتے ہوئے لگتے ہیں۔ جیسے ابھی ابھی پریاں ان پر اپنے پر پھیلا کر گئی ہوں ۔ جیسے ان کے لباس سے چند ذر دانے ان پیڑوں پر پڑ گئے ہوں۔
خاموشی، سکوت اور محویت تھی ہر طرف۔ خوبصورتی تو اس قدر تھی کہ مجھے اپنے قدم ہی بد صورت لگ رہے تھے جو وہاں سکوت کو توڑ رہے تھے۔ لیکن میں اس سکوت کو نہ توڑتی تو یہ فردوس کا فسانہ میرے دماغ میں نہ گونجتا اور آپ نہ پڑھ رہے ہوتے ابھی۔ خیر برف سے خود کو بچانے کے لئےچاکلیٹ کی طمع میں ایک دکان میں داخل ہوئے ،اب جونہی باہر آئے تو دیکھا ایک کتا بے قرار سا وہاں کھڑا ہے۔ جیسے آنکھوں سے بولتا ہو کہ مجھے ابھی کچھ کھلاؤ میں برف میں خوراک نہیں ڈھونڈ پا رہا۔ میں نے اپنے شریک حیات کو اشارہ کیا کہ وہ چند پیکٹ کتوں والی خوراک خرید کر لائیں تب تک میں اسے تسلی دیتی رہوں گی۔

وہ سمجھ گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ ملے گا ادھر میں ہلتی ادھر وہ ہلتا۔ دم ہلاتا آنکھیں مزید باہر نکالتا وہ بے صبرا ہوتا جا رہا تھا جب خوراک کے پیکٹ آگئے میں نے ایک طرف لے جا کر اسے کھلانا چاہا تو وہ کھلا پیکٹ میرے ہاتھ سے جھپٹ کر بھاگا اور چند قدم دور کھانے لگا۔ مجھے اس پر حیرت اور پیار دونوں آیا۔
اب آگے سفر شروع کیا کہ ہمیں ایک پارک دیکھنا تھا جو ظریفہ علیایفا کے نام پر ہے یعنی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی ماں کے نام پر۔ کیا شاندار پارک ہے ۔وہاں بھی یہ مٹی کی صراحیاں برف میں پڑی تھیں۔ یہ صراحیاں دراصل خوراک کا زیر زمین ذخیرہ کرنے کے لئے فریج کے طور پر کام آتی تھیں۔ پھر قدیم شاعرہ’ خورشید بانو ناتوان ‘کا دراز قد مجسمہ دیکھا ۔ واقعی آذری قوم اپنے ہیروز اور ادباء شعراء کو کیا دلچسپ خراج عقیدت پیش کرتی ہے کہ رشک آتا ہے ۔ تھوڑی دور جا کر ایک برف میں لیٹی ہوئی کتیا نظر آئی جو برف پر منہ مار رہی تھی۔ میں نے پیکٹ دکھا کر اسے پاس بلایا۔ وہ چند قدم آگے آئی کچھ میں آگے گئی تو وہ خوراک کا پیکٹ دیکھ کر اس قدر اونچا اونچا بھونکنے لگی کہ مجھے لگا مجھے ابھی کاٹ لے گی یا پھر اس کو بھوک ہی نہیں لگی۔ یہ میری بھول تھی وہ خوشی سے چلا رہی تھی ،اتنا چلا رہی تھی کہ مجھے سمجھ آگئی کہ آسمان سر پر اٹھانا کسے کہتے ہیں۔ میں نے پیکٹ کھولا تو وہ بے تابی سے آگے آئی اور سارا کھانا کھا گئی۔ مجھے اس کی شکر گزار آنکھیں اب بھی یاد ہیں۔ عجیب سی حالت میں، میں مڑتی ہوئی بل کھاتی ہوئی برف سے ڈھکی سڑک کو دیکھے جا رہی تھی۔شام کو کھانے کی جگہ ہم نے مشہور گیبیلہ خانلار کے قدیم ریستوران کو چنا تھا۔
یہ ایک جنت نظیر ریستوران ہے بلکہ ریستوران کیا یہ ایک بہشت بر زمین ہے۔ اس کے اندر جا کر آپ کو لگے گا کہ نظارے کروں یا پیٹ پوجا کروں کہ دونوں لازم ہیں۔آمد کا مقصد ہی پورا کر دیتے ہیں یہ نظارے۔ اس قدر خوبصورتی سے چند لالٹینین ، چرمہائے حیوانات اور پھول لٹکے ہوئے ہیں کہ بس آدمی دیکھتا رہ جائے۔لکڑی سے بنے کیبنز کے بیچ بہتا پانی ، صنوبر کے برف سے ڈھکے درخت، بھول بھلیوں والے رستے ، ست رنگی روشنی کا انتظام اور شاہ بلوط اور چنار کے دراز قامت درخت ۔ پھر دیگچی میں بنا ہوا شوربے والا دیسی مرغ کا سالن، طشت میں رکھے خوش ذائقہ کباب اور پیالیوں میں دھری چائے۔ یہ کسی بہشت بریں کی داستان نہیں بلکہ کوہ قاف کی حقیقت ہے۔
رات گئے یہاں سے ہوٹل پہنچے، پھر اگلی صبح روانگی ہوئی شیکی شہر کے لئے جہاں کا حلوہ اور گوشت والی ’پیتی ‘ ڈش بہت مشہور ہے۔ آدھے گھنٹے کی مسافت پر موجود اس شہر سے قبل ہمیں چوکور گیبیلہ یعنی چھوٹے گیبیلہ میں ایک میوزیم کا بھی دورہ کرنا تھا ۔یہاں البان رہتے تھے۔ ان کا گاؤں اور ان کی قبل از اسلام اور زرتشتی عہد کی بھی اشیاء موجود ہیں۔ یہ بلندی پر واقع ایک ایسی جگہ ہے جہاں ایک قلعہ ہوا کرتا تھا۔ زلزلے نے اس کے برج گرادیے تو دوبارہ تعمیر میں نہ آسکی۔ وہ برج جنھیں منگول بھی نہ گرا سکے، دست الہی کی ایک دستک یعنی زمین کی جنبش نے زمین بوس کر دئیے۔ اب صرف ملبہ پڑا ہے اور ملبے کی حفاظت کے لئے ایک ادارہ قائم ہے۔ میوزیم میں صفوی دور کی مہر بھی میری دلچسپی کاباعث بنی رہی اور کچھ قدیم زیورات بھی۔ میں اس دور کے انسانوں کا ذوق دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ لیکن اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر فنا۔
یہ سویت طرز کا خاموش چند ہزار افراد کا گاؤں ہے۔ جہاں کوئی بلند عمارت نہیں سب کی معاشی حالت یکساں ہے سو نہ کوئی اعلیٰ ہے نہ ادنیٰ ہے۔ یہی بات مجھے ان کا موازنہ بلغاریہ سے کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہاں ہماری گاڑی کے آگے ایک کتا کھڑا ہوگیا اور بہت ہی خالی لیکن پر امید نگاہوں سے ہمیں تکنے لگا ۔
میں باہر آئی تو میری ٹانگوں سے لپٹنے لگا۔ میں نے گاڑی سے ویفرز کا پیکٹ نکالا اور اسے ڈالا۔ جسے دیکھتے ہی دیکھتے وہ چٹ کر گیا پھر جانے کیا کچھ ڈالتی رہی میرے بسکٹ تک کھا گیا ۔ لیکن اس کی نگاہوں سےھل من مزید کا ورد جاری تھا ۔ ہم جب واپس جانے لگے تو پھر لاڈ کرنے کو تیار ہوا ۔تب تک گاڑی کا پیچھا کرتا رہا جب تک میں نے شیشہ نیچے کرکے اسے الوداع نہ کہہ دیا ورنہ وہ تو ساتھ جانے کو تیار تھا اورساتھی کتوں کو بھی لے آیا تھا شیخی بگھار کے ۔ مجھے اسے یوں چھوڑتے ہوئے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا مگر بعض جگہوں پر بے بسی سی بے بسی ہوتی ہے۔ باکو بہت دور تھا میں اسے کیسے اپنے پاس رکھتی وہاں۔ اتنا دکھ مجھے ماں سے رخصت لیتے ہوئے ہی ہوتا ہے بس۔
جب ہم شیکی پہنچے تو راستہ کسی گناہ گار کے مقدر کی طرح ناہموار تھا اور توبہ گار کی تقدیر کی مانند زیر تعمیر تھا۔بعد از ہزار خواری ہوٹل پہنچے تو وہ جو شہر کا سب سے شاندار لیکن ہمارے لئے بہت ہی عامیانہ ہوٹل تھا۔جیسے ترکی سے جارجیا جاتے ہوئے ٹرک ہوٹل ہوتے ہیں۔ چار ستارے والا ہوٹل تھا ۔بہرحال دو راتیں گزارنی تھیں۔ آرام کے بعد کھانا کھانے پہنچے تو بہت خوبصورت ریستوران میں پیتی آرڈر کی۔ یقین مانیں اسم بامسمیٰ پکوان تھا۔ اس قدر لذیذ کہ بندہ اپنے معدے کی گنجائش بڑھنے کی دعا کرنے لگ جائے۔ مگر ہاتھ نہ روک پائے۔ میں نے آذربائیجان کے طول وعرض میں جتنا بھی سفر کیا ہے ہندوشکہ یعنی ٹرکی ضرور کھایا ہے جسے ترک زبان میں ہندی کہتے ہیں اور ہندی زبان میں ترکی پکھشی کہتے ہیں جبکہ عربی میں رومی مرغ کہتے ہیں۔ و علی ھذا القیاس!
اس پرندے سے صرف مجھے ہی مخاصمت نہیں بلکہ تمام ممالک نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ ٹرکی پرندےسے میری دشمنی کی داستان پھر کبھی سہی۔ابھی یہ سن لیں کہ شیکی شہر کوئی غیر معمولی شہر نہیں، بس رسول حمزہ توف کے داغستان کے قرب و جوار میں واقع ایک عامیانہ سا گاؤں نما شہر ہے۔شیکی شہر کی وجہ شہرت شبکہ کے فن اور اس مٹی کے فرزند مشہور آذری شاعر’ بختیار وہاب زادہ‘ ہے ۔ یہ ایسا شہر ہے جہاں مرد و زن کو مساوات حاصل ہے۔ جہاں اس قدر مہربان لوگ رہتے ہیں کہ جن کے دل اور چائے کے پیالے بڑے ہوتے ہیں لیکن کھانے کا بل کم ہوتا ہے ۔ جہاں مسافر پروری یعنی مہمان نوازی ایک طرہ امتیاز ہے۔ جہاں کے دغاباز و دھوکہ باز دکاندار بھی قدرے مہربان ہیں۔ چنانچہ جب ہم میوزیمز کی سیر اور شیکی کے خان کی سرائے دیکھنے گئے تو خریداری بھی کی کچھ مناظر سے دلداری بھی۔ مجھے تو بس پہاڑوں کے پار داغستان کا چہرہ دیکھنا تھا جسے رسول حمزہ توف نے کس قدر شیریں بیانی سے ہمارے دل و دماغ میں اتار دیا ہے۔ یہاں سے داغستان اتنا قریب ہے کہ اگر پہاڑ تھوڑے نیچے ہوتے تو سماوار سے اٹھنے والا دھواں وہاں پہنچتا۔ مجھے حیرت اس وقت بھی ہوئی کہ شیکی جیسے دور دراز شہر میں بھی پاکستانی اور ترکی جھنڈا آذری جھنڈے کے ہمراہ لہرا رہا تھا۔ اس مثالی اخوت کا مظاہرہ تین مسلم برادر ملکوں کو ایک مسرت کی لڑی میں پروئے ہوئے تھا۔ میری لفاظی کو معاف کیجئے کہ میں رسول حمزہ توف کے پڑوس میں تھی اور حسن بیان میری انگلی تھامے ہوئے تھا۔

کچھ بلندی پر واقع خان سرائے دیکھنا بھی ایک الگ تجربہ ہے یہاں داخلی دروازے کے پاس نظر کے توڑ کے پودے بیچتی مہربان جھریوں والے چہرے کی مالک بڑھیا کوئی حکیم لقمان کی ہمشیرہ معلوم ہوتی ہیں۔ وہ دعا دے کر جب رخصت کرتی ہیں تو کوہ قاف کا حسن کچھ اور قیمتی سا اور نکھر سا جاتا ہے۔شاید اس بڑھیا کی دعا ایک تیسری آنکھ عطا کرتی ہے۔ وہ آنکھ جس میں محبت اور مشاہدہ اور ممنونیت سب کچھ ہے۔ خان سرائے کے رہبر بڑے درشت لیکن درست انسان ہیں۔ وہ چونکہ زیادہ باخبر اور پڑھے لکھے ہیں سو مغرور ہونا بنتا ہے۔ لیکن وہی رہبر جو تین زبانیں بولتا ہے اور مجھے ہر سوال پر سخت اور مختصر جواب دیتا ہے اچانک موم ہوجاتا ہے یہ جان کر کہ مجھے اس سے زیادہ زبانیں آتی ہیں۔ سو اب وہ مسرت کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ واقعی ایک عالم کے اوپر دوسرا ذی علم ہے۔ اور پھر چلتے ہوئے ہر قدم پر تفصیلی جواب دیتا ہے ان سوالات کے بھی جو میری زبان پر نہیں ہوتے۔ وہ ہر کمرے میں بنے نقش و نگار کے مفاہیم مجھے عطا کرتا ہے ۔جو یہاں تفصیلا و اجمالا لکھنا تو ممکن نہیں کہ قاری بیزاری کی چادر اوڑھ لیں گے ۔لیکن اتنا کہوں گی کہ منقش شیشوں والی کھڑکیوں کا منقش آرٹ جس کو مقامی زبان میں ’شبکہ‘( عربی میں کھڑکی کو شبکہ کہتے ہیں لیکن یہاں کھڑکیوں پر بنے نقش و نگار کے فن کو ) کہا جاتا ہے یہ آرٹ شیکی کے خانوں کو بہت پسند تھا اور جس کے کاریگر آج بھی موجود ہیں۔  

چنانچہ شبکہ کے فن کے نمونے شیکی میں ہر جگہ ملتے ہیں۔بلکہ اس کے سکھانے کے باقاعدہ مراکز ہیں۔ دوسرا شیکی کے خان اپنے محلات کے ہر کمرے کے نقش و نگار دوسرے کمرے سے جدا رکھتے تھے۔ خواتین کے کمرے میں پھول اور پرندے ہوا کرتے تھےاور مہمانوں کے کمرے میں شکاری جانور اور جنگی ساز و سامان اور مناظر کی کاریگری۔ بادشاہ کے اپنے کمرے میں معنی خیز تصاویر ہوا کرتیں جو اسے ہمہ وقت یاد دلاتیں کہ بادشاہی ہر وقت میسر نہ ہوگی۔ طاقت کے بعد مہربانی کو نہ بھولنا ۔ اژدھا منہ سے آگ برساتاہے لیکن تم پھول برسانا اور فیصلہ یا انصاف یا عدالت والے کمرے میں کوئی بھی نقش نہ ہو،تاکہ اس کی توجہ بھٹک نہ جائے اور کوئی نا انصافی نہ ہو جائے۔
کھڑکیوں کا ذکر کیا تودروازوں کا ذکر نہ کرنا تو نا انصافی ہوگی ۔ یہاں محل میں دروازوں کے نقش و نگار پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ چنانچہ چوبی دروازے بہترین رنگوں سے بنے پھول پتیوں سے آراستہ کیے جاتے۔ جہاں جب مقفل کرنے کو زنجیر لگائی یا ہٹائی جاتی تو وہ دروازے کے اوپر کسی پنڈولم کی طرح لٹکتی اور ہلتی رہتی۔ میں ایسی کڑی در کڑی زنجیروں کی بہت دیوانی ہوں۔ ایک وہ زنجیر بھی تو ہوتی ہے جو بیڑیاں بنا کر پہنا دی جاتی ہے منہ کھولنے پر اور ایک یہ زنجیر نما قفل تھے حفاظت اور آزادی کے لئے۔ کیا تضاد ہے کیا تصنع ہے۔ ایک عہد میں جی کر جب زمانہ حال میں لوٹے اور خان کی سرائے سے نکلے تو سوئے بازار چلے۔
جس دکان سے چھوٹے سائز کا قرآن خریدا وہاں طیب اردوان اور امینے اردوان بھی خریداری کر چکے تھے۔ خاتون نے مجھے تصاویر دکھا کر فخر کا اظہار کیا جبکہ میں اتفاق سے اس دکان کا انتخاب کر بیٹھی تھی۔ یہاں دکانوں میں اکثر خواتین بیٹھتی ہیںاور بڑی منہ پھٹ ہوتی ہیں مثلا ،ایک دکان سے انار کے پھول چائے میں ڈالنے کے خریدنے لگی ( یہ چائے میں ڈالنے کے لئے گلاب کی پتیاں گر جانے کے بعد رہ جانے والی بیجوں کی پوٹلی ہوتی ہے)تو بڑھیا نے دام طے کرنے تھے۔
میں نے کہا:’’ کچھ سستا بھی ہے؟‘‘۔
تو کہتی ہے :’’ یہ ’ات بورنو‘لے لو ۔‘‘ (اِت بورنو یعنی کتے کی ناک ۔)
’’ کیا ہے؟ ‘‘میں نے آنکھیں گھمائیں۔ ’’اسے تو ہم ’کوشن بورنو ‘ یعنی چڑیا کی ناک کہتے ہیں ۔‘‘ میں نے کہا تواس نے فی الفور جواب دیا ۔
’’تم پوچھتی ہو، ات بورنو کیا ہے؟ میں پوچھتی ہوں کوش بورنو کیا ہے؟‘‘
پھر ناچار ہمیں قہقہہ لگانا پڑا۔ شام کا کھانا گاگارین ریستوران سے کھایا، گاگارین روسی خلانورد تھا جوخلا میں جانے والا پہلا انسان تھا ۔ شیکی شہر کو الوداع کہتے دل بڑا بوجھل تھا ۔جسے رستے میں آنے والے ’گوئےچائے‘نامی قصبہ جسے اناروں کی جنت بھی کہا جاتا ہے، کے اناروں اور شماخہ کی ساکت جھیل اور بھیڑ چال چلتی ہوئی بھٹکتی ہوئی بھیڑوں نے ہلکا اور پر مسرت کر دیا تھا ۔

اب یہ جنت برف سے ڈھکی پڑی تھی۔ ایک جانب کوئی دریا کسی نہر کہ مانند رواں تھا ، کہیں کہیں جم بھی چکا تھا۔ بچوں کے پارک ویران پڑے تھے۔ سیاح تھے ہی نہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد معاشی طور پر یہاں سرمایہ صرف کرنے والوں کودھکا لگا تھا۔ خیر اب زندگی رواں ہوچکی تھی لیکن شہر منجمد تھا۔ میرے لئے سب سے زیادہ خوبصورتی کا مظہر مقامی چیری کے درخت تھے جن کو ’زوعال‘ کہا جاتا ہے۔

بس رسول حمزہ توف کے داغستان کے قرب و جوار میں واقع ایک عامیانہ سا گاؤں نما شہر ہے۔شیکی شہر کی وجہ شہرت شبکہ کے فن اور اس مٹی کے فرزند مشہور آذری شاعر’ بختیار وہاب زادہ‘ ہے ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ۲۰۲۱