سماجی رویہ

دوسروں کی کامیابیوں پر جلنا کڑھنا، کسی کے نامناسب رویہ کو دل کا روگ بنانا ، بدلہ کی آگ میں خود بھی جھلسنا اوراپنے ذہن و سوچ پر حسد ، جلن ، بدلہ، غصہ اور بغض جیسے جذبات کو حاوی رکھنا یہ وہ عوارض ہیں جو شدید نفسیاتی اور طبی امراض کا سبب بنتے ہیں ایسے منفی خیالات کے حامل لوگ کوئی تعمیری اقدام نہیں کرسکتے۔حاسد ، محسود کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن خود کو اور اپنی صلاحیتوں کو ہی حسد کی آگ میں جلا کر فنا کر دیتا ہے ۔
دوسری جانب غلطیوں کو معاف کرنا ، دل بڑا، رکھنا ،غلط رویوں کو نظر انداز کرنا ، لوگوں کے کام آنا، مثبت سوچ رکھنا یہ وہ اعلی اوصاف ہیں جو اطمینانِ قلب کا ذریعہ ہیں فرد کو ہشاش بشاش اور تعمیری فکر کا حامل بناتے ہیں صحت مند دماغ اور صحتمند جسم دیتے ہیں۔ایسے افراد لوگوں کے لئے نفع بخش رہتے ہیں ملک و ملت کے لئے تعمیری اقدامات کرتے ہیں ایسے لوگ ہی قوم کا اثاثہ ہیں۔
نکتہ : جس دل میں خدا سے محبت اور اس کا ذکر ہو وہ دل نفرتوں سے پاک ہوتا ہے یہی لوگ شُح نفس سے محفوظ رہتے ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱