سچی عید
شعبان کا مہینہ تھا اور رمضان شروع ہونے میں دو ہفتوں کی دیر تھی۔ عدنان میاں نے ضد پکڑ رکھی تھی کہ وہ اس عید پر نئی سائیکل لیں گے۔ عدنان میاں پڑھتے تو صرف چوتھی جماعت میں تھے لیکن بلا کے ذہین تھے۔ ان کے ابّو کے ملنے جلنے والے ان سے بات چیت کرکے حیران رہ جاتے۔ ان کی ہوشیاری، ان کی باتیں ، ان کی برجستگی۔ یعنی وہ اپنی عمر سے کافی آگے کی چیز بن گئے تھے۔ اللہ کی مرضی، جو جسے جیسے نوازنا چاہے، نوازدیتا ہے۔ اس نے عدنان میاں کو ذہانت سے نوازا تھا۔ اللہ نے ان کے والدین کی دعاؤں کو قبولیت عطا کی تھی۔ خیر، عدنان میاں نے خود کے لیے ایک شرط اور رکھ دی۔ سائیکل وہ اپنے پیسوں سے خریدیں گے۔ حالانکہ ان کے امّی اور ابّو، دونوں معلم تھے اور انہیں سائیکل ہی نہیں بلکہ وہ جو چاہتے ، دلواسکتے تھے۔ لیکن عدنان میاں کو نہ جانے کیا سوجھی، انہوں نے چار ہزار روپیوں کی سائیکل خود اپنے جیب خرچ سے خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔ شروع میں سب نے اسے بچے کی ضدسمجھ کرانہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن پھر کچھ سوچنے پربات یہ سمجھ میں آئی کہ یہ تو ایک بچے کی غیرت اور خودداری کی نشو و نما اوراسے پروان چڑھانے کا معاملہ ہے۔ سب بہت خوش ہوئے۔ اب شروع ہوا اصلی کھیل۔ انہوں نے اپنے گُلّک یعنی پیسوں کے ڈبّے میں نئے سرے سے اپنا روزانہ کا جیب خرچ جمع کرنا شروع کردیا۔ چاکلیٹ کے پیسے گُلّک میں ،اسکول کا جیب خرچ گُلّک میں ،میگی لانی ہے اس کے پیسے گلک میں۔ بلکہ اب تو یہ معاملہ ہوگیا تھا کہ روزانہ جتنا جیب خرچ انہیں ملتا تھا، تقریباً اتنا ہی وہ مزید حاصل کرلیتے اور اسے اپنے گُلّک کے حوالے کردیتے۔ پھر رمضان شروع ہوگئے۔ روزوں کی وجہ سے عدنان میاں کا باہر جانا بالکل بند ہوگیا تھا۔ اس لیے کبھی کبھی باہر جاکر چاکلیٹ یا قلفی لانے میں جو پیسے خرچ ہوتے تھے، وہ بھی بچنے لگے۔ دھیرے دھیرے گُلّک کا پیٹ بھرنے لگا۔ لیکن معاملہ تھا چار ہزار روپیوں کا۔اتنا آسان نہیں تھا چار ہزار روپئے جمع کرنا۔ عدنان میاں چاہتے تھے کہ عید کے دن ، عید گاہ سے واپس ہوتے ہوئے نئی سائیکل لیتے آئیں۔ ان کے سب دوست کیسے حیران رہ جائیں گے؟ کیسے حسرت سے ان کی چمچماتی سائیکل کو اِدھر اُدھر سے دیکھیں گے۔ کوئی ہاتھ لگائے گا تو میں اسے فوراً روک دوں گا، ’’ارے، نئی سائیکل ہے، میلی ہو جائے گی۔‘‘ وہ سوچتے اور خود ہی ہنس دیتے۔ دو تین مرتبہ تو ان کے والدین نے انہیں نیند میں مسکراتے ہوئے دیکھا۔ وہ سمجھ گئے کہ بچہ نیند میں خواب دیکھ رہا ہے۔ اور عدنان میاں سچ میں نیند میں یہی سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ انہیں فخر اس بات کا تھا کہ سائیکل ان کے اپنے پیسوں سے خریدی جائے گی۔ ان کے والدین کے پیسوں سے نہیں۔ حالانکہ یہ پیسے بھی ان کے والدین کے ہی ہوں گے لیکن چونکہ ان پیسوں کو جمع کرنے میں عدنان میاں کی محنت اور خودداری شامل تھی اس لیے ان پیسوں کی قدر بہت زیادہ تھی۔ عید کا دن نزدیک آتا جارہاتھا۔ پندرہ روزے پورے ہوچکے تھے۔ اتنے میں ان کے گھر ان کی پھوپی جان آگئیں۔ اوہو! وہ کیا آئیں، جیسے گھر میں بہار آگئی۔ پھوپی جان کے دوبچے تقریباً عدنان میاں کے ہم عمر ہی تھے۔ خوب مزے کے دن گزرے۔ سحری ، افطار، دوپہرمیں تھوڑا بہت کھیلنا۔ لیکن دو تین دن بعد پھوپی جان بھی جانے لگیں۔ عدنان میاں روہانسے ہوگئے۔ ’’پھوپی جان، آپ ابھی تو آئی ہیں ۔ اور ابھی جابھی رہی ہیں ۔ عید بعد جائیے گا نا !‘‘ پھوپی جان نے انہیں گلے لگالیا۔ بولیں ، ’’بیٹے، ہم یہاں ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے آئے تھے۔ رمضان کے مہینے میں اپنے گھر سے باہر نکلنا کسی طرح اچھا نہیں ہوتا لیکن ڈاکٹر کو دکھانا تھا اس لیے آنا ہی پڑا۔ اب عید بعد آئیں گے انشاء اللہ۔ ‘‘ پھوپی کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ عدنان میاں اپنے پیسوں سے سائیکل خرید نے والے ہیں ۔ انہوں نے خوش ہوکر جاتے جاتے پانچ سو روپئے کی نوٹ عدنان میاں کے گُلّک میں ڈال دی۔ گُلک کا پیٹ مزید بھر گیا۔ گُلّک بھی خوش نظر آرہا تھا۔ اسی درمیان ایک واقعہ ہوگیا۔ عدنان میاں کی امّی جس آٹو رکشا سے اپنے اسکول آیا جاتا کرتی تھیں ، اس کے ڈرائیور ارشد کو اچانک فالج ہوگیا۔ اس کا بایاں ہاتھ اور بایاں پیر بے جان ہوگیا۔ ایک تو غریب آٹو ڈرائیور ، اس پر اتنی بڑی بیماری اور پھر مزید یہ کہ عید کے قدموں کی آہٹیں نزدیک آتی جارہی تھیں ۔ عدنان میاں کی امی نے ارشد کی جتنی مدد کی جاسکتی تھی، کی۔ وہ عدنان میاں کو ساتھ لے کر ہی ارشد کی عیادت کو گئیں۔ عدنان نے اپنی آنکھوں سے غریب آٹوڈرائیور کی حالتِ زار دیکھی۔ ارشد کے پانچ چھوٹے چھوٹے بچے تھےاور گھر میں کمانے والا ارشد واحد شخص۔ تھوڑی تسلّی کی صورت یہ تھی کہ ارشد کے والد ریٹائرڈ کلرک تھے، ان کی پنشن سے ارشد کو تھوڑا سہارا مل جاتا تھا لیکن پورا گھر چلانا اور پھر ایک بیمار جوان انسان، جو بستر پر مفلوج پڑا ہو اس کی اور اس کے بچوں کی عید کیسی ہوگی؟ اللہ اللہ! کیسی افسوس ناک صورتِ حال تھی۔ بہر کیف! اگلے پندرہ دن بھی یوں ہی گزرگئے یہاں تک کہ چاند رات آن پہنچی۔ مسجد سے چاند دکھائی دینے کا اعلان ہوگیا۔ تراویح بند ہوگئی۔ نماز کے بعد عدنان میاں اپنے گُلک کے پیسے گننے کے لیے بیٹھ گئے۔ ایک۔ دو۔ تین۔ چالیس۔ پچاس۔۔سو۔۔ پانچ سو۔۔ایک ہزار۔۔دو ہزار۔۔تین ہزار۔۔کل ملاکر تین ہزار پانچ سو۔۔پانچ سو روپئے اَور جمع ہونے تھے۔ امید تھی کہ صبح عید کے دن دادا جان ، چاچا جان اور دیگر کچھ رشتے داروں سے اتنی عیدی تو مل ہی جائے گی کہ سائیکل بہ آسانی خریدی جاسکے۔ اتنے میں اچانک عدنان میاں کو کچھ خیال آیا۔

انہیں عید کے کپڑوں کی فکر نہ تھی کہ والدین پہلے ہی ان کے لیے کپڑے خرید چکے تھے۔ بلکہ عید کے دیگر لوازمات بھی خریدے جاچکے تھے۔ ان کی نظر میں ارشد کا چہرہ گھوم گیا۔ ارشد کے بچے اور اس کی غربت، اس کا افلاس زدہ گھر اور ارشد کی بیماری۔ارشد کے بچے عید کیسے منائیں گے؟ انہیں کپڑے کون دلائے گا؟ اس کے گھر شیر خورمے کا سامان کیسے آئے گا؟ وہ یہ سب سوچنے لگے۔ سوچتے سوچتے عدنان میاں کا چہرہ اُتر گیا۔ ان کے چہرے سے نئی سائیکل لینے کی خوشی غائب ہوگئی۔ تھوڑی دیر وہ ویسے ہی بیٹھے رہے۔ پھر مضبوط قدموں سے اٹھے، اپنا گُلّک اٹھایا، اور اپنے ابو کے کمرے میں داخل ہوگئے۔ ان کے والد اپنے نئے کپڑے چیک کررہے تھے۔ عدنان میاں بولے،’’ابو جان، یہ دیکھئے میرے گُلّک کے پیسے، نئی سائیکل لینے کے لیے۔یہ ساڑھے تین ہزار ہیں۔‘‘
ان کے ابو مسکراکر بولے، ’’ہاں بھائی، کل ان شاء اللہ تمہاری سائیکل آجائے گی۔ جو پیسے کم پڑیں گے، وہ ہم ڈال دیں گے۔ تم یوں سمجھ لینا کہ تمہاری عیدی ہے۔‘‘
عدنان میاں ٹھہر کر بولے، ’’لیکن ابو جان، مجھے سائیکل نہیں چاہئے ان پیسوں سے۔ ‘‘
ابو جان چونک گئے۔ بیٹے کا چہرہ دیکھ کر وہ سنجیدہ ہوگئے۔ انہوں نے عدنان میاں کو اپنے قریب کرلیا۔ بڑے پیار سے پوچھا، ’’بیٹے ، کیا بات ہے؟ تم سائیکل کیوں نہیں لوگے؟ جس سائیکل کے لیے تم نے اتنی محنت سے پیسے جمع کئے، آج اچانک اپنا فیصلہ کیوں بدل رہے ہو؟‘‘
عدنان میاں بولے، ’’ابو، اپنے آٹو والے ارشد انکل کے بچے کیسے عید منائیں گے؟ ان کے ابو تو بستر پر بیمار پڑے ہیں ۔ ابو، میری سائیکل کے یہ پیسے آپ ابھی ان کو دے آئیے تاکہ آج ہی ان کے گھر عید کے لیے کچھ کپڑے آجائیں ۔ میں سائیکل کے لیے دوبارہ پیسے جمع کرنا شروع کردوں گا۔‘‘
عدنان کے ابو کبھی حیرت سے اور کبھی فخر سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے بیٹے کو بھینچ کر گلے لگالیا اور بولے، ’’ہاں بیٹا، ان پیسوں میں ہم بھی اپنے دو ہزار روپئے ڈال دیں گے۔ تاکہ وہ اور اچھی طرح عید مناسکیں ۔‘‘ یہ سن کر عدنان کا چہرہ خوشی سے مزید دمکنے لگا۔ عدنان کے ابو کو ایسا محسوس ہوا جیسے عید کی سچی خوشی تو انہیں عید سے ایک دن قبل ، چاند رات کو ہی مل گئی ہے۔ کل تو رسمی عید ہوگی، سچی عید تو آج ہی ہوگئی ہے۔

انہیں عید کے کپڑوں کی فکر نہ تھی کہ والدین پہلے ہی ان کے لیے کپڑے خرید چکے تھے۔ بلکہ عید کے دیگر لوازمات بھی خریدے جاچکے تھے۔ ان کی نظر میں ارشد کا چہرہ گھوم گیا۔ ارشد کے بچے اور اس کی غربت۔ اس کا افلاس زدہ گھر اور ارشد کی بیماری۔ارشد کے بچے عید کیسے منائیں گے؟
جولائی ۲۰۲۱