عبدالوہاب حبیب

عجب نہیں ہے کہ یہ چار سُو بدل جائے!
تعلیم انسانی ذہنوں کو کھولنے کی کنجی ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کی بنیاد ہے اور اسی کی بنیاد پر سب سے پہلی وحی ’’اقراء‘‘نازل کرتے ہوئے پڑھنے کا حکم دیا گیا اور یہ حکم صرف مردوں کےلئے ہی نہیں بلکہ صنف نازک کےلئے بھی تھا۔ اللہ نے جب آدم و حوّا کوپیدا کیا تو انہیں علم سے نوازا۔ تعلیم ہی قوم کے احساس وشعور کو نکھارنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے اور ہر دور میں کسی بھی قوم کے عروج و زوال کے راز کو پنہاں رکھتی ہے۔ عصر حاضر کے ڈجیٹل دور میں تعلیم و تربیت اور خاص طور پر بات خواتین کی تعلیم کی ہو تو مختلف عملی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف پوری دنیا انسانوں کی انگلیوں پر معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے تو دوسری جانب خواتین کےلئے بھی خصوصی نظم کا ایک خلاء تیار تھا جسے پر کرنا انتہائی ضروری تھا۔ اسی درمیان ایک خوش آئند خبر ھادیہ ای میگزینکی اشاعت ہے جو خواتین کے ذریعے، خواتین کےلئے نشر و اشاعت کا سامان مہیا کر رہی ہے۔ میگزین کے نعرہ ’’تعلیم، تدبیر، تعمیر‘‘سے ظاہر ہے کہ کتنی وسعت، فراخدلی اور دور اندیشی کے تحت اس میگزین کی شروعات کی گئی ہے۔
مارچ 2021سے نشر و اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔ تین ماہ کی اشاعت پر طائرانہ نظر ڈالیں تو بحیثیت صحافی داد تحسین دئیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ بنیادی طور پر میگزین کی ویب سائٹ کا سرورق صارف دوست (یوزر فرینڈلی آپشنس) اور جاذب رنگ ہے۔ اسلامی آرٹ کسی بھی صارف کو اپنی جانب راغب کرتا ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ہے مضامین کے موضوعات جو کسی بھی میگزین یا میڈیائی ادارہ کی جان ہوتے ہیں اور اسی میں اصل پیغام ہوتا ہے۔ ھادیہ کی ویب سائٹ پر جس طرح میگزین کا تعارف پیش کیا گیا ہے وہ چاہے میگزین کا نام ھادیہ رکھنے کی وجہ ہو یا اس کے فکری، اخلاقی موضوعات کا احاطہ کرنے کی پالیسی، بے شک یہ صحافتی دنیا میں ایک ایسا پودا ہے جس کے انقلاب کی جڑیں گہری اور شاخیں آسمان تک پھیلیں گی انشاء اللہ۔ کسی بھی میڈیا کا ظاہر ہے ایک ٹارگٹ آڈینس ہوتا ہے جو اسی موضوعات کو مرکز و محور بناکر اپنے پیغامات ارسال کرتا ہے۔ اس لئے مارچ تا مئی 2021کے ان تینوں شمارہ پر جو مضامین شائع ہوئے ہیں اس پر طائرانہ نظر ڈالیں تو واضح ہے کہ اسلامی، تعلیمی، سائنسی، تاریخی، معاشرتی، ادبی اور صنفی شعبہ جات میں ایسا کوئی شعبہ خالی نہیں جہاں میگزین میں رہنمائی نہ ہو۔ مئی2021کی ای۔میگزین مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اور یہ کہا جائے کہ اسے موجودہ دیگر پروفیشنل میگزینز سے زیادہ جاذبیت، اخلاص، اور گہرائی کے ساتھ موجودہ حالات کے عین مطابق ترتیب دیا گیا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔
میگزین ویسے تحریکی مزاج اور امت مسلمہ میں خواتین کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے جذبہ و جوش کو ابھارتی ہے لیکن موجودہ جمہوری نظام میں خواتین کا رول نہایت شائستگی سے جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔’ ‘قضیئہ فلسطین کی تازہ صورت حال‘میں جس طرح مسئلہ فلسطین کو مختصر لیکن جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے وہ خواتین کےلئے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ 
’وبا کے بعد ہمارا لائحہ عمل‘ عصر حاضر اور مستقبل کے تئیں سنجیدگی سے ذہن سازی کر رہا ہے۔’ ترانہ ‘تم نہ اٹھوگے تو اب کون یہاں اٹھے گاانقلاب آئے گا تو تم سے ہی بس آئے گا‘ کا ہر ہر لفظ ھادیہ کے مقاصد کا منظوم ترجمہ ہے۔
’نظم، ترانہ، حمد و نعت کے ذریعہ صنف نازک کو اپنے احساسات و خیالات کےلئے جس طرح کا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے وہ قابل مبارکباد ہے۔ نظم ( سخن سراپا) کے تحت ‘ہوئے ہیں خاک کتنے تو بنا ہے۔’وہ اک رستہ کہ تیری رہگزر ہے‘فکر و نظر کی عکّاس ہے۔
’مضمون ‘ماحولیات اور خواتین‘ماحول کے تئیں ہماری غیر سنجیدگی سے پردہ ہٹاتا ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس مسئلہ سے نمٹنے کا حل بھی فراہم کرتا ہے جو کہ کسی بھی صحافتی رپورٹ کا محور و مقصد ہونا چاہیے۔’لاک ڈاؤن میں تعلیم کے فوائد اور نقصانات‘ ماشاء اللہ ویڈیو فارمیٹ میں اپنے قارئین و ناظرین تک پیغام پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ کہانی میں اشارہ۔’زمین کو بنجر ہونے سے بچانا ہے‘افسانہ نما کہانی ہے لیکن انتہائی خوبصورتی سے سنجیدہ پیغام دیا گیا ہے۔ اگلا اہم کالم ’خواتین کی نفسیاتی الجھنیں اور رہنمائی‘ کے تحت رہنمائی اپنے قارئین سے نہ صرف رشتہ مضبوط کرتی ہے بلکہ معاشرتی سطح پر کرب و آہ سے گذر رہے انسانی ذہنوں کو جلا بخشتی ہے۔ عام طور پر خواتین میں نفسیاتی مسائل کا ازالہ مشکل ہوتا ہے لیکن ایک خاتون کے ذریعہ پوری سنجیدگی سے مسئلہ کو جان کر رہنمائی، اپنائیت اور ہمدردی کے ساتھ حل پیش کرنے سے نفسیاتی عوارض کو ایک بڑا حوصلہ، ہمت اور مدد ملتی ہے۔
’گرافک ڈیزائننگ کیریر، مواقع اور مستقبل‘ کے ذریعہ خواتین میں اسکل ڈیولپمنٹ کا ہنر فروغ دیا گیا ہے جس کی اشد ضرورت ہے۔ گوشہ مطالعہ میں کتابوں کے تعارف کا خاکہ تحریری ، آڈیو اور ویڈیو شکل میں پر لطف ہے۔ ادبی فن پارے میں’سفرنامہ۔ آذربائیجان فردوس بریں‘تاریخ کے زرّین باب کو کھولتا ہے۔ ’ماں جائے‘تحریر جیسے جیسے پڑھتےجاتے ہیں منظر نامہ آنکھوں کے سامنے سا لگتا ہے۔ بچوں کا صفحہ، مسائل، اسلامی لباس، طنز و مزاح کا گوشہ۔ہم پر جو بیتی،مہرباں کیسے کیسے، لیمونیڈ(پکوان کی تراکیب) ایسے تراشیدہ ہیں کہ ادارتی ٹیم کے انتخاب پر رشک ہوتا ہے۔
من جملہ ھادیہ ای۔زین( میگزین ) کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ میڈیا کے بنیادی مقصد کو روشناس کروانے، تعلیم فراہم کرنے اور تفریح کرنے کے ساتھ سارے اجزا، تراکیب اور فن کو یکجا کیا گیا ہے وہ بھی خواتین کے ذریعہ تو یہ اپنے آپ میں ایک فن پارہ ہے۔ ھادیہ کے مضامین خواتین میں انقلاب کی دستک ہیں جو خواتین کی عزت، عفت، عصمت، عظمت، شوکت، رفعت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ میری جانب سے ھادیہ کے تمام پالیسی ساز، ڈیسک ٹیم، مضمون نگار، قارئین اور اداریہ ٹیم کو صمیم قلب سے مبارکباد کہ وہ نہ صرف عصری تقاضوں کے مد نظر تحریر بلکہ سمعی و بصری طور پر بھی گلوبل ولیج کے اس دور میں چیلنجز کے صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے انتہائی نا قابل تسخیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔اقبال کا شعر تمام ٹیم کو منسوب کہ تری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا عجب نہیں کہ یہ چار سُو بدل جائےیہی خودی کی بیداری اور انقلاب کی دستک’ ھادیہ‘ہے۔

وعلیکم السلام
آپ کا مراسلہ حوصلہ بخش ہے ھادیہ کی خوش قسمتی ہے کہ ایسے قارئین میسر ہیں جو اتنی توجہ سے پڑھتے ہوئے رائے دیتے ہیں ۔ امید ہے آپ کاقلمی تعاون ھادیہ کے ساتھ برقرا رہے گا ۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ۲۰۲۱