عورت کا تحفظ۔ کون کتنا ذمہ دار؟
زمرہ : ادراك

جب ھادیہ ای میگزین کے اکتوبر کا شمارہ آپ کی نذرنواز ہوگا تو اس کے سرورق پر ’بچیوں کے تحفظ کا عالمی دن‘ (International day of the girl child protection )کے عنوان پر آپ کی نگاہ ٹھہر جائے گی۔اس موضوع پر بہت سے مضامین اورویڈیوز وغیرہ آپ کے سامنے آئیں گے، جس میں خواتین اور بچیوں کے پروٹیکشن اور ان کے تحفظ سے متعلق کچھ ٹیکنیکس بتائی جا رہی ہوں گی کہ اگر کوئی آپ پر حملہ کرے ، راستہ روکے ، بہانے سے آپ کو کسی اور جگہ لے جانا چاہے تو آپ کس طرح دفاعی اقدام کریں؟ حملہ آوار کو کس طرح ناکام بنائیں؟ اور کس طرح آپ حملہ آور کو زیر کریں؟
مذکورہ ویڈیوز میں بہت سی ٹیکنیکس سکھائی جاتی ہیں اور انھیں سیکھنا بھی چاہیے۔ کیوں کہ آپ ایسے سماج کا حصہ ہیں، جہاں خواتین کی عصمت دری کے واقعات عام ہیں۔ ایسے میںآپ کو اپنے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ اپنی عزت و عصمت کی حفاظت ایک بچی اور خاتون کا سب سے پہلا حق ہے۔ ہر طرح کے تحفظ کی ٹیکنیکس کو بچیوں کو سیکھنا چاہیے۔ تحفظ کے لیے بہادری سے ڈٹ جانے کی مثالیں بہت سی صحابیات کی سیرت میں ملتی ہیں۔
بیماری کے بعد اس سے بچاؤ کے لیے دوا کھانا تو لازمی ہے، تاہم تحفظ کے اقدام سے پہلے بھی ایک مرحلہ ہے اور وہ ہے احتیاط کا۔ احتیاطی تدابیر وہ لوگ کرتے ہیں جو دور رس نگاہ رکھتے ہیں، جنہیں نتائج کا اندازہ وقت سے بہت پہلے ہوجاتا ہے۔ پینڈمک کے اس دور میں ہر شخص دل سے اس بات کا قائل ہے کہ احتیاطی تدبیر، علاج سے بہتر ہے۔
خواتین اور بچیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں تحفظ تو سکھاتی ہیں، لیکن احتیاط کو غلامی سے عبارت کرتی ہیں۔ جب کہ احتیاطی تدبیر کا اختیار کرنا کسی کی غلامی نہیں، بلکہ معقول، حکیمانہ اور فطری طرزِ عمل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کورونا سے بچنا ہے تو ماسک لگانا ضروری ہے۔کیا احتیاطاً ماسک لگانا ،سینی ٹائزر کا استعمال کرنا اور سوشل ڈسٹینسنگ کو ملحوظ رکھنا غلامی ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر خواتین کی احتیاطی تدابیر کو کیوں کر غلامی سے تعبیر کیا جاتا ہے ؟ یہاںاحتیاط سے مراد خواتین کے لیے محفوظ جگہ ہے، جو ان کا اپنا گھر ہے۔
بچیوں میں بچپن ہی سے تحفظ کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کرنے چاہیے۔ یہ بات ان پر واضح کرنی چاہیے کہ ہم حجاب کو اس لیے زیب تن نہیں کرتے کہ یہ روایت ،فیشن یا کمیونٹی میں اس کا چلن ہے، بلکہ اس لیے پہنتے ہیں تاکہ ہم دوسرے کی نگاہ کا مرکز ومحور نہ بنیں۔
تعلیم یافتہ طالبات خوب جانتی ہیں کہ سورج کی تیز شعائیں جلد کو جلادیتی ہیں، اس لیے وہ اس سے محفوظ رہنے کے لیے مختلف طریقے اپناتی بھی ہے۔ اسی طرح ہمیں بری نظر سے بچنے کے لیے احتیاط کرنا ضروری ہے۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کسی دوسرے شخص کے ایمان کی آزمائش نہ بنیں۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے:
’’ کسی غلام کے سامنے اپنا قیمتی سامان کھلا نہ رکھیں، کیوں کہ یہ اس کے ایمان کی آزمائش ہے ۔‘‘
یعنی جس طرح آپ پیسوں کو محفوظ رکھتے ہیں،تاکہ ضرورت مند چوری نہ کرلے۔ اسی طرح آپ اپنے پیسوں کے تحفظ کی تدبیر اختیار کرکے، نہ صرف اپنے مال کی حفاظت کرتے ہیں، بلکہ دوسرے شخص کے ایمان کو آزمائش میں نہیں ڈالتے۔
اسی طرح اسلام کا مطمح نظر یہ ہے کہ کوئی عورت کسی دوسرے کو فتنے میں مبتلا کرنے والی نہ بنے۔ قرآن مجید میں’ تبرج ‘ سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی خواتین سج دھج کر نامحرم کے سامنے نہ آئیں، انھیں اپنی زینت نہ دکھائیں۔ اس کے بر خلاف عمل کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔
خواتین کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے لیے انتہائی شفیق، مہربان اور نرم خوہوں اور نامحرم کے لیے بے لوچ اور بے باک گفتگو کرنے والی۔ وہ بارعب شخصیت کی مالک ہوں، اور وقار ان کا شیوہ ہو۔ انہی اقدار کو سامنے گھر میں معصوم بچیوں کی تربیت ہونی چاہیے۔ اس نکات پر عمل کرکے ہماری بچیاں اسلامی اقدار کو خود اعتمادی کے ساتھ اختیار کرنے والی بنیں گی اور عالمِ نسواں کے لیے مثال پیش کریں گی۔
پردے کا ایک مقصد بری نگاہ سے بچنا ہے۔ عموماً اس کو خوب بتایا اور سمجھایا جاتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ پردے کا دوسرا مقصد یہ کہ ہم نامحرم کے شر کو ابھارنے والی نہ بنیں، اس مقصد کوپس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
ماڈرن کلچر نے کسی دوسرے کو برائی میں مبتلا کرنا بہت آسان بنا دیا ہے۔ جو ماحول کالج اور کیمپس میںقائم ہے، وہاں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا کلچر ایک فیشن بنتا جارہا ہے۔انتہا ئی درجے کی بے حیائی اور فحاشی کو کلچر کا نام دے دیا گیا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ بچیوں میں یہ احساس جاں گزیں کیا جائے کہ:
وہ ساتر لباس پہنیں۔
اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔
گھر سے باہر نکلیں توخوشبو کا استعمال نہ کریں۔
مخلوط ماحول سے اجتناب برتیں۔
نا محرم سے دوری بنا ئیں۔
نامحرم سے دورانِ گفتگو باتوں میں لگاوٹ پیدا نہ کریں۔
آواز میں لوچ پیدا نہ کریں۔
تبرج یعنی سج دھج نہ نکلیں اور نہ ہی جاذب نظر برقعہ زیب تن کریں۔
سوشل میڈیا پرکسی کو مائل کرنے والا رویہ اختیار نہ کریں۔
اگر مذکورہ عوامل کے بر خلاف عمل ہوگا، چاہے وہ دانستہ ہو نادانستہ،مرد فتنے میں مبتلا ہوگا اور نتیجتاً پورا ماحول رفتہ رفتہ ہر قسم کی خاتون کے لیے ماحول غیر محفوظ بنتا جائے گا۔ اس لیے لڑکیوں کی تربیت میں ماؤں کو انتہائی باریکی کے ساتھ، بہت نرم خوئی سے اور عملاً ان چیزوں کو تربیت کا حصہ بنانا چاہیے۔
فطری طور پر ہیجان میں مبتلا کرنے کے بعد کسی سلیم الطبع شخص سے بھی برائی کا احتمال ممکن ہے۔ اس لیے تحفظ کے سلسلے میں سب سے پہلی چیز یہی ہو کہ ہم صنف مخالف کے شر کو ابھارنے والا اقدام اپنی ذات سے نہ کریں۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ دیررات تک باہر رہنا غیر محفوظ ہے۔ بلا ضرورت باہر نکلنا اور خود کو غیر محفوظ ماحول کے حوالے کرنا بھی بڑی آزمائش ہے۔ بلا ضرورت باہر نکلنا اور نامحرم کے بغیر سفر کرنا بھی غیر محفوظ ماحول سبب بنتا ہے۔ کالج کیمپسس میں خود کوماحول کے حوالے کرنا بھی ایک غیر محفوظ سچویشن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
چھوٹی بچیوں کو اگر بچپن ہی سے احتیاطی تدابیر نہ سکھائی جائیں اور نو عمری سے لڑکوں کو گھروں میں عورت کے احترام کا ماحول نہ ملے، تو معاشرہ خواتین کے لیے غیر محفوظ بن جائے گا۔ گھروں میں سات سال کی عمر سے جنس ِ مخالف سے بات کرنے کے حدود سکھانا بھی اسی اقدام کا حصہ ہے۔ بچپن ہی سے گھر کا ماحول ایسا ہو کہ والدین کی توجہ اس حد تک ملے کہ وہ مرعوبیت سے اجتناب کرنے لگیں۔ والدین کی عدم توجہی یا قید کا ماحول دوسروں سے مرعوبیت کا شکار بناتا ہے۔ مرعوبیت، اسکول کے دوستوں اور دیگر مادی چیزوں سے ہوتی ہوئی ان کے کلچر اور فیشن کی راہ سے ہوکر ان کے مزاج سے بھی ہونے لگتی۔ پھر یہ مرعوبیت انسان کو نفسانی خواہشات کا غلام بناکر مذہب اور دین بیزار بنادیتی ہے۔
بچپن ہی سے یہ ماحول فراہم کیا جائے کہ دین کے یہ احکام انہیں فطری ضرورت لگنے لگیں۔ ان پر اعتراضات کے رٹے ہوئے جوابات کے بجائے شرعی احکام، دلائل اور حکمتیں واضح کی جائیں۔ شرعی حدودپر ان کا عمل، احساس اور شعور کے ساتھ ہو، وہ صرف روایتی جملوں سے اپنا تحفظ نہ کریں، بلکہ ان احکامات کی حقانیت کا احساس بھی ان کے اندر موجود ہو۔ بچیوں میں تحفظ کا مضبوط احساس ان کے اپنے والد اور بھائیوں سے ملتا ہے۔ تحفظ کا مطلب بے جا پابندیاں اور حد بندیاں نہیں ہے، بلکہ ان کی پشت پناہی کا احساس ہے۔
کئی طالبات کالج کیمپسس میں تنگ کرنے والے افراد کی شکایت اپنے والدین سے نہیں کرپاتیں، اس ڈر سے کہ والدین کے نزدیک اس مسئلے کا حل تعلیم کا سلسلہ منقطع کردینا ہے۔بہت سی طالبات بعض تنگ کرنے والے شریر عناصر سے دوستی کر لیتی ہیں، کیوں کہ ان کو اپنے گھروں میں عدم تحفظ کا احساس رہتا ہے۔
خواتین اور بچیوں کو گھر اور معاشرے سے عزت اور احترام ملنے لگے تو وہ حدود شرعی کو آزادی کے لیے اختیار کرتی ہیں۔ آزادی اور حریت کا احساس ان کے اندر اعتماد بڑھاتا ہے۔ وہ اس تحفظ کو غلامی نہ سمجھیں۔ جب کوئی یہ کہے کہ مسلم عورت کی پہچان حجاب ہے تو دل یہ کہتا ہے کہ روئے زمین پر موجود ہر عورت کے لیے احتیاط کا اقدام حجاب ہے۔ صرف مسلم عورت ہی کا نہیں، بلکہ ہر خاتون فطرتاً اپنی عصمت کی حفاظت چاہتی ہے، زیادتی اور بری نظر سے بچناچاہتی ہے۔ اسی لیے تو تحفظ کے سلسلے میں بے شمار ویڈیوز اور تحریریں نظر آتی ہیں۔
عورت کو عریاں کرنے والا معاشرہ بھی عورت کے تحفظ کے لیے از حد پریشان ہے کہ کیسے عورت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے؟ضروری ہے کہ ان اقدامات کو لائحہ عمل بنائیں جو اسلامی شریعت کی دَین ہیں۔ صرف انھیں کو اپنا کر خواتین کا تحفظ ممکن ہے۔

2 Comments

  1. زیبا ئش

    براہ کرم ساتھ لباس کی ذرا تفصیل آجاتی تو کیا ہی بہتر ہوتا ویسے بہت عمدہ مقالہ ہے جزاک اللہ خیر

    Reply
    • خان مبشرہ فردوس

      تشکر
      اسلامی حدود میں لباس وضع قطع پر پہلے تحریر آ چکی

      Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر