غذا ئیت کی اہمیت اور خواتین کا رویہ

ایمان کے بعد صحت و عافیت اللہ تعالی کی سب سے قیمتی نعمت ہے لیکن اکثر لوگ اس سے غافل رہتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جانو۔جسمانی صحت کا بڑا تعلق غذا سے ہے غذا کی کمی یا غذائیت سے لاپروائی کے نتیجے میں ہی بیماریاں وجود میں آتی ہیں۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ’’ جان ہے تو جہاں ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو قوی مومن کمزور مومن کے مقابلے میں زیادہ پسند ہے ، ایک صحت مند انسان ہی اپنا ہر ذاتی کام ،تمام عبادات ، تعلقات سماج و ملک کے تقاضے بہتر طور پر نبھا سکتا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ خالق کائنات نے اس کائنات کو چلانے کا جو نظام بنایا ہے وہ تین بنیادی اصولوں پر کارفرما ہے۔ پہلا تغذیہ، دوسرا نمو اور تیسرا تولید۔

تمام جاندار ان فطری تقاضوں کے آگے مجبور ہیں اور انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اس چیز سے منزہ نہیں ہے اور تولید کا جو اصول بنایا گیا ہے وہ ہر نوع کو نر و مادہ کی شکل میں پیدا کر کے ان کے بیچ فعل و انفعال کا تعلق رکھ کر بقائے نسل کا انتظام کیا ہے۔
فی الوقت عنوان کے مطابق ہم خواتین کی صحت و تندرستی کی بات کریں تو موجودہ زمانے کی صورتحال اور مشینی دور کے تقاضے ، ہمارے شب و روز اور طریقۂ زندگی کے فائدے اور نقصانات کے تمام پہلوؤں سے اچھی طرح واقفیت ضروری ہے۔
پہلے کے دور کے انسانوں کی مدتِ عمر آج کے دور کے انسانوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تھی۔ ابھی اس دور میں 70 ،80 یا بہت کم لوگ سو 100 سال کی عمر تک پہنچتے ہیں۔ اس صورتحال میں خاتون کی زندگی پر اگر ہم غور کریں تو اس پر ماں بننے کی جو اہم ذمہ داری عائد کی گئی ہے اس لحاظ سے اس کی پیدائش سے ہی فطرت اس کے اس حیاتیاتی وجود کی بقا کے لئے عامل اور کارساز ہوتی ہے۔ہم اس کی زندگی کے تین فطری ادوار یعنی بچپن ، جوانی اور بڑھاپے کو پھر سے 3، 3 تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
پہلا بچپن کا دور۔
1سے 3سال،
پھر 4 سے 7سال،
پھر 8 سے 12 سال۔
جوانی کے دور کے 3 ادوار۔
پہلا 13سے19،
دوسرا 20سے 25،
تیسرا 25سے 45 سال
اسی طرح بڑھاپا۔
پہلا 45 سے 60 ،
دوسرا 60 سے 80،
تیسرا 80 کے بعد آخری سانس تک۔

اس طرح ہر دور کے تقاضے جدا جدا ہیں ہم کسی بھی دور کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ساری زندگی صحت مند حالت میں گزارنے کے لیے پیدائش سے پہلے یعنی ماں کے شکم سے ہی شعوری طور پر غذائیت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے چونکہ ماں کے رحم میں ہی اولاد کو کسی قسم کی غذائی کمی ہو جائے تو اس کا اثر تاحیات رہتا ہے۔ہمارے معاشرے میں اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ حمل کے دوران پھر بھی تھوڑا بہت خیال رکھا جاتا ہے لیکن جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں تو ماں اپنی ذات کو بھول کر شوہر ، اولاد، تمام افرادِ خاندان اور گھر کے لئے بھاگ دوڑ اور محنت کرتی ہے مگر اپنی صحت اور غذائیت کے بارے میں لاپروائی برتتی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جوانی کی طاقت جیسے ہی ڈھل جاتی ہے وہ مختلف امراض کا شکار ہونے لگتی ہے۔بلوغت، حمل اور سنیاس کے دور میں خواتین جن ہارمونل تبدیلیوں سے گزرتی ہیں اس کا اثر ذہنی اور جذباتی صحت پر بھی بہت گہرا ہوتا ہے چونکہ فطرتاً ایک خاتون میں مرد کے مقابلے میں جذباتی پہلو زیادہ غالب ہوتا ہے اس لیے ایک تندرست جسم ہی ایک صحت مند دماغ کا حامل ہو سکتاہے۔
ہماری روزانہ کی غذا میں جو غذائیت درکار ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1) پانی
2) پروٹین
3) کاربوہائیڈریٹ
4) مینرل
5) فیٹ
6) وٹامنز۔
اس طرح ہماری روزانہ کی غذا میں ایک بالغ عورت کے لیے جو ضروری تناسب ہے وہ اتنی تعداد میں چاہیے۔
1)1600-2400 کیلوری۔
2)13,000 mgکیلشیم۔۔
3) 600iu وٹامن ڈی۔
4)18mg لوہا یاآیرن۔
5)400mcg فولک ایسڈ۔
جس غذا میں آئرن زیادہ پایا جاتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
کھجور،گڑ شہد، کشمش شلجم گاجر، میتھی پالک ، انار اور جن چیزوں میں کیلشیم اور وٹامن ڈی پایا جاتا ہے وہ دھوپ، انڈے، گوشت زیتون، دودھ ،دہی ہیں۔
اس کے علاوہ جو چیزیں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں ان میں کلونجی ہر قسم کے موسمی میوے،خشک میوے ، اجوائن میتھی۔ یہ چیزیں توازن حسن و ہارمونل توازن کے لئے ضروری ہیں۔
جن چیزوں سے پرہیز یا احتیاط کی ضرورت ہے ان میں حد سے زیادہ شکر،میدہ، تلے ہوئے یا مسالے دار اجزا، کین والے مشروبات شامل ہیں۔
ہمارے ملک ہندوستان میں ان غذاؤں کی کمی کی وجہ سے خواتین میں عام طور پر جو بیماریاں پائی جاتی ہیں ان کا تناسب یہ ہے۔
1)اینیمیاAneamia 53% غیر حاملہ خواتین میں
2) حاملہ خواتین میں.% 50

3)PCOS. 20%
4) ڈپریشن43%
5 ) آسٹیو پروسس 42.5% 50 سے زائد عمر میں
6) وٹامن ڈی کی کمی70-90%
اس کے علاوہ وہ غذائیت کی کمی سےدل کے امراض، عمر کے ساتھ بھول شوگر اور جوڑوں کا درد، خون میں مختلف طریقے کے انفیکشن ، اعصابی امراض ہونے کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں، اس کے علاوہ ہماری روز مرہ کی زندگی میں کھانے پینے اور سونے جاگنے کے طریقوں میں صحت کے اصولوں کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے جو بیماریاں وجود میں آتی ہیں ان میں سرِ فہرست ہارمونل تبدیلیاں، کولیسٹرول کی زیادتی ، جوڑوں کا درد، سپونڈولیسِس، بی پی ، شوگر اور مختلف طرح کے ذہنی عوارض شامل ہیں لہذا اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر خاتون اپنی صحت کے معاملے میں شعوری طور پر متوجہ ہو اور اپنی بساط بھر صحت کو بہتر رکھنے کی پوری کوشش کرے۔

ہماری روز مرہ کی زندگی میں کھانے پینے اور سونے جاگنے کے طریقوں میں صحت کے اصولوں کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے جو بیماریاں وجود میں آتی ہیں ان میں سرِ فہرست ہارمونل تبدیلیاں، کولیسٹرول کی زیادتی ، جوڑوں کا درد، سپونڈولیسِس، بی پی ، شوگر اور مختلف طرح کے ذہنی عوارض شامل ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱