غربت
کا شدید خطرہ اور ہماری ذمہ داریاں

نظام کے ثمرات اس وقت سامنے آتے ہیں جب وہ قائم ہوجاتا ہے جب کہ تحریک کے ثمرات اسی دن سے سامنے آنے لگتے ہیں جب وہ برپا ہوتی ہے۔ اسی لیے اس مضمون میں ہم ازالہ غربت کے اسلامی نظام کی خصوصیات پر کچھ روشنی ڈالتے ہوئے ازالہ غربت کی اسلامی تحریک پر گفتگو کرنے کو ترجیح دیں گے۔
یاد رہے کہ مکہ میں اسلامی دعوت کی ابتدا ہی میں ازالۂ غربت کی اسلامی تحریک کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔ بلکہ اس پر نسبتًا زیادہ زور مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں نظر آتا ہے۔ مدینہ میں نازل ہونے والی انفاق کی بہت سی آیتوں کا مقصود جہاد کی راہ میں انفاق ہے، لیکن مکہ میں تو انفاق والی آیتیں عام طور سے ناداروں کے ساتھ ہم دردی اور مواسات سے تعلق رکھتی ہیں۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ مکہ میں اہل اسلام شدید ظلم وستم اور سخت آزمائشوں سے دوچار تھے، اس کے باوجود غلاموں کو آزاد کرنا اور مسکینوں کو کھانا کھلانا ان کی دعوت کا ایک نمایاں عنوان تھا۔
ازالۂ غربت کی جو تحریک اللہ کے رسول ؐنے مکہ میں برپا کی تھی، موجودہ حالات میں اسے ہندوستان میں برپا کرنا اسوہ رسول کا تقاضا اور اسلامی دعوت کی اہم ضرورت ہے۔
توحید سے غفلت مادہ پرستی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتی ہے۔ مادہ پرستی کے نتیجے میں غریبوں کو لوٹنے بلکہ ان کے خون کا آخری قطرہ تک چوس لینے کا داعیہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے حس، بے ضمیر اور خود غرض سماج تیار ہوتا ہے۔
توحید کی اسلامی دعوت مادہ پرستی کو ختم کرتی ہے، اور ہم دردی کے روحانی جذبات کو فروغ دیتی ہے۔ غریبوں سے ہم دردی رکھنا اسلامی دعوت کی سب سے نمایاں عملی تاثیر اور اسلامی سماج کی ممتاز ترین خوبی ہوتی ہے۔
اگرچہ عربوں کے یہاں سخاوت ایک قابل فخر خوبی تھی اور عرب شعرا اس خوبی کے حوالے سے ایک دوسرے پر فخر جتایا کرتے تھے، تاہم قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب مشرکین کی اکثریت شرک کے ساتھ کنجوسی میں بھی مبتلا تھی۔ چناں چہ مکی سورتوں میں قرآن جہاں مشرکین کی بڑی برائیوں کو ذکر کرتا ہے وہاں سماج میں پھیلی غربت وناداری کے سلسلے میں ان کی بے حسی کو خاص طور سے ذکر کرتا ہے، بلکہ شرک وکفر کے بعد اسے وہ ان کی سب سے بڑی خرابی قرار دیتا ہے۔

إِنَّهُ كَانَ لَا یو ْٔمِنُ بِاللهِ الْعَظِیمِ وَلَا یحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِینِ‏ (الحاقۃ: 33، 34)

’’یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا‘‘
مکی دور میں ازالۂ غربت کی اس تحریک نے شرک کو بالکل عریاں کرکے رکھ دیا تھا اور اسلام کی امتیازی حیثیت کو بالکل عیاں کردیا تھا۔ یقینًا اس سے اسلامی دعوت کو بڑی تقویت حاصل ہوئی ہوگی۔
مدینے کی اسلامی ریاست کا جب قیام عمل میں آیا تو یہودیوں کی سودی پالیسیوں، برسہابرس سے جاری جنگ اور اس پر مزید نادار مہاجرین کی آمد کے سبب،وہاں کی بڑی آبادی غریب تھی۔پھر بہت کم عرصے میں وہاں کی غربت دور ہوگئی۔ نہ مال داروں پر قدغن لگائی گئی کہ وہ زیادہ نہ کمائیں، اور نہ غریبوں کو غربت کی فضیلت بتائی گئی کہ وہ اپنی حالت پر قانع ہوجائیں۔ بلکہ قرآنی تعلیمات کے ذریعے ازالۂ غربت کی ایک تحریک برپا کردی گئی۔ اس تحریک کی ذمہ داری مال داروں پر ڈالی گئی کہ وہ زیادہ کماکر ازالۂ غربت کے پروگرام میں زیادہ حصہ لیں۔ ساتھ ہی غریبوں پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ جلد از جلد کوشش و محنت سے غربت کے دائرے سے باہر نکل آئیں۔
یہی اسلامی معاشی نظام کی اہم خصوصیت ہے کہ جس میں دولت کی پیداوار زیادہ بڑھائی جاتی ہے تاکہ غربت کا زیادہ ازالہ ہوسکے۔

اسلام مال دارہونے کی پاکیزہ خواہش پیدا کرتا ہے

قرآن مجید میں زکوٰۃ وانفاق کا مقام اتنا بلند بتایا گیا ہے اور اس کا اتنی کثرت سے ذکر ہے کہ ہر مسلم کے دل میں مال دار بن کر زکوٰۃ دینے اور زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی خواہش کا پیدا ہونا یقینی بات ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ قرآن میں زکوٰۃ دینے والوں کو سماج کے ایک طبقے کی صورت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ مال دار مسلمان زکوٰۃ وصدقات دیں۔بلکہ جو طرزِ خطاب نماز کا ہے وہی زکوٰۃ کا ہے۔ یعنی تمام ایمان والوں کو خطاب کرکے زکوٰۃ وانفاق کے لیے کہا گیا ہے اور تمام ایمان والوں کی تعریف میں یہ بتایا گیا ہے کہ زکوٰۃ وانفاق ان کی امتیازی خوبی ہے۔

وَأَقِیمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ‏ (النور:56)

’’نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رسول کی اطاعت کرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا‘‘

هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِینَ ‎‏ الَّذِینَ یقِیمُونَ الصَّلَاةَ وَیؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ یوقِنُونَ‏ (النمل2:3)

’’ہدایت اور بشارت اُن ایمان لانے والوں کے لیے۔ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں‘‘
اس انداز بیان میں اہم دلالت پوشیدہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے پیش نظر یہی ہے کہ تمام اہل ایمان دولت مند ہوں اور تمام اہل ایمان نماز کے ساتھ زکوٰۃ وانفاق میں حصہ لیں۔
اسلام میں مال داروں اور غریبوں کی مستقل تقسیم نہیں پائی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ زکوٰۃ دینے والے اور کچھ لوگ زکوٰۃ لینے والے ہوں۔ بلکہ اسلام کے پیشِ نظر تو ایسے معاشرے کی حصول یابی ہے جس میں سبھی زکوٰۃ دینے والے ہوں۔ اس مقام پر جب اسلامی معاشرہ پہنچ جاتا ہے تو وہ باقی دنیا کے لیے خیر ورحمت کا سرچشمہ بنتا ہے، اور دیگر سماجوں کی غربت کو دور کرنے میں حصہ لیتا ہے۔

غریبوں سے قرابت والوں جیسا تعلق ہونا چاہیے:

متعدد قرآنی بیانات احسان کی تعلیم کےضمن میں قرابت داروں کے ساتھ غریبوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم دردی ومواسات کے معاملے میں غریبوں کا مقام ومرتبہ قریبی رشتے داروں سے متصل ہی ہے۔

ازالہ غربت کے کچھ خاص انتظامات:

قرآن مجید کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ مال دار ہونے کے ہر وقت میں غریبوں کو یاد رکھنا مطلوب ہے۔ قرآن مال داری کا ایسا تصور دیتا ہے جو غریبوں کی مواسات کے بعد ہی مکمل ہوتی ہے۔
وراثت کی تقسیم کے موقع پر غریبوں کا خیال رکھا جائے

وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْیتَامَىٰ وَالْمَسَاكِینُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا (النساء:8)

’’اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو‘‘
وراثت کی تقسیم کے وقت کچھ لوگوں کو ثروتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ان لوگوں کو اس موقع پر اپنی اس دولت میں سے ازالہ غربت کے لیے حصہ مختص کرنا چاہیے۔

مال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر غریبوں کا خیال رکھا جائے

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَیءٍ فَأَنَّ لِلهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَىٰ وَالْیتَامَىٰ وَالْمَسَاكِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ (الأنفال:41)

’’اور تمھیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُولؐ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے‘‘
جنگ کے موقع پر جو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے، پرانی روایت یہ تھی کہ اس کے حق دار وہ لوگ ہوتے جو جان کی بازی لگاکر جنگ میں حصہ لیتے ۔ تاہم اسلام نے اس میں یہ تبدیلی کی کہ اس کا بیسواں حصہ ازالہ غربت کے لیے مختص کردیا۔

فصل کی کٹائی کے وقت غریبوں کا خیال رکھا جائے

كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ یوْمَ حَصَادِهِ وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا یحِبُّ الْمُسْرِفِینَ(الأنعام141:)

’’کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب اس کی فصل کاٹو‘‘
فصل کھیت کی ہو یا باغ کی، جب کٹائی کا وقت آتا ہے تو یہ کاشت کار کے دولت مند ہونے کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں انھیں یاد دلایا گیا کہ اللہ کی طرف سے بخشی گئی اس دولت میں سے غریبوں کو ان کا حق دیاجائے۔ سورۃ القلم میں ان لوگوں کا حشر بیان کیا گیا ہے جو باغات کے مالک تھے مگر اللہ کے ساتھ کفر کرتے اور غریبوں کا حق دینے سے گریز کرتے ۔

جانوروں کی قربانی کے وقت غریبوں کا حصہ نکالا جائے۔

فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرّ‏ (الحج:36)

’’اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور اُن کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں‘‘
حج اور قربانی کے موقع پر بڑی تعداد میں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ گوشت کی صورت میں ایک دولت وجود میں آتی ہے۔ اس میں غریبوں کا حصہ الگ کرنا ازالہ غربت میں معاون ہوتا ہے۔

سماج میں دولت کے سوتوں کا رخ مستقل طور پر غریبوں کی طرف رہے

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِیلِ فَرِیضَةً مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَكِیمٌ ‎ (التوبۃ:60 )

’’یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے‘‘
اوپر ذکر کیے گئے خاص مواقع کے علاوہ ازالہ غربت کے لیے زکوٰۃ کا مستقل چشمہ جاری کیا گیا۔ اس آیت میں فقرا اور مساکین دونوں کو ذکر کرکے یہ بتایا ہے کہ زکوٰۃ وصدقات کا رخ اصل میں ازالہ غربت کی طرف ہونا چاہیے۔

مال عام کا رخ غریبوں کی طرف ہونا چاہیے

مَا أَفَاءَاللهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَىٰ وَالْیتَامَىٰ وَالْمَسَاكِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ كَی لَا یكُونَ دُولَةً بَینَ الْأَغْنِیاءِ مِنكُمْ (الحشر:7)

’’جو کچھ بھی اللہ اِن بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے ‘‘
اس آیت میں مال فیء کا ذکر ہے۔یہ دشمن کا وہ مال غنیمت ہے جو وہ جنگ کیے بغیر اپنے پیچھے چھوڑ کر چلا جائے۔ اس کے حصول میں کسی کی محنت شامل نہیں ہوتی ہے۔ اس کی حیثیت مال عام کی ہوتی ہے۔

اور اس مال عام کے ترجیحی مستحقین یتیموں مسکینوں اور بے گھروں کو قرار دیا گیا ہے۔
مال فیء کے سلسلے میں قرآن کی اس تعلیم نے مال عام کے سلسلے میں اسلامی موقف کو واضح کردیا ہے۔ اور وہ یہ کہ ریاست میں موجود مال عام کو ترجیحی طور پر ازالہ غربت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اگر یہ نہ کریں تو دولت کچھ مال داروں کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جائے گی۔ دولت کو مال داروں کے ہاتھوں میں سمٹنے سے روکنے کی سب سے موثر تدبیر یہ ہے کہ مال عام پر ان کی اجارہ داری قائم نہ ہونے دی جائے اور انھیں ترجیحی طور سے غریبوں کے رفاہ وبہبود کے لیے خاص کیا جائے۔
مثال کے طور پر کسی ریاست میں معدنیا ت کے ذخائر ہیں تو ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا رخ ریاست کے غریبوں کی طرف رہے۔ ان کی مساوی تقسیم کے بجائے عادلانہ تقسیم کی جائے۔
تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ مال عام پر مال داروں کے تسلط کی وجہ سے ہی دولت کے بڑے عفریت وجود میں آتے ہیں۔
مال عام کی مساوی تقسیم کافی نہیں ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مال عام کی منفعت کا رخ ترجیحی طور پر غریبوں کی طرف ہونا چاہیے۔

ازالہ غربت میں حصہ لینا فرد کی ذمہ داری ہے

ازالہ غربت کے مقصد کا حصول نہایت اہم اور ضروری ہے۔ اس لیے اسے ریاست کی ذمہ داری قرار دینے سے پہلے فرد کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ چناں چہ اگر کہیں اسلامی ریاست قائم ہے تو وہاں ریاست کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ریاست کے وسائل اور افراد کی اعانتوں کو منظم کرکے ازالۂ غربت کے لیے استعمال کرے۔ لیکن اگر کہیں اسلامی ریاست قائم نہیں ہے تو وہاں افراد اپنی سطح پر انفرادی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے غربت کے ازالے کی اپنی ذمہ داری اداکریں گے۔ فرمایا گیا:

وَفِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ (الذاريات:19)

’’اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے‘‘

وَالَّذِینَ فِی أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ‎لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ

(المعارج: 24، 25)
’’جن کے مالوں میں، سائل اور محروم کا ایک حق مقرر ہے‘‘

غریب بھی ازالۂ غربت میں حصہ لیں:

ازالۂ غربت کا مشن اتنا اہم ہے کہ اسے صرف مال داروں کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ غریبوں کو بھی تاکیدی ترغیب دی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو اس میں حصہ لیں۔

وَیؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر:9)

’اور وہ اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں‘‘
اللہ کے رسول ؐ نے حضرت عائشہ سے کہا: آگ سے بچنے کا سامان کرلو، خواہ آدھی کھجور سے، کہ وہ بھی بھوکے کی کچھ بھوک مٹادیتی ہے۔ (مسند احمد)
اللہ کے رسولؐنے فرمایا: جس کے پاس سفر کا کھانا پانی ضرورت سے زیادہ ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس سفر کا کھانا پانی ہی نہ ہو۔ (مسلم)

ازالۂ غربت میں حصہ داری رب سے وفاداری ہے

لَّیسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِیینَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِی الْقُرْبَىٰ وَالْیتَامَىٰ وَالْمَسَاكِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَأْسَاءِوَالضَّرَّاءِوَحِینَ الْبَأْسِ أُولَٰئِكَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ(البقرۃ:177)

’’وفاداری یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ وفاداری یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔‘‘
اس آیت میں پہلے ایمان کا تفصیلی ذکر ہے پھر صدقات کا تفصیلی ذکر ہے ۔ گویا ایمان کا یہ عین تقاضا ہے کہ مال کی خواہش رکھنے کے باوجود اسے مذکورہ لوگوں پر خرچ کیا جائے۔
اس کے بعد دوبارہ اقامت نماز کے ساتھ زکوٰۃ دینے کا ذکر ہے۔ گویا نماز کا یہ حق ہے کہ زکوٰۃ اس کی رفیق رہے۔
یہ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ اہل ایمان کے پاس دولت ہوتی ہے تو وہ غریبوں پر خوب خرچ کرتے ہیں اور شدید ناداری گھیر لیتی ہے تو صبر کرتے ہیں۔

غربت کے سلسلے میں اپنا موقف طے کریں:

ازالہ غربت کی فکر ایک شعوری فیصلے کے تحت انسانی رویے کا حصہ بن جائے ۔اپنے اخراجات کا دائرہ ضرورتوں تک محدود کرکے غریبوں کی معاشی مدد کی جائے۔کسی بھی مد میں خرچ کرتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ یہاں خرچ کرنا زیادہ سود مند ہے یا کسی غریب کو دینا۔ یہ موازنہ اعتدال کے ساتھ ہو کہ اپنی اور اہل خانہ کی ضروریات کی طرف سے غفلت نہ ہو، لیکن اس طرح کا موازنہ کرتے رہنا ضروری ہے، ورنہ آدمی عیشِ زندگی کے آگے فرضِ زندگی بھول جاتا ہے ۔

ازالۂ غربت کی تحریک برپا کریں:

قرآن مجید میں ’حض‘ یعنی اکسانے اور ترغیب دینے کا ذکر صرف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے سلسلے میں آیا ہے۔ درج ذیل تینوں آیتوں پر غور کریں:

وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِینَ (المدثر:44)

’’اور وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے‘‘

وَلَا یحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِینِ (الحاقۃ:34)

’’اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا‘‘

وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِینِ (الفجر:18)

’’اور تم مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے‘‘
پہلی آیت میں مشرکین کا جر م یہ بتایا گیا کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے، دوسری آیت میں ان کا جرم یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر اکساتے نہیں ہیں۔ اور تیسری آیت میں ان کا جرم یہ بتایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کو اس کے لیے اکساتے نہیں ہیں۔ معلوم ہوا کہ اسلام یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ آدمی مسکین کو کھانا خود کھلائے، دوسروں کو اس پر اکسائے اور ایسا معاشرہ تیار ہو جس میں سب ایک دوسرے کو اس پر اکسائیں۔ اس طرح پورا سماج قولی اور عملی دونوں پہلو سے ازالۂ غربت کے لیے متحد وکمر بستہ ہوجائے۔
ظاہر ہے جہاں یہ کیفیت پیدا ہوجائے وہاں غربت کے باقی رہ جانے کا کوئی سوال نہیں۔

ازالۂ غربت کے لیے شعور و آگہی ضروری ہے:

غریبوں کے اندر کمانے کا شوق پیدا کیاجائے۔ اس کے راستے دکھائے جائیں۔ کونسلنگ کے پروگرام ہوں۔ اللہ کے رسول ؐنے فرمایا:
’’تم میں سے کوئی اپنی رسیاں لیں، پہاڑ پر جائے، اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا بوجھ لاد کر لائے، اسے بیچے، اور اس کی قیمت سے اپنی ضروریات پوری کرے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، وہ اسے دیں یا منع کردیں۔‘‘(بخاری) مزید فرمایا:
’’اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا کسی نے نہیں کھایا، اللہ کے نبی داود اپنے ہاتھ کی محنت کا کھانا کھاتے تھے۔‘‘ (بخاری) یہ بھی فرمایا: ’’تم میں سے کسی کے لیے رزق کا کوئی دروازہ کھل جائے تو وہ اسے تھامے رہے، چھوڑے نہیں۔‘‘ (بیہقی)
٭ غریبوں کے اندر صحیح جگہ خرچ کرنے کا شعور پیدا کیاجائے۔ (اس وقت بڑی تجارتی کمپنیوں کے ذریعے غریبوں کے اندر بھی اسراف کو فروغ دینے کی مہم چلائی جارہی ہے۔)
٭ ان رسومات وتقریبات کے چنگل سے غریبوں کو باہر نکالا جائے جن میں پھنس کر غریب مزید افلاس اور قرضوں میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
٭ بدلتے ہوئے حالات اور مستقبل کی متوقع تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے، اور سماج کو غربت کے چنگل میں پھنسنے سے قبل از وقت متنبہ کیا جائے۔
٭ صنعت وتجارت کے قدیم وفرسودہ طریقوں کے بجائے جدید اور زیادہ کارآمد طریقوں کی طرف متوجہ کیا جائے۔
٭ روزگار فراہم کرنے کی مقامی اسکیمیں اور پروگرام بنائے جائیں۔ محلے،گاؤں، شہر اور ضلع کی سطح پر مہمات منائی جائیں۔
پیشوں سے جڑے ہوئے اونچ نیچ کے تصور ات کو ختم کیا جائے۔ ہر جائز پیشے کو قدر واحترام کی نظر سے دیکھا جائے۔
٭ ایک دن بھی بے روزگار رہ جانے کو خطرناک قرار دیا جائے۔
(قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے، قطرے رک جائیں تو دریا سوکھ جاتا ہے۔)
٭ سماج میں ان نمونوں کی ستائش کی جائے جومحنت اور جدوجہدکے ذریعے غربت سے باہر نکلنے میں کام یاب ہوئے۔محض مال دار لوگوں کو آئیڈیل بنانے کے بجائے، محنت اور ایمان داری سے دولت کمانے والوں اور اپنی اور سماج کی حالت بدلنے والوں کو آئیڈیل بنایا جائے۔
٭ مال دار بننے کی خواہش اور مال داری کی اندھا دھند مسابقت میں شرکت کی خواہش، دونوں میں فرق ہے۔ پہلی خواہش مثبت اور تعمیری ہے جب کہ دوسری خواہش منفی اور تخریبی ہے۔پہلی خواہش تعمیر زمین کے لیے ضروری ہے اور دوسری خواہش کے نتیجے میں فساد فی الارض رونما ہوتا ہے۔
٭ بغیر محنت کے راتوں رات مال دار بننے اور آسان راستوں سے دولت مند بننے کے رجحانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ایسے رجحان لوگوں کو اپنی پونجی غلط جگہ ڈبودینے پر اکساتے ہیں۔ ایسے شوق رکھنے والے لوگ ہی زیادہ تر دھوکہ بازوں کے شکار بنتے ہیں۔
٭ جب غربت سے لوگ پریشان ہوتے ہیں تو ان کو فریب دینے والے لوگ زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف بہانوں سے بہت کم پیسے لے کر دولت مند بنادینے کا جھانسا دیتے ہیں۔ اور غریب کی رہی سہی پونجی بھی اچک لے جاتے ہیں۔ اس لیے ایسے عیاروں سے ہوشیار کرنا بھی سماج کی خدمت ہے۔·
٭ غریب شخص بسا اوقات اپنی کچھ جائیداد فروخت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ عام بات ہے کہ مجبوری کی حالت (Distress Sale) میں قیمت فروخت کم ہوجاتی ہے۔ لیکن اس استحصالی اور خود غرضانہ مزاج کے مقابلے میں خیرخواہی اور غریب نوازی کا مزاج عام کیا جائے، اور اس بات کو رواج دیا جائے کہ سماج کا کوئی غریب جب اپنی جائیداد مجبوری میں فروخت کرے تو اس سے زیادہ سے زیادہ قیمت پرخریدا جائے۔ پہلی کوشش تو یہی ہو کہ اسے اپنے اثاثے بیچنے نہ پڑیں اور اس کے بغیر ہی اس کا کام چل جائے۔
٭ عام مزاج یہ ہے کہ غریبوں کو ان کی اجرت دیتے ہوئے یا ان سے سامان خریدتے ہوئے آدمی زیادہ مول بھاؤ کرتا ہے اور سختی سے پیش آتا ہے، جب کہ بڑے شوروم اور شاپنگ سینٹر میں جاکر بغیر مول بھاؤ کے بہت مہنگی قیمتیں ادا کرتا ہے ۔ حالاں کہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے، غریبوں اور کم پونجی والوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رعایت کی جائے تاکہ ان کی مدد اور حوصلہ افزائی ہو۔

کورونا کے زمانے میں ہماری ذمہ داری

سب سے پہلے اس بات کا احساس ضروری ہے کہ ہمارا ملک غربت کے ہول ناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پہلے سے گرتی معیشت کورونا کے نتیجے میں بہت زیادہ گرچکی ہے اور اندیشہ ہے کہ اس سے زیادہ شدید گراوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔
ایسے میں اگر ازالہ غربت کی زبردست سماجی تحریک برپا نہیں کی گئی اور صورت حال کو بگڑنے سے بچانے کی ٹھوس تدابیر نہیں کی گئیں تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔

اجتماعی طور پر کرنے کے کام

کورونا کی اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ ملک میں موجود جماعتیں، طلبا اور نوجوانوں کی تنظیمیں، این جی اوز کو اس کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز پروگرام بنانے چاہیئں۔ اس کے علاوہ محلہ،مقام اور ضلع کی سطح پر بھی خاص اس مقصد کے لیے گروپوں کی تشکیل کی جانی چاہیے۔ضروری ہے کہ ان اجتماعی کوششوں میں ملک کے تمام طبقوں کو شامل کیا جائے۔
٭ حکومت کو توجہ دلائی جائے۔آئینی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ پر دباؤ بنایا جائے کہ وہ غیر ضروری مدات میں بڑی رقمیں صرف کرنے کے بجائے ترجیحی طور پر اپنی توجہ کورونا سے متاثر افراد اورخاندانوں کی بہبود پر مرکوز کرے۔
٭ مقام اور ضلع کی سطح پر اس بات کی نگرانی کی جائے کہ جو فنڈ کورونا سے متاثرین کے لیے مختص کیے گئے ہیں وہ صحیح جگہ صرف ہوں۔ اس کے لیے قانونی حدود میں رہتے ہوئے مانیٹرنگ گروپ بنائے جائیں۔
٭ متاثرین کو ایسی سرکاری اور غیر سرکاری اسکیموں سے واقف کرایا جائے، جو ان کی مدد کے لیے جاری کی گئی ہیں۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ جانکاری یا رابطہ نہیں ہونے کی وجہ سے مستحق افراد فائدہ نہیں اٹھاپاتے ہیں۔
(ابھی حال میں ایس آئی او نے کورونا کے مریضوں کے لیے کال سینٹر کا شان دار تجربہ کیا، جس کے ذریعے مریضوں کو مطلوبہ طبی سہولیات کی خبر دی جاتی تھی کہ وہ فی الوقت کہاں دستیاب ہیں۔اسی طرح کے تجربات کورونا کے حالات سے معاشی طور پر متاثر ہونے والوں کو مختلف اسکیموں سے باخبر کرنے کے لیے بھی کیے جاسکتے ہیں۔)
٭ اجتماعی بیت المال قائم کیے جائیں اور ان کے ذریعے غریبوں کی اعانت کی جائے۔ اجتماعی بیت المال کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر ان کی مدد کی جاسکتی ہے، نیز ان کے لیے مستقل آمدنی کے انتظامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔
مکمل آبادی کا سروے کیا جائے۔موجودہ طرز معاشرت میں جب تک ہر شخص سے مل کر اس کے احوال معلوم نہ کیے جائیں بہت مشکل ہے صحیح صورت حال سے واقف ہونا۔ اس لیے آبادی کا سروے کرنا اور اطمینان بخش معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔
٭ جو لوگ ان حالات سے متاثر ہوئے ہیں، وہ بھی مقامی تنظیموں کو اپنے احوال سے باخبر کریں۔ حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے اور یہ ایک طرح سے ان کی طرف سے تعاون تصور کیا جائے گا۔
٭ اس پر انحصار نہ کیا جائے کہ متاثر شخص خود اپنی غربت کی خبر دے، بلکہ اگر کوئی دوسرا فرد اس کے بارے میں جانتا ہو تو وہ خود آگے بڑھ کر باخبر کرے۔ بسا اوقات متاثر شخص شرم یا جھجک کی وجہ سے اپنی حالتِ زار بیان نہیں کرپاتا ہے یا وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ خود اپنے بارے میں بتاسکے۔
٭ ازالہ غربت کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کو بڑے پیمانے پر عام کیا جائے۔ خطابِ عام، خطبات جمعہ، آن لائن تقاریر، ویڈیو اور پوسٹروں کا استعمال کیا جائے۔
٭ ایسی اسٹوری ویڈیو بنائی جائیں جو لوگوں کے دلوں کو نرم کریں، ان کے اندر غریبوں سے ہم دردی کو جگائیں اور انفاق کا جذبہ ابھاریں۔
٭ ہر مقام کے اہلِ ثروت سے خصوصی طور ملاقاتیں کرکے انھیں متاثرین کی صورتِ حال سے باخبر کیا جائے اور اسلامی تعلیم سے انھیں آگاہ کیا جائے۔
٭ غیر مسلم اہل ثروت کو بھی اس کی طرف متوجہ کیا جائے، اور ان کے سامنے بھی اس سلسلے کی اسلامی تعلیمات کو پیش کیا جائے۔
٭ اگر کسی مقام کے تمام اہل ثروت مل کر اس مقام کے متاثرین کی حالت بہتر بنانے کی ذمہ داری قبول کرلیں اور اس کے لیے ان کے درمیان ایک اجتماعی نظم قائم ہوجائے تو یہ بہت مفید ہوسکتا ہے۔ دینی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کو اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

اہل ثروت کی ذمہ داری

کورونا سے پیدا ہونے والے حالات حقیقت میں اہل ثروت کے لیے امتحان ہیں، کہ وہ اس خاص موقع پر اپنی ذمہ داری کو کس قدرادا کرتے ہیں۔ انھیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ صدقے سے مال کم نہیں ہوتا ہے۔(ترمذی) انھیں اس بات کا بھروسا ہونا چاہیے کہ اللہ ہی رازق ہے اور وہی بہترین رازق ہے:

قُلْ إِنَّ رَبِّی یبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن یشَاءُمِنْ عِبَادِهِ وَیقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَیءٍفَهُوَ یخْلِفُهُ وَهُوَ خَیرُ الرَّازِقِینَ‏ (سبا39:)

’’کہو، “میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے‘‘ انھیں یہ بھی یقین ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے جو بھی خرچ کریں گے اللہ تعالی اس کا اتنا زیادہ اجر دے گا کہ وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔

مَن ذَا الَّذِی یقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِیرَةً وَاللهُ یقْبِضُ وَیبْسُطُ وَإِلَیهِ تُرْجَعُونَ‏ (البقرۃ245:)

 ’’تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اُسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی، اور اُسی کی طرف تمھیں پلٹ کر جانا ہے۔‘‘
اہل ثروت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ حالات سے متاثر خاندانوں کی کفالت کے لیے میدان میں اتریں۔
٭ اہل ثروت اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اعانت صحیح مقامات تک پہنچ رہی ہے۔ اس کے لیے انھیں خود عملی طور پر اس کام میں شریک ہونا چاہیے۔
٭ کورونا سے متاثر غریبوں کی مدد کرتے ہوئے دو پہلوؤں پر ایک ساتھ توجہ دی جائے، پہلی چیز یہ کہ ان کی فوری ضرورت (جیسے کھانا کپڑا اور دوا علاج، تعلیمی فیس وغیرہ) کی تکمیل ہوجائے، اور دوسری چیز یہ کہ انھیں مستقل روزگار کا کچھ سامان مل جائےجیسے سلائی مشین، مویشی وغیرہ۔
درج ذیل روایت میں ہمیں اس کی عمدہ مثال ملتی ہے:
ایک مرتبہ ایک شخص نبی ؐ کے پاس مانگنے آیا، آپ نے کہا:
کیا تمھارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں،ایک چٹائی ہے جس کا کچھ حصہ بچھاتے اور کچھ حصہ اوڑھ لیتے ہیں، اور پیالہ ہے جس میں پانی پیتے ہیں، آپ نے کہا: دونوں میرے پاس لے آؤ، وہ لے آیا،
آپ نے دونوں چیزیں لیں اور کہا:
ان دونوں کو کون لے گا، ایک آدمی نے کہا:
میں ایک درہم میں لوں گا، آپ نے دو یاتین بار کہا ایک درہم سے زیادہ میں کون لے گا، ایک آدمی نے کہا میں دو درہم میں لے لوں گا، آپ نے وہ دونوں چیزیں اسے دیں اور دونوں درہم اس شخص کو دے دیے، اور اس سے کہاایک درہم سے کھانے کی چیزیں خرید کر اپنے گھر دے آؤ اور ایک درہم سے کلہاڑی کا پھل خرید کر میرے پاس لاؤ، وہ لے آیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ لگایا، پھر اس سے کہا، جاؤں لکڑی کاٹ کر بیچو، اور میں تمھیں پندرہ دن تک نہیں دیکھوں۔ وہ آدمی گیا اور لکڑی کاٹ کر بیچنے لگا، پھر جب وہ آیا تو دس درہم کماچکا تھا، جس سے کپڑے اور کھانے کی اشیا خرید لی تھیں، تب اللہ کے رسولؐ نے کہا:
یہ اس سے بہتر ہے کہ تم قیامت کے دن اس حال میں آؤ کہ بھیک مانگنے کا نشان تمھارے چہرے پر ہو۔ بھیک مانگنا ان تین کے علاوہ کسی کے لیے درست نہیں ہے:
جو فاقے سےبدحال ہو، یا قرضے میں دبا ہوا ہو یا خوں بہا ادا کرنے کے لیے پریشان ہو۔ (ترمذی)
اللہ کے رسولؐ نے اس کی پونجی کو منگایا، اس کے بدلےدگنی سے زیادہ قیمت اسے دلائی، پھر اس سے گھر میں کھانے کا انتظام بھی کیا اور مستقل کمانے کا انتظام بھی کیا۔ کیسے کمائے، اس کے سلسلے میں مشورہ بھی دیا جسے آج ہم کیریر یا روزگار کی کونسلنگ کہتے ہیں۔
٭کورونا سے پیدا ہونے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے زکوٰۃ پر اکتفا نہ کرکے زیادہ سے زیادہ صدقات پر بھی توجہ دی جائے۔ اس کی گنجائش فقہ میں موجود ہے کہ ضرورت پڑنے پر انسان سال پورا ہونے سے پہلے پیشگی زکوٰۃ ادا کردے، بعد میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا اصل وقت آنے پر اس کا حساب کرلے۔ اس لیے بعض علمانے موجودہ صورت حال سے فوری نمٹنے کے لیے آنے والے کچھ برسوں کی پیشگی زکوٰۃ ابھی نکالنے کی اجازت دی ہے۔
لیکن یہ کافی نہیں ہے۔اندیشہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایسے صاحب نصاب لوگوں کی تعداد کم ہوجائے جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تاہم صدقات کا دروازہ تو سب کے لیے کشادہ کھلا ہوا ہے۔ بہت تھوڑا تھوڑا مل کر اچھا خاصاہوسکتا ہے۔ اور اس میں اگر کچھ دریا دل انسانوں کا بہت زیادہ بھی شامل ہوجائے تو شدید ترین بحران کا سامنا آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ حضرت عثمان غنیؓنے اس کی خوب صورت مثال پیش کی:
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ خلافت میں بارش نہ ہونے سے شدید قحط پڑگیا،اسی دوران حضرت عثمان ؓکا تجارتی قافلہ ملک شام سے لوٹ کر آیا اس میں غلے سے لدے سو اونٹ تھے۔ لوگ حضرت عثمانؓ کے دروازے پر جمع ہوئے، دروازے پر دستک دی، حضرت عثمانؓ باہر نکلے، لوگوں کا مجمع تھا، انھوں نے کہا کیا چاہتے ہو؟ وہ کہنے لگے:
قحط کا زمانہ ہے، آسمان سے بارش نہیں ہوتی اور زمین میں کچھ اگتا نہیں، لوگ نہایت سخت حالات سے دوچار ہیں، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس غلہ ہے، اسے ہمیں فروخت کردیں تاکہ ہم محتاج مسلمانوں کے لیے راحت کا سامان کریں، حضرت عثمانؓ نے کہا: تاجرو ! بتاؤ میں نے جتنے میں شام سے خریدا ہے اس پر کتنا نفع دے کر خریدو گے، انھوں نے کہا دس پر بارہ، حضرت عثمانؓ نے کہا مجھے تو اس سے زیادہ کی پیش کش ملی ہوئی ہے، تاجروں نے کہا تب دس پر پندرہ، انھوں نے کہا مجھے اس سے بھی زیادہ کی پیش کش ملی ہوئی ہے، تاجروں نے کہا: حضرت مدینے کے سارے تاجر تو یہاں جمع ہیں آپ کو کس نے اس سے زیادہ کی پیش کش کی ہے؟ حضرت عثمانؓ نے کہا میرے رب نے ہر درہم پر دس درہم کا وعدہ کیا ہے، تم اس سے زیادہ دے سکوگے؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ تو ہمارے بس میں نہیں ہے۔ تب حضرت عثمانؓ نے کہا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہو ں کہ میں نے یہ سارا غلہ غریب مسلمانوں کے لیے صدقہ کردیا ہے۔ (کتاب: الرقة والبكاء، ابن قدامة)
اللہ کے فضل سے ملت میں صاحب ثروت مسلمانوں کی کمی نہیں ہے، ایسے میں اگر انھیں حضرت عثمانؓ والی سخاوت وفیاضی بھی کچھ حاصل ہوجائے تو صورتِ حال میں بہت بہتری آسکتی ہے۔
غریبوں کے لیے کھیت اور باغات کی آمدنی نیز جائیدادوں کا کرایہ وقف کرنا بھی موجودہ صورتِ حال میں مددگار ہوسکتا ہے۔ بعض فقہا کے نزدیک چند برسوں کے لیے بھی انھیں وقف کیا جاسکتا ہے تاابد وقف کرنا ضروری نہیں ہے۔

عام افرادکی ذمہ داری:

٭ یاد رہے کہ غریبوں کی مدد کرنے کے لیے مال دار ہونا شرط نہیں ہے، اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے، اسی میں غریبوں کی مدد کرکے آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ بسا اوقات ایمانی جذبے کی بدولت متوسط آمدنی والے بڑے دولت مندوں سے زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔
٭ متاثرین کی مدد کے لیے عام افراد انفرادی طور پر جتنی زیادہ مدد ہوسکےضرور کریں، ساتھ ہی وہ سماج میں موجود تین فطری اجتماعی اداروں کو اس مدد میں شریک کرنے کی کوشش بھی کریں۔ پہلا ادارہ خاندان کا ہے، خاندان کا کوئی فرد متاثر ہو تو آپ پورے خاندان کو اس کی مدد کے لیے تحریک دیں۔ دوسرا ادارہ محلے اور پڑوس کاہے، محلے میں کوئی فرد متاثر ہو تو پورے محلے میں اس کی مدد کی تحریک چلائیں۔ تیسرا ادارہ ساتھیوں کا ہے، کسی بھی میدان کا ایک ساتھی اپنے تمام ساتھیوں کو اپنے متاثر ساتھی کی مدد پر اکسائے۔(سورۃ النساء آیت نمبر 36) اس سلسلے میں خصوصی رہ نمائی کرتی ہے۔
٭ اگر آپ کے علم میں کوئی ضرورت مند ہے تو اس کی خود بھی مدد کریں اور مدد کرنے والے افراد اور اداروں سے اس کا ربط کرائیں۔ یہ بھی اس کی مدد کرنے میں شامل ہے۔
٭ بڑے شو روم اور آن لائن خریداری کے بجائے، حتی الامکان چھوٹے دکان داروں سے سامان خریدیں۔ لاک ڈاؤن کے طویل عرصے میں ان کی دکانیں بند رہیں، اب ان کی دکانیں کھلی ہیں تو ان کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے۔
محنت کرنے والوں کو بھرپوراجرت دیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران انھیں طویل عرصے تک کام نہیں ملا۔ اب انھیں موقع ملا ہے تو ان کی دل جوئی کے لیے انھیں اچھی اجرت دینی چاہیے۔

آخری بات
یک بارگی کے بجائے تسلسل زیادہ مفید ہے

غریبوں اور حاجت مندوں کی مدد کے سلسلے میں ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ امداد پہنچاکر انھیں یکسر بھول جانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ امداد پہنچانے اور خبر گیری کرنے کا عمل بار بار انجام دیا جائے۔ اس سے مضبوط تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ غریب کو تسلی ہوتی ہے کہ اس کی مستقل خبرگیری کرنے والے موجود ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ خلیفہ بننے سے پہلے بھی اور خلیفہ بننے کے بعد بھی بعض غریب گھروں کی مستقل چارہ گری کرتے تھے۔ آپ کے لیے پھر اس کا بھی موقع ہوتا ہے کہ اس کی اور اس کے گھر والوں کی اصلاح کے لیے بھی کچھ کرسکیں۔وہ آپ کو اپنا خیرخواہ سمجھ لیں گے تو آپ پر بھروسا کریں گے، آپ کا احترام کریں گے اور آپ کی باتوں کو توجہ سے سنیں گے۔
٭ ٭ ٭

توحید سے غفلت مادہ پرستی کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتی ہے۔ مادہ پرستی کے نتیجے میں غریبوں کو لوٹنے بلکہ ان کے خون کا آخری قطرہ تک چوس لینے کا داعیہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے حس، بے ضمیر اور خود غرض سماج تیار ہوتا ہے۔توحید کی اسلامی دعوت مادہ پرستی کو ختم کرتی ہے، اور ہم دردی کے روحانی جذبات کو فروغ دیتی ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱