غزل

کیا تشفی بوند سے ہو گی سمندر دیکھ کر
کشمکش میں پڑ گئے ہم چشم و ساغر دیکھ کر

بت پرستی عین کعبے میں کوئی کرتا رہا
کوئی لے آیا ہے ایماں، دست آزر دیکھ کر

جب زمانے کو پڑھانے سے ذرا فرصت ملی
کچھ پشیماں ہو گئے ہیں اپنے اندر دیکھ کر

قہقہے تھے، زندگی تھی اور آتشدان تھا
ہم ترستے رہ گئے کھڑکی سے منظر دیکھ کر

کھینچنا قدموں تلے سے فرش کا تھا لازمی
پاؤں ہم رکھتے تھے دنیا میں بھی اوپر دیکھ کر

یوں ہی اپنے ناز نخروں کے فسانے بن گئے
جب کہ ہم خاموش تھے لوگوں کو برتر دیکھ کر

اس پذیرائی کا ہم کو خود بھی اندازہ نہ تھا
آئے ہیں دیوار و در کتنے ہی بے گھر دیکھ کر

۲۰۲۱ ستمبر