فلسطینی شال
زیر نظر فلسطینی شال کی تصویر میں زیتون کے پتے جو جہدِ مسلسل اور استقامت کی علامت ہیں۔ جو اتنے کڑوے ہیں کہ کوئی انھیں چبا نہیں سکتا۔چبا لے،تو ہضم نہیں کر سکتا۔ہاں مگر اس کا قہوہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔جو ان پتوں کے سائے میں پل کر جوان ہوئے وہ کیسے اپنا وطن اپنے ہاتھوں کسی کو ہدیہ کر دیں۔ پھر یہ مچھلی پکڑنے کا جال بھی تو ہے۔ جو دریاؤں سے گوشت کے واسطے مچھلی اور گہنوں کے واسطے موتیوں والے سیپ نکالنے میں معاون ہوتے ہیں۔ یہ جال دراصل بحر روم اور فلسطینی ماہی گیروں کے درمیان رابطے کا تاثر دیتا ہے۔ اور یہ جو حاشیے ہیں یہ سرحدیں ہیں۔ان سرحدوں کی حفاظت غزہ پٹی اور مغربی کنارے پر رہنے والوں سے بہتر کون جان سکتا ہے؟جن کا لہو ہی ان سرحدوں کا محافظ ہے۔ یہ حاشیے تجارتی راستوں کا پتہ دیتے ہیں جہاں سے قافلے اور کاروان گزرتے تھے اور سیاحتی داستانوں کی راہیں یہاں سے نکلتی تھیں۔ یہ سب ایک تاریخی حوالہ ہے۔ ان سب نقوش کی حامل فلسطینی شال کیا آپ اپنے کندھے پر سجانا چاہیں گے؟ یہ صرف ایک کپڑا نہیں ایک تہذیب کا نمائندہ نشان ہے۔ وہی تہذیب جسے صیہونی بہ زور بازو و باردو مٹا کر اپنا رنگ اپنا ڈھنگ دینا چاہتے ہیں ۔ اس شال سے فی الحال آنسو اور لہو پونچھا جا رہا ہے۔ یا پھر کسی زخم پر باندھنے کا کام لیا جا رہا ہے۔
جون ۲۰۲۱