قائد عصر

شکوۂ تمنا رنج و غم اس جہاں کے پیچ و خم
ہو جسے دردِ جہاں گل سے لے وہ چشم ِ نم
ہو جسے مقصد عزیز کر رہے وہ دل بہم
دل ہو مثل پرنیاں حرف الفت ہو رقم

ہر ریا سے پاک ہو اس کا دل مثلِ حرم
ہو بصیرت پردۂ سوز اس کا دل ہو جام جم
ہو نگہ آفاق پر پر فشاں اس کا قلم
اس کا نغمہ کھول دے ساز کا سب زیر و بم

روشنی ماضی سے لے عصر سے آگے قدم
اک نئی دنیا کا شوق جستجو میں دم بہ دم
میکدہ آباد ہو سب پہ ہو لطف و کرم
جب اندھیری رات ہو بے خطر اس کا قدم

خوں بہ داماں راستے ہر جگہ اس کا علم
ہو جدا اس کا سلوک ہنس کے سہتا ہو ستم
تند دریا کی طرح تیز رو اس کا قدم
اور سورج کی طرح ہو نفس اس کا گرم

ہو شگفتہ مثل گل اس کا چہرہ تازہ دم
سست رو شبیر ہے تیز ہے اس کا قلم

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر