قضیئہ فلسطین اور تحریکِ آزادی بیت المقد س
15‌‌ مئی۔ یوم نقبہ کی مناسبت سے

بیت المقدس سے ہر مسلمان کا قلبی تعلق ہے اور ہونا بھی چاہئے۔یہ مقدس ترین مقامات میں سے ایک مقام ہے یہ وہی مقام ہے جہاں رسول اللہ ؐنے سفر معراج پر پہلا پڑاؤ کیا۔افسوس! صد افسوس! آج نسلِ نو قضیۂ فلسطین سے تقریباً نابلد ہے۔
1300 قبل مسیح میں یہودی وہاں رہنے والی اقوام کی نسل کشی کر کے زبردستی آباد ہوئے۔ 8 قبل مسیح میں اسیریا نے فلسطین پر قبضہ کیا یہودیوں کو وہاں سے نکال کر دوسری اقوام کو لا بسایا جو نسلاً عربی تھیں۔
یہ قوم شروع سے ہی در بدر ہوتی رہی ہے، فلسطین پر انکا پہلا قبضہ نسل کشی کے ذریعہ ظالمانہ تھا جبکہ عرب یہاں ایک مفتوح قوم کی حیثیت سے پہلے سے ہی بس رہے ہیں۔
فلسطین پر یہودیوں کا دعویٰ ہیکلِ سلیمانی کی بنیاد پر ہے جسے 10 قبل مسیح میں حضرت سلیمانؑ نے تعمیر کرایا تھا۔اس وجہ سے انکا دعویٰ ہے کہ ’’خدا نے یہ ملک انکی میراث میں دے دیا ہے‘‘ اس لئے انہیں حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کے اصل باشندوں کو بے دخل کر کے بلکہ انکی نسل کو مٹا کر اس پر قابض ہو جائیں۔ اپنے اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے یہودیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے فلسطین اور بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لئے کام کیا ہے۔
اس کے لئے انہوں نے ایک تحریک شروع کی کہ مختلف علاقوں سے یہودی ہجرت کر کے فلسطین میں جا کر آباد ہوں اور وہاں زمین خریدنا شروع کر دیں۔ 1880 سے مہاجرت کا یہ سلسلہ شروع ہوا، 1897 میں اس کاز کے لئے باقاعدہ Zionist movement نام سے ہرتزل نامی یہودی لیڈر نے تحریک شروع کی۔1901ء میں ہرتزل نے ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں، آپ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنادیں۔ سلطان نے اس پیغام پر تھوک دیا اور صاف منع کر دیا۔اس کے بعد ترکی کی خلافت کو توڑنے کی سازش پورے زور و شور سے چلی، انگریزوں نے کمینگی کی حد تک بددیانتی دکھاتے ہوئےایک طرف یہودیوں سے یہ وعدہ کیا کہ ہم جنگ کے بعد فلسطین کو تمہارا قومی وطن بنا دیں گے دوسری طرف عربوں کو یہ یقین دلایا کہ ان کی ایک خود مختار ریاست بنائی جائے گی، اس کے لئے باقاعدہ تحریری وعدہ کیا۔ اس تحریری وعدہ کی بنیاد پر عربوں نے ترکی سے بغاوت کردی بالاخر جنگ عظیم اول میں خلافت ختم ہو گئ اور فلسطین، عراق اور شام پر انگلینڈ کا قبضہ ہو گیا۔
2 نومبر 1917ء کو یہودیوں نے انگریزی حکومت سے پروانہ حاصل کر لیا جسے اعلان بالفور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اعلان بالفور کے مطابق فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے لئے برطانوی حکومت اپنی ہر ممکن‌کوشش کرے گی۔ عربوں سے جھوٹے وعدے کی بنیاد پر ایک ملک کو انہوں نے اپنے قبضے میں لے لیا اور پھر اس پر غیر قوموں کو آباد کرنے کا پروانہ جاری کر دیا۔1922ء میں یو۔این نے یہ فیصلہ کیا کہ فلسطین کو برطانیہ کے مینڈیٹ میں دے دیا جائے۔ اس پروانہ کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ فلسطین میں یہودیوں کو لاکر بسانے کا کام شروع ہو گیا۔
جنگ عظیم دوم کے وقت جب یہودی ہٹلر کے ظلم سے تنگ آکر بھاگ رہے تھے تب اس سلسلے میں تیزی آئی اور قانونی غیر قانونی ہر یہودی کو فلسطین میں گھسا دیا گیا۔ 1917ء سے 1947ء تک اتنی یہودی آبادی بسا لی کہ فلسطین میں یہودی ریاست قائم کر لی جائے۔
1947ء میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا معاملہ یو۔این میں پیش کیا۔یو۔این نے انصاف کچھ یوں کیا کہ فلسطین کی زمین کو عربوں اور یہودیوں کے بیچ تقسیم کر دیا۔ یہ تقسیم اس طرح تھی 55فیصد رقبہ 33فیصد یہودی آبادی کو اور 45فیصد رقبہ 61فیصد عرب آبادی کو دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت یہودیوں کے پاس کل 6فیصد رقبہ تھا۔ یہ ناپاک قوم اس بندربانٹ پر بھی راضی نہ ہوئی انہوں نے زیادہ حصہ پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے عربوں کو مار کاٹ کر باہر نکالنا شروع کر دیا۔ عورتوں بچوں اور مردوں کو مارا گیا، عورتوں اور لڑکیوں کا برہنہ جلوس نکالا گیا۔ آرنلڈ ٹائن بی اپنی کتاب a study of history میں لکھتا ہے، کہ عربوں پر ہونے والے ظلم کسی بھی طرح ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے خود یہودیوں پر کئے تھے، ہماری ستم ظریفی کہ ہم نازیوں کے ظلم کا‌ تو رونا‌ روتے ہیں لیکن اس ناپاک قوم کے ظلم سے نابلد ہیں۔
ان سب حالات کے درمیان 14مئی 1948ء کو عین اس وقت جب یو۔این فلسطین کے مسئلہ پر بحث کر رہی تھی یہودی ایجنسی نے رات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے قیام کا‌باقاعدہ اعلان کر دیا ،اور سب سے پہلے امریکہ اور روس نے آگے بڑھ کر اسے تسلیم کیا۔اس وقت تک اسرائیل بیت المقدس کے آدھے سے زیادہ حصہ پر قبضہ کر چکا تھا۔ اس ظلم کے خلاف ہی فلسطینی ہر سال 15 مئی کو یوم نقبہ مناتے ہیں۔اس اعلان‌کے بعد آس پاس کی عرب ریاستوں نے مداخلت کی اور ان کی افواج فلسطین میں داخل ہو گئیں۔لیکن یہودی اس وقت تک اتنے طاقتور ہو چکے تھے کہ یہ سب ریاستیں مل کر بھی ان کاکچھ نہ بگاڑ سکیں۔ یہ فلسطین پر قبضہ کے دو مراحل تھے۔
اس جنگ کے بعد تیسرا مرحلہ شروع ہوا اور یہ 1967 کی جنگ میں پورا ہوگیا۔ 1967 کی اس جنگ میں بیت المقدس باقی بچا فلسطین، جزیرہ سینا اور ملک شام کی سرحد پر موجود پہاڑی گولان پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ اس طرح۱۴۔۱۵ لاکھ عرب اسرائیل کے غلام بن گئے۔
جمہوریت کے علمبرداروں کا اس ظلم پر لب وا کرنا تو بہت دور، امریکہ اور روس نے پوری پوری حمایت کی۔ بعد میں عرب ممالک میں ہی آپس میں کشمکش اتنی ہوئی کہ وہ اسرائیل سے الجھنے کے بجائے آپس میں ہی الجھنے لگے اور آج تک یہ الجھنا جاری ہے۔ اللہ رب العزت عالم اسلام میں اتحاد پیدا فرمائے، بیت المقدس کو ناپاک قبضہ سے آزاد فرمائے فلسطینی قوم کی مزاحمت کو کامیابی سے ہم کنار کرے۔(آمین)
(اس مضمون کی تیاری میں مولانا مودودی کی کتاب ’’سانحۂ مسجد اقصی ‘‘سے مدد لی گئی)

آرنلڈ ٹائن بی اپنی کتاب A study of history میں لکھتا ہے، کہ عربوں پر ہونے والے ظلم کسی بھی طرح ان مظالم سے کم نہ تھے جو نازیوں نے خود یہودیوں پر کئے تھے، ہماری ستم ظریفی کہ ہم نازیوں کے ظلم کا‌ تو رونا‌ روتے ہیں لیکن اس ناپاک قوم کے ظلم سے نابلد ہیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱