قضیۂ فلسطین کی تازہ ترین صورتحال

انڈین فرینڈز فار فلسطین کی جانب سے ملک کے اہم صحافیوں اور مؤقر حضرات کی جانب سے فلسطین پر کی گئی اسرائیلی بربریت پہ شدید احتجاج کیا گیا۔
آن لائن پریس کانفرنس میں تمام اہم شخصیات نے یہ بات کہی کہ ہم فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کی جارحیت اور وحشیانہ مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے یہ پرتشدد حملے تقریبا ہر سال کیے جارہے ہیں۔ جب سے فلسطین کی سرزمین پر قبضہ ہوا اس دن سے ہی مسجد اقصیٰ اور پورے یروشلم کے حوالے سے اسرائیل کے ارادے مخلص نہیں ہیں۔ وہ مغربی کنارے کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور القدس (یروشلم) پر بھی۔ وہ فلسطین کے تاریخی کردار،جغرافیہ اور آبادیات کو تبدیل کرنے کی طرف کام کر رہا ہے۔
یروشلم میں موجودہ تنازعہ اور فلسطینی مظاہرے اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندانہ پالیسیوں اور زمین پر کی جانے والی کارروائی کی وجہ سے ہیں۔ موجودہ بدامنی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے قریب شیخ جراح اور دیگر محلوں میں مقیم فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے لئے ایک مہم چلائی۔ اسرائیل غیر قانونی طور پر فلسطینیوں کے گھروں اور زمینوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ آبائی فلسطینیوں کو بے گھر کر رہا ہے اور یہاں اسرائیلی آباد کاروں کی نئی کالونیاں قائم کی جارہی ہیں۔
اس مسئلے کا فوری حل یہ ہے کہ القدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کا تیزی سے خاتمہ کیا جائے اور اسرائیل کو اپنے تمام ظالمانہ اور جارحانہ ارادوں اور اقدامات کو روکنے پر مجبور کیا جائے۔
کانفرنس میں شامل ہونے والی اہم شخصیات نے عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحد ہو کر فلسطین اور مسجد اقصی کے تحفظ کے لئے آگے آئیں اور اسرائیل کو ان مظالم سے باز رکھنے پر ایک فعال سفارتی کردار ادا کریں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اس گستاخانہ جارحیت کی مذمت کریں بلکہ ان تمام اقدامات کو بھی اٹھائیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر نے انھیں حقدار اور بے قانون قوموں کے خلاف مناسب کارروائی کے لئے مستحق قرار دیا ہے۔ انہیں اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔ اس کے خلاف سخت اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کریں۔ اسرائیل کے صہیونی حکمرانوں اور فوجیوں کو غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں مظالم کے الزام میں، بین الاقوامی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے الزام میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی جانی چاہئے۔
کانفرنس میں اس بات پہ اتفاق کیا گیا کہ حکومت ہند ہمیشہ استعماری طاقتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف رہی ہے اور اس پالیسی کے تحت اس نے ہمیشہ فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک اور مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔
جناب کے سی تی تیاگی نے اس موقع پہ کہا کہ
’’ہندوستان کا موقف پچیس ملکوں کے جذبات کے خلاف ہے جنہوں نے فلسطین کی حمایت کی ہے میں بھارت سرکار کے ذریعے لئے گئے اس فیصلے کو سلام کرتا ہوں۔‘‘
واضح رہے کہ ہندوستان نے اس وقت دونوں ریاستوں کے درمیان جاری تنازعے کو حل کرنے کی بات ہے جب پچیس ممالک نے حماس کے ذریعے کئے گئے حملوں کے خلاف اسرائیل کی حمایت کی ہے۔
وہیں سنتوش بھارتیہ نامی صحافی نے کہا کہ
’’ایک ہارڈ فیکٹ ہے کہ آپ چاہے تلوار سے لڑیں یادماغ سے، اگر آپ سامنے والے کی سائیکلوجی نہیں سمجھتے تو آپ ہارجاتے ہیں۔ ہرسال اسرائیل ایک بار یہ بمباری ضرور کرتا ہے۔ ان کی یہ بھی سائیکلوجی ہے کہ میری ہی چلے گی۔ چاہے کچھ بھی ہو لیکن اسرائیل باز نہیں آئے گا۔نیتن یاہو اس ہٹ دھرمی کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ میں جوکرتا ہوں وہی قانون اور انسانیت ہے۔ان کے ساتھ ایسے کئی سربراہان ملک ہیں جن کا ایک جمگھٹ بنا ہے۔
اسرائیل کا امریکہ میں اتنا دخل ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والا امریکہ میں کچھ نہیں کرسکتا۔نہ اسے اچھی نوکری مل سکتی ہے نہ وہ کسی شعبے میں آگے جاسکتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ لوگ اپنی دادا گیری چلاتے ہیں۔دوسری طرف فلسطینی ہیں جو دنیا کی بھیجی ہوئی امداد سے اپنی زندگی چلاتے ہیں۔ان کے ہاں کھانا بھی دوسروں کا بھیجا ہوا ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کا جو سکیورٹی کونسل ہے امریکہ اس میں پورا دخل رکھتا ہے اور اسرائل پہ ایک چھینٹ بھی نہیں پڑنے دیتا۔اس مسئلہ کو یوروپی یونین اور امریکہ ہی حل کرسکتے ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ امید نہیں کرنی چاہئے۔دنیا کا کوئی دباؤ اسرائیل پہ اثر کرجائے تو خدا کی رحمت۔نیتن یاہو پرماننٹ وزیر بننا چاہتے ہیں اور فلسطین کارڈ کھیل کر وہ اگلے الیکشن کی تیاری کررہے ہیں۔‘‘
تاہم مجموعی طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کے نمائندے مسٹر ٹی ایس تیرمورتی کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان فلسطین کی واحد وجہ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہم بجا طور پر توقع کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری حکومت،اس تاریخی اعلان کو مدنظر رکھتے ہوئے، فلسطین پر اسرائیل کے ظلم و ستم کے خاتمے میں کلیدی اور موثر کردار ادا کرے گی۔‘‘
بہرحال جب مضبوط ترین ممالک بھی امریکہ کے دباؤ میں آکر اسرائیل کے مظالم کی حمایت کررہے ہیں اور فلسطینیوں کی مزاحمت کو دہشت گردی کا نام دے رہے ہیں ایسے مشکل وقت میں ہندوستان کا غیرجانبدارانہ موقف سامنے آنا بھی ایک خوش آئند بات ہے۔ممبران نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی اس مسئلے کا کوئی حل سامنے آئے گا۔
کانفرنس کے اختتام میں ایک اسٹیٹمنٹ پر تمام ممبران کے دستخط لئے گئے جن میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مسٹر کے سی تیاگی ممبر آف ایگزیکٹو کمیٹی آف پارلیامنٹریز فور القدس، سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی، مسٹر ونےکمار سکریٹری جنرل پریس کلب آف انڈیا، مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمیعت علمائے ہند، مسٹر سنتوش بھارتیہ سینئر صحافی،مولانا خلیل الرحمان سجادنعمانی، ڈاکٹر منظور عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل جیسی اہم شخصیات بھی شامل رہیں۔
دریں اثنا تازہ خبروں کے مطابق حماس کی پرزور مزاحمت سے گھبرا کر اسرائیل نے غیرمشروط جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ یہ خبر تمام عالم کے لئے نہایت حیرت انگیز تھی کہ حماس کے فولادی عزائم کے سامنے صیہونی ریاست کو سرنگوں ہونا پڑا۔ اسرائیل کو جہاں اس فیصلے پر اندرون خانہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا وہیں عالمی رہنماؤں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ اسرائیل نے یہ قدم عالمی برادری،مسلم ممالک اور امریکی دباؤ کے بعد اٹھایا۔اس خبر کے بعد فلسطین میں فتح کی خوشی کا جشن منایا گیا۔ 10 مئی سے جاری اس خون خرابے کے بند ہونے کی اس خوشی میں بھی اسرائیلی فوجیوں نے کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
بہرحال اس تمام مسئلے کے دوران سعودی عرب اور امارات کی جانب سے جس رد عمل کی توقع تھی وہ سامنے نہیں آیا۔جس سے دیگر مسلم ممالک کو مایوسی ہوئی۔پھر بھی ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے غزہ کو امن و سکون کے دن بخشے۔اللہ القدس کی حفاظت کرے۔

حکومت ہند ہمیشہ استعماری طاقتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف رہی ہے اور اس پالیسی کے تحت اس نے ہمیشہ فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک اور مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی ہے۔
جون ۲۰۲۱