قوام

نظم

محترم مرد و خواتین اب تو ہوں بیدارِ نوم
آپ دونوں کی بدولت ہی تو ہے معراجِ قوم

نیک مومن مرد مسلم قوم کی پہچان ہیں
نیک مومن عورتیں بھی مسلموں کی آن ہیں

مادرِ ملت! سکھا فرزندوں کو دستورِ حق
انکو گھٹی میں پلا دے تو شریعت کا سبق

حکمِ قرآن اور سنت پہلے نافذ خود پہ کر
تاکہ ہوں پابندِ احکامِ خدا تیرے پسر

پختہ ہو ایمان اور تقویٰ بھی ہو ان کا شعار
ہو صلاۃ و صوم و صدقہ اور حج سے ان کو پیار

ہوں شجاعت کا نمونہ اور حمیت ان میں ہو
اور قوامون بننے کی حرارت ان میں ہو

تربیت بیٹوں کی ہو معقول تو ہوگا ضرور
دعوت حق کا بھی اور اصلاحِ ملت کا شعور

فرض کا احساس بھی لخت جگر میں پیدا کر
اس کے ہیرو ہوں علی عثمان بوبکر و عمر

حضرت خنساء کی طرح بن مثالی ماں کبھی
اف بھی بیٹوں کی شہادت پر نہ کرنا، ہاں کبھی

ورنہ قومیں حملہ آور ہوں گی یوں ایمان پر
ٹوٹ کر پڑتے ہیں بھوکے جیسے دسترخوان پر

فرض ہے شاہین تیرا قوم کو ہشیار کر
نیند کے مارے ہوؤں کو نیند سے بیدار کر

اپریل ۲۰۲۱