لیلتہ القدر

عہد نبوی میں جب رمضان المبارک آیا تو رسول صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا،
یہ مہینہ تُم پر آیا ہے اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا۔ اس رات کی سعادت سے صرف بد نصیب کو ہی محروم رکھا گیا ہے۔( سنن ابن ماجہ)
رمضان المبارک ہجری سال کا نواں مہینہ ھے، گویا اس مہینہ کا ہر لمحہ ہر ساعت ہی بابرکت ہے ، اس مہینے میں کی جانے والی نیکیوں کا دوگنا اجر عطا کیا جاتا ہے۔لیلة القدر کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ،
رمضان کے آخری عشرے کے طاق راتوں میں اس کو تلاش کرو۔
(صحیح البخاری)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے مروی یہ حدیث ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی اِکیس،تئیس،پچیس، ستائیس،اُنتیس ۔ ان راتوں میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ان راتوں میں ذکر و اذکار کا کثرت سے اہتمام کرنے کی تاکید کی ہے۔
اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی
اے اللہ آپ بہت زیادہ معاف کرنے والے ہیں، معافی کو پسند کرتے ہیں،لہٰذا میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دیجئے۔ اس رات کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ جو شبِ قدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔(رواہ البخاری) قرآن میں اس رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے،
لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ
لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ، میں نے خواب میں شب قدر دیکھی مگر پھر مجھے بھلا دیا گیا۔یہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے۔ یہ رات باوقار ہے۔ نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی۔ اس رات میں شیطان نہیں نکلتا ہے یہاں تک کہ صبح صادق ہوجائے۔(مسند احمد) اس رات کے بعد والی صبح جب سورج نکل جاتا ہے اس میں زیادہ گرمی نہیں ہوتی ۔(مُسلم) اس شب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآن نازل کیا گیا۔ قرآن میں خود اس کا ارشاد ہے کہ
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ
ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ‌ اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہے اور ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں.۔
قرآن مجید میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ،

شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن ( اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے۔ اور اس رات کو اللہ تعالیٰ نے سراسر سلامتی قرار دیا ہے طلوع فجر تک۔ اس طرح لیلۃ القدر کی نسبت قرآن سے اور قرآن کی نسبت اس اہم ترین رات سے ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد رح نے فرمایا ہے کہ، تم رمضان کے آخری عشرے میں شب قدر کی تلاش کرتے ہو اور جو شب قدر میں نازل ہوا اُسے چھوڑ دیتے ہو۔اگر تم اس کو پکڑ لو تو تمہاری ہر رات شب قدر ہو سکتی ہے۔ اس رات کا جو حاصل ہے وہ قرآن کی وجہ سے ہے تو اُس عظیم ترین رات سے اپنی نسبتوں کو ہمیشہ باقی رکھتے ہوئے قرآن کو ہماری زندگیوں کا مرکز و محور بنانا ہمارا اولین فریضہ ہے۔
یہ (قرآن) آیا ہی تھا ہماری زندگیوں میں تبدیلی برپا کرنے کے لئے۔ جو اس کو اپنی زندگیوں میں اپناتے ہیں انقلاب وہیں برپا ہوتے ہیں۔ تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے۔ لیلۃ القدر کا یہی پیغام ہے اور قدر کی ان راتوں کے ذریعے سے ہر سال ہمیں یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ قرآن سے اپنے تعلّق کو مضبوط کرو اس کا پیغام لے کر دنیا کے گوشوں میں پھیل جاؤ۔ اس کے پیغام کو اس کی دعوت کو عام کرو۔ اس اہم ترین رات کے ذریعے سے یہ پیغام ہر سال ہمارے ذہنوں میں تازہ ہوتا رہتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو تازہ ہی رکھا جائےاور اس کا نفوذ ہماری زندگیوں میں ہر دم ، ہر وقت ہوتا رہے۔ خدا تعالیٰ ہم تمام کا حامی و ناصر ہو اس رات کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفید ہونے کی بھر پور توفیق عطا فرمائے۔
مولاناابوالکلام آزاد ؒنے فرمایا ہے کہ، تم رمضان کے آخری عشرے میں شب قدر کی تلاش کرتے ہو اور جو شب قدر میں نازل ہوا اُسے چھوڑ دیتے ہو۔اگر تم اس کو پکڑ لو تو تمہاری ہر رات شب قدر ہو سکتی ہے۔ اس رات کا جو حاصل ہے وہ قرآن کی وجہ سے ہے تو اُس عظیم ترین رات سے اپنی نسبتوں کو ہمیشہ باقی رکھتے ہوئے قرآن کو ہماری زندگیوں کا مرکز و محور بنانا ہمارا اولین فریضہ ہے۔
اپریل ۲۰۲۱