ماہ ناز اسمعیل (بھوپال،ایم پی)

محترمہ ایڈیٹر صاحبہ!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماشاء اللہ ھادیہ ای میگزین اپنے نام کی طرح اپنے قارئین کے لیے ایک ہدایت نامہ ہی ثابت ہورہاہے اور دور جدید کے تقاضوں کو پوراکرنے میں پوری طرح سے کامیاب ہوتانظرآرہاہے۔ اس میگزین کے سارے ہی مضامین بہت دلچسپ اور افادیت سے بھر پور ہیں۔
خصوصاًماہ ِاگست کے شمارہ میں ڈاکٹر مبشرہ فردوس کا مضمون’ضبط ولادت‘ پڑھا، جس میں اس تحریک کے آغاز کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے کہ اس کا آغاز مغرب میں ہوا۔ لیکن ہندوستان میں بھی ’ہم دو ہمارے دو‘کا نعرہ بلند ہوا۔ مگر ہندوستان میں آج بھی مختلف پیشوں سے جڑے افراد نے اس مہم کو مسترد کردیاہے۔مبشرہ صاحبہ نے یوپی کی سفاک حکومت کے اس ظالمانہ بل کا بھی ذکر کیاہے، جس میں دو بچوں سے زیادہ والے والدین کو سرکاری نوکریوں سے محروم رکھاجائے گا۔
زہرہ فاطمہ صاحبہ کا مضمون’اسٹارٹ اپ اور مسلم خواتین‘میں چند مسلم خواتین کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہے، جنہوں نے چھوٹے پیمانے سے کاروبار شروع کرکے بڑی ترقی کی۔ اس میں ۳۸ سالہ نوشین تاج کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ وہ اپنی نوکری کے سلسلے میں کئی سال تک گھر کے کھانے سے محروم رہیں اور ان کی یہی محرومی اس کاروبار کا محرک بنی۔ انہوں نے کھانا بناکر لوگوں تک پہنچانے کا کاروبار شروع کیا اور قابل ذکر بات تویہ ہے کہ مہینہ میں ایک بار بھی ان کا مینو دہرایانہیں جاتا۔خواتین کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہے، اس سے ضرورت مند خواتین فائدہ اٹھاکر اپنا کاروبار شروع کرسکتی ہیں۔
سر سیداحمد خاں زندۂ جاوید،مسلم رہنما، قوم کے بڑے غم گسار اور اصلاح تعلیم کے شیدائی تھے۔ ان خیالات کا اظہار محمد غزالی خان علیک نے نظم کے پیرائے میںا نتہائی مختصر الفاظ میں عمدہ طریقے سے کیاہے۔
خبر ونظر میں پیگاسس کے بارے میں بہت ساری بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اسی طرح ’سلی ڈیل ‘میںمسلمان لڑکیوں کی جو بولی لگائی گئی ہے، اس پر مسلم رہنمائوں کی خاموشی کی درد ناک تصویر پیش کی گئی ہے۔
محترم محی الدین غازی صاحب کا مضمون غربت کے ازالے کے سلسلے میں بہت مفید ہے اور تدابیر قابل عمل ہیں۔ قرآن مجید کی روشنی میں جو بات لکھی ہے کہ ’نماز کا یہ حق ہے کہ زکوٰۃ اس کی رفیق رہے، بہت پسند آئی۔ اسی مضمون میں لکھاہے کہ غریبوں کے اندر صحیح جگہ خرچ کرنے کا شعور پیداکیاجائے۔ بات بالکل درست ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، خصوصاً شادی کے موقع پر سودی قرضے لیتے ہیں۔ آج کل سودی قرض دینے والے سَھوہ کے نام سے مسلم بستیوں میں چکر لگاتے ہیں۔ دوگنی دروں پر سود پر رقم دیتے ہیں اور آخر کار گھر، مکان اوردوکان سب فروخت ہوجاتاہے یاسودی کمپنی ان پرقابض ہوجاتی ہیں۔ نتیجۃً خود کشی، بھیک مانگنا، گھریلو تنازعات کے معاملے سامنے آتے ہیں۔
محترم مولانارضی الاسلام ندوی صاحب اور مبشرہ فردوس صاحبہ کے تمام شماروں کے مضامین بہت علمی اور اعلیٰ تصنیف کے شاہ کار ہیں ۔میری دعاہے کہ یہ رسالہ فکر وعمل کے ہر میدان میں مفید ثابت ہو اور خواتین اور بچیوں کے عمل میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
محترمہ ماہ ناز صاحبہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ ذوق وشوق سے ھادیہ مطالعہ کرتی ہیں۔
آپ کا حوصلہ بخش مراسلہ ٹیم کے لیے گراں قدر سرمایہ ہے ۔ شکریہ
ایڈیٹر ھادیہ ای ۔ میگزین
۲۰۲۱ ستمبر