مزاحمت کی علامت
مونا الکرد و مریم عفیفی

’’مونا کا یہ جرات مندانہ قدم پوری دنیا کی خواتین کے لئے قابل رشک ہے۔ جو لوگ عورت کو صنف نازک سے تعبیر کرتے ہیں ان کے لئے مونا ایک واضح مثال ہیں جن کی جرأت اور ثابت قدمی سے اسرائیل جیسا طاقتور ملک بھی گھبرا گیا۔‘‘

ارضِ مقدّس فلسطین کی جرأت مند صحافی دوشیزہ مونا الکرد کو اسرائیل نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں ۶ جون کو حراست میں لے لیا تھا۔ساتھ میں ان کے بھائی محمد الکرد کو بھی جبرا گرفتار کیا جو مونا کے ساتھ مل کر مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں۔تاہم اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہ فساد برپا کرنے میں ملوث ہیں۔
اسرائیلی پولیس نے چھ جون ،اتوارکے روز حقوق انسانی کے ان دو سرکردہ کارکنوں کو حراست میں لیا جو مقبوضہ مشرقی یروشلم کے شیخ جراح اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے فلسطینی خاندانوں کے جبری انخلا کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلاتے رہے ہیں۔  پولیس حکام نے 23سالہ مونا الکرد کو ان کے گھر سے گرفتار کیا جو شیخ جراح علاقے میں ہی واقع ہے۔ الجزیرہ کی نوجوان صحافی کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں قید کرکے اسرائیلی پولیس انہیں شیخ جراح کے علاقے سے ان کے گھر سے گرفتار کر کے لے گئی۔ پولیس کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ہنگاموں میں شرکت کی تھی۔
 واضح ہو کہ اسرائیل کے ذریعے شیخ جراح کے علاقے میں صدیوں سے آباد فلسطینی خاندانوں کو وہاں سے اس لیے نکالا جا رہا ہے تاکہ اس علاقے میں یہودیوں کی باز آبادکاری لیے نئے مکانات تعمیر کیے جا سکیں۔ موناالکرد بھی ان خاندانوں میں شامل ہیں اور اپنے بھائی کے ساتھ اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف بہادری سے آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ الجزیرہ نے اپنی صحافی کی حراست کی پرزور انداز میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ واضح کرتا ہے کہ اسرائیل ‘کس طرح صحافیوں کے بنیادی انسانی حقوق کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔‘‘جس وقت مونا کو گرفتار کیا گیا اس وقت وہ شیخ جراح میں ممکنہ بے دخلی کے خلاف جاری مظاہرے کی رپورٹنگ کر رہی تھیں اور صحافتی علامت کے طور پر انہوں نے پریس جیکٹ بھی پہنی ہوئی تھی۔ مونا کی گرفتاری کے بعد ان کے بھائی محمد الکرد نے اپنی بہن کے حراست میں لیے جانے کے بعد خود پولیس سٹیشن میں اپنی گرفتاری دے دی۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر عام ہوتے ہی ہنگامہ خیز بن گئی اور لوگ اس جرات مند بہن اور اس کے بھائی کی رہائی کا شدید مطالبہ کرنے لگے۔ جس کے بعد اسرائیل کو انہیں کئی گھنٹوں کی حراست کے بعد رہا کرنا پڑا۔
مونا کےوالد نے اپنی بہادر بیٹی کی گرفتاری پر پریشان ہونے کے بجائے کہا کہ ’’مجھے نہیں پروا کہ ان دونوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں بیت المقدس اور شیخ جراح کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘‘
 مونا کا یہ جرأت مندانہ قدم پوری دنیا کی خواتین کے لئے قابل رشک ہے۔ جو لوگ عورت کو صنف نازک سے تعبیر کرتے ہیں ان کے لئے مونا ایک واضح مثال ہیں جن کی جرأت اور ثابت قدمی سے اسرائیل جیسا طاقتور ملک بھی گھبرا گیا اور ان کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کی۔ اس سے قبل بھی اسرائیل کے ذریعے اکثروبیشتر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات منظرعام پر آتے رہتے ہیں۔الجزیرہ سے ہی وابستہ سینیئر صحافی جیوارا بودیری کو گرفتار کیا گیا تھا اور پھر کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھنے کے بعد انہیں رہا کردیا تھا۔ان کی گرفتاری سے متعلق جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئیں اس میں ان پر پولیس کو حملہ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پریس کی وردی بھی پہن رکھی تھی تاہم پولیس کو انہیں گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے میں ان کا ایک ہاتھ ٹوٹ گیا اور جسم پر بھی کئی زخم آئے جس کے لیے انہیں اسپتال میں بھی بھرتی کرانا پڑا۔
 اسی فہرست میں ظالم اسرائیل کی بربریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بننے والی مریم عفیفی بھی شامل ہیں۔ مریم ایک گلوکارہ اور موسیقار ہیں جنہیں یہودی پولیس نے اپنے احتجاجی ساتھیوں کا دفاع کرنے کے جرم میں حراست میں لے لیا تھا۔ ۱۰ مئی کو وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مریم پوری جرأت اور عزم کے ساتھ اسرائیلی فوجی سے انگریزی میں مخاطب ہو کر پوچھ رہی ہیں:
’’مجھ پر الزام کیا ہے؟ تم نے مجھے کیوں گرفتار کیا ہے؟ میں نے کیا کیا ہے؟کیا اس لیے کہ میں نے صرف ایک لڑکی کا دفاع کیا جس کو پیٹاجا رہا تھا یا پھر اس لیے کہ میں ان لوگوں کا دفاع کر رہی ہوں جن کو ان کے گھروں سے نکال دیا جائے گا؟‘‘
 حال ہی میں جب اسرائیلی فورسز کی جانب سے بیت المقدس پر حملہ کیا گیا تھا تو مسجد اقصیٰ کے دفاع کے دوران اُنہیں اسکارف سے پکڑ کر گھسیٹا گیا۔ لیکن مریم چیخنے چلانے کے بجائے پورے عزم و حوصلے سے مسکرا پڑیں۔مریم کی مسکراہٹ نے عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا۔بعد ازاں مریم کی جرات سے متاثر ہوکر ترکی کی خاتون اول امینہ اردوان نے ان سے ویڈیو کال پر گفتگو بھی کی اور کہا کہ’’مریم عفیفی کی ہمت اور حوصلہ پوری دُنیا کی خواتین کے لیے ایک مثال ہے۔ آپ کے نڈر اور بےخوف انداز کی وجہ سے نہ صرف ہمیں بلکہ پوری دُنیا کو آپ پر بےحد فخر محسوس ہورہا ہے۔‘‘

مونا اور مریم جیسی جری دوشیزائیں فلسطین کا فخر ہیں جو مزاحمتی آواز بن کر ابھر رہی ہیں۔عنقریب وہ دن آئے گا جب ظلم و ستم کا شکار ہونے والی خواتین کے لئے مونا اور مریم آئیڈل بن کر سامنے آئیں گی۔ کیوں کہ ان فلسطینی دوشیزاؤں نے یہ ثابت کردیا کہ نزاکت سے تعبیر کی جانے والی یہ صنف در حقیقت عزم و حوصلے کا اک پہاڑ ہے جو وقت آنے پر چٹان کی مانند مضبوطی کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱