مشین کی سرپرستی
کسی کے مرنے کی خبر ایسی نہیں ہوتی، جس پر یقین نہ کیا جائے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔جس کا آج تک کسی نے بھی انکار نہیں کیا۔ مگر آج اس خاتون کے انتقال کی خبر سن کر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔جو خاتون مشین کی طرح چالیس سالوں سے مسلسل چلتی رہی ہو، جس پر زمانے کے گرم و سرد اور ڈھلتی ہوئی عمر کا کام کی رفتار پر کوئی اثر نہیں ہو پایا ہو، جو خوشی و غم، دکھ و سکھ، غرض ہر جذبے سے عاری وہ مسلسل چلنے والی مشین ہو،اس طرح رک گئی کہ کوشش کرنے پر بھی چل نہیں پائی۔
انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اپنی یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ مشین کی یاد آتی رہی کہ کس طرح لاڈو پیار میں پلی بڑھی بیٹی، ماں بن کر اپنی اولاد کوبام عروج تک پہنچانے کے لیے کام کرنے کی ایک مشین بن گئی تھی۔
اولاد نے بھی اس کو ضرور یات پوری کرنے کی مشین سمجھ لیا تھا۔ اپنی ضرور یات پوری ہوتے ہی وہ اس سے اس طرح بے نیاز ہو گئے کہ ایک شہر میں رہتے ہوئے بھی کبھی اس کی خیرو عافیت پوچھنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ کسی خوشی کے موقع پر اس کی یاد آئی۔ یہاں تک کہ انتقال کی خبر ملنے پر بھی اس ہستی کو آخری مرتبہ دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، جس کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں آج وہ دولت میں کھیل رہے ہیں۔
ماں کی انتھک محنت اور اولاد کی بے رخی یاد آکر جدائی کے غم کو تازہ کرتی رہی ہے۔ بعض درد مشترک ہوتے ہیں۔ ماں کا درد بھی ایسا ہی ہے، جس کو ہر ماں اپنا درد سمجھتی ہے اور شریک غم ہو جاتی ہے۔
اتفاق سے کچھ دنوں قبل ایک دعوت نامہ آیا۔ دعوت نامہ آنا کوئی ایسی خاص بات نہیں، جس کا ذکر کیا جائے۔چونکہ یہ دعوت نامہ مشین کے لڑکے کی طرف سے آیا تھا۔ مشین کے تعلق کے نتیجے میں اولاد سے بھی ایک تعلق تھا۔ یہ تعلق کی زنجیریں کچھ ایسی ہوتی ہیں، جس کا آخری سرا بابا آدم تک پہنچتا ہے۔ اس دعوت نامے میں شادی کا ذکر تھا،وہ شادی اس مشین کی سرپرستی میں ہو رہی تھی جو اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔ رقعہ دولہے کے والد کی جانب سے تھا، جس پر نمایاں الفاظ میں لکھا ہوا تھا:’’والدہ محترمہ (مرحومہ) کی سرپرستی میں۔‘‘
وہ والدہ محترمہ، جس کو زندگی میں ضروریات پوری کرنے کی مشین سے زیادہ اہمیت نہ دی گئی ہو، اس مشین کو دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعداس قدر اہمیت کیوں دی جا رہی ہے؟ یہ ایک سوال ہے، جو مسلسل سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ غور و فکر کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ ماں باپ کے چلے جانے کے بعد بھی اس کی ذات سے فائدہ اٹھانا ہے۔
مرحوم کی سر پرستی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا، مگر اس سے سعادت مند اولاد کاماں باپ سے بے انتہا محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس سے دنیا والوں کی نظروں میں اولاد کی عزّت بڑھ جاتی ہے۔ آج اکثر انسان کی جدو جہد دنیا میں عزت و نام پانے کے لیے ہی ہوتی ہے۔
میرا اولاد کے لیے ایک مشورہ ہے۔ وہ یہ کہ’ سرپرست:والدہ (مرحومہ)‘ لکھنے کے بجائے’سرپرست مشین‘لکھا کریں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ لوگ لفظ’مرحومہ‘ پر حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے ’مشین کی سرپرستی‘ پر غور کریں گے تو تلخ حقیقت ان کے سامنے آئے گی اور وہ بے اختیاراپنا جائزہ لیں گے۔ کیا وہ بھی ماں باپ کو صرف ضرورت پیدا کرنے کی مشین سمجھتے ہیں؟ یاپھر وہ اپنے عمل میں تبدیلی لاکر ماں کو وہ مقام دیں گے،جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔
’’اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو:
اے میرے رب! جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے، اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔( بنی اسرائیل23:24)
ان شاء اللہ اس کا ان کو فائدہ ہوگا۔
اولاد نے بھی اس کو ضرور یات پوری کرنے کی مشین سمجھ لیا تھا۔ اپنی ضرور یات پوری ہوتے ہی وہ اس سے اس طرح بے نیاز ہو گئے کہ ایک شہر میں رہتے ہوئے بھی کبھی اس کی خیرو عافیت پوچھنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ کسی خوشی کے موقع پر اس کی یاد آئی۔ یہاں تک کہ انتقال کی خبر ملنے پر بھی اس ہستی کو آخری مرتبہ دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، جس کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں آج وہ دولت میں کھیل رہے ہیں۔ ۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر