مظلومین کے گھروں کی کہانیاں
ماہِ رواں کی ایک اہم و پر مسرت خبر یہ رہی کہ سیمی کے نام پر اور دہشت گردی کے
الزام میں گرفتار کیے گئے 124 لوگ باعزت بری کر دیے گئے پورے 20 سال بعد !
تمام ہی بری ہونے والے لوگوں اور ان کے اہل خانہ کو دلی مبارکباد۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ 27 دسمبر 2001 میں سورت کے راج شری ہال میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل پر سیمینار میں شرکت کرنے کے لئے جمع ہوئے کچھ لوگوں کو ۲۷ دسمبر 2001 کو سیمی سے وابستگی اور دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ان پر بےجا دفعات لگا کر گیارہ مہینے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ۔آخرکار ضمانتیں ہونے کے بعد پیشیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہی رہا۔۲۰برس برباد کرنے کے بعد انہیں باعزت بری کر دیا گیا ۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ذہنی اذیت میں گزارے گئے ان بیس سالوں کے نقصان کی بھرپائی کون کریگا ؟ان بیس سالوں کے علاوہ یہ سوال تو جیل میں گزارے گئے اس عرصے کا بھی ہے جو بیس سال سے زیادہ مشکل تھا،جسے ان لوگوں نے ذہنی اور جسمانی اذیت کے علاوہ امید اور وساوس کے درمیان گزارا ہے۔ ان کے اہل خانہ نے اپنے جگر گوشوں، بیویوں نے اپنے سر تاجوں، بہنوں نے اپنے محافظ، اولادوں نے اپنے مشفق باپ اور اپنی خواہشوں کو قربان کرتے ہوئے کیسے گزارے؟؟ یہ دن کس طرح گزرے؟؟؟لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ کیسارہا ؟؟؟انھوں نے کیا کیا کھویا؟؟
یہ لوگ اب اپنے مستقبل کو کیسا دیکھتے ہیں؟؟ کیا سوچتے ہیں؟؟ ان سوالوں کو ہم نے پوچھا ہے ایک سو چوبیس میں سے چند کے اہل خانہ سے۔
تو پڑھیے ان میں سے پہلے شخص کی دردناک کہانی۔۔ ایک جھوٹے مقدمے کے تحت ان کا اپنا کریئر برباد ہوگیا۔وہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی بہت سی آسائشوں والی، ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزار نہیں سکے۔ان کا تعلق گجرات سے ہے۔ عمر 51 سال ہے جب وہ گرفتار ہوئے اس وقت ان کی عمر تقریباً ۳۱ سال ہوگی اس وقت یہ گجرات یونیورسٹی سے صحافت اور ماس کمیونیکیشن کا کورس کر رہے تھے۔ ٹاپ کرنے کے باوجود بھی صحافت میں کرءیر نہیں بنا پائے یہ ایک ایسا پیشہ تھا جو ان کا شوق تھا ۔
کسی نیوز چینل نے، کمپنی نے انہیں ملازمت نہیں دی کہ ان پر سیمی سے وابستہ ہونے کا لیبل لگ چکا تھا ۔میڈیا اور پولیس ایک حد تک انھیں دہشت گرد ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ کہتے ہیں” میں صحافی بننا چاہتا تھا صحافت میں نام پیدا کرنا چاہتا تھا میرے تمام دوست کسی اچھی جگہ پر ملازمت کر رہے ہیں صحافت کی وہی سند میرے پاس بھی ہے لیکن میں مسالے بیچ رہا ہوں”۔
اب ۲۰سال کاکڑا وقت گزارنے پر بری ہونے کے بعد تو صحافت میں کیریئر بنانے سے رہے۔اس نقصان کی بھرپائی کون کرے گا؟ تاوان کس سے لیا جائے ؟؟؟
اسی طرح ایک اور متاثر فرد کے اہل خانہ سے گفتگو ہوئی ان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی المناک ہے۔وہ اس عمر میں گرفتار ہوئے جبکہ اس عمر کے بچے نو جوانی کے نشے میں گم،دنیا کی رنگینیوں کو دیکھتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔ انہوں نے اپنا سنہری دور جیل کی سلاخوں اور اس کے در و دیوار کو دیکھتے ہوئے گزارا۔ عمر کا وہ حصہ جب مائیں اپنے بچوں کے کپڑے اور دیگر خواہشوں کے لیے جدوجہد کرتی ہیں ان کی والدہ نے اس عمر کے بیٹے کی رہائی کے لیے جدوجہد کی ہے۔
یہ الہ آباد کے رہنے والے ہیں وہاں سے سیمینار میں شرکت کرنے کے لیے پرجوش گجرات روانہ ہوئے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ شرکت انہیں کن محرومیوں ،کن طوفانوں، کن اذیتوں سے دوچار کرنے والی ہے۔۲۰ سال کی عمر میں گرفتار ہوئے بچپن ہی سے یتیم تھے ۔بیوہ ماں کی امیدوں کا سہارا ،ماں وساوس اور امید کی پگڈنڈی پر کھڑی تھی۔ انھیں ہر وقت امید رہتی کہ میرا بیٹا رہا ہو جائے گا۔ آخر گیارہ مہینے 11 صدیوں کی طرح گزارے۔ ان کی والدہ ملنے کے لیے جاتیں بیٹے کا چہرہ دیکھنے کے لیے تڑپ جاتیں۔ ایسے میں شوہر سے محرومی کا احساس شدت اختیار کر لیتا ،اور یہ دھڑکا کہ بیٹے سے بھی محروم کردی گئی ہوں، کیا پتا رہا ہوتے ہیں یا نہیں۔ ایک امید افزا آخرت کا احساس کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر یہ کہہ سکیں گی کہ اللہ میں نے تیری خاطر بھیجا تھا تو ہی صلہ دینے والا ہے ۔
یہ پوچھنے پر کہ یہ لوگوں کا رویہ کیسا رہا بتایا کہ تمام ہی لوگ الحمدللہ بہت ساتھ دینے والے تھے۔یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ نیکی، ہمدردی، شفقت کا جذبہ رکھنے والے لوگ کم ہی سہی لیکن ہر دور میں ہوتے ہیں۔
ان کی اہلیہ سے پوچھا گیا کہ جب ان کو پتہ چلا کہ ایک ایسے شخص سے شادی ہونے والی ہے جو کچھ عرصہ جیل میں رہ چکے ہیں اور ان پر اس طرح کے الزامات ہیں تو آپ نے کیسا محسوس کیا؟
جواب میں ان کی بیگم نے بتایا کہ” میں بخوشی دلی رضامندی کے ساتھ راضی تھی الحمدللہ خوش تھی اور ہوں ایک ایسے بہادر ،جری اور حوصلہ مند شخص کی بیوی ہونے پر فخر بھی کرتی ہوں”۔
بیس سال کیسے گزرے ؟؟اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ بیس سال کشمکش میں گزرے اللہ پر یقین تھا لیکن فطری طور پر ڈر بھی لگا رہتا تھا خصوصاً پولیس، حکومت اور عدالت سے کچھ اچھی امید نہیں تھی”- وہ کہتی ہیں کہ “یہ خوف رہتا تھا کہ اگر اسی پیشی پر گرفتاری ہوجائے تو ،چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میں ان کو کیسے سنبھالوں گی پھر آسمان کی جانب نگاہ اٹھاتے ہی امید بندھ جاتی تھی اسی امید کا صلہ یہ فیصلہ ہے ۔”
فیصلہ سن کر کیسا محسوس ہوا پوچھنے پر بتایا کہ” ایسا لگا بہت دیر سے ڈوبتے کو کنارہ مل گیا ہو، خوشی سے آنکھوں میں آنسو آگئے اتنا خوشگوار احساس تھا کہ بتانے کے لیے الفاظ نہیں ہیں” ۔
سب سے المناک ،درد ناک، غمگین کہانی سورت کے ایک متاثر فرد کی ہے جن کا جون 2020 میں انتقال ہوچکا ہے۔ اب وہ یہ فیصلہ سننے کے لیے اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔ اللہ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ان کا قصہ پڑھیے۔
یہ سورت ہی کے رہنے والے ہیں ان کی بیوہ سے پتہ چلا کہ یہ بھی اسی تعلیمی سیمینار میں شرکت کرنے کے لیے راج شری ہال گئے تھے۔ پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پہلےچار پانچ دن ان کی اہلیہ پولیس تھانوں کے چکر کاٹتی رہیں، لیکن انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں قید ہیں؟؟ ادھرسے ادھر بھیج دیا جاتا ہے۔وہ فریاد کرتیں کہ ایک دفعہ مل لینے دیں، لیکن ظالموں کے سینے میں دل کی جگہ پتھر نصب تھا، تعصب کا پتھر جس کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں۔ اور ایک آزمائش ان کی یہ کہ وہ بے اولاد تھے تنہا عورت کا جانا ،متعدد دفعہ واپس کیا جانا بڑا صبر آزما مرحلہ تھا۔ بڑی باہمت، حوصلہ مند خاتون تھیں۔جاتی رہیں، واپس آتی رہیں۔ اولاد سے محرومی کادکھ بہت شدت سے یاد آ جاتا۔ اور یہ دوہری ذہنی اذیت کا شکار ہوجاتیں۔
پھر انہیں چار پانچ دن کے بعد یہ بتایا گیا کہ ان کے شوہر شہر نڈیاڈ کی جیل میں ہیں لیکن اس پر مزید ظلم کہ 17 دن تک انہیں ملنے نہیں دیا گیا ان کے شوہر گٹھیا کے درد جیسی تکلیف دہ بیماری میں مبتلا تھے۔اسی وجہ سے بیوی تڑپ رہی ہے کہ کسی طرح انہیں دوائی پہنچ جائے۔ ظالم ملاقات تو دور ، دوائی تک نہیں پہنچا رہے ہیں۔
آخر کسی طرح 17 دن کے بعد ملاقات ہوئی تھی،کہتی ہیں “یہ دن مجھ پر قیامت کی طرح گزرے”۔ دل کی ایک دھڑکن خوف کے ساتھ جاتی تھی، دوسری امید کے ساتھ آتی تھی۔ اور اسی کشمکش میں۱۷ دن گزر گئے۔تھوڑے دن اور تکلیف کے بعد انہیں ملنے کی اجازت دی گئی ۔جب وہ ملنے جاتیں تو انہیں بہت ستایا جاتا کہا جاتا تمہارے شوہر دہشت گرد ہیں انہیں رہائی نہیں مل سکتی وہ یہیں جیل میں رہیں گے بار بار ملنے مت آیا کرو۔ وہ امید بھری کیفیت سے جاتیں نا امیدی لے کرآتیں اندر ان کے شوہر کو اذیت سے دوچار کیا جاتا اور باہر بیوی کو ۔اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔
پھر اسی دوران ان کے دیور کو گرفتار کرلیا گیا اس جھوٹی بنیاد پر کہ وہ بھائی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔اس طرح یہ دو مظلوم خواتین دیورانی،جیٹھانی ایک دوسرے کا درد بانٹنے لگیں ۔ ہر ہفتہ ملنے کی اجازت دی گئی لیکن یہ ملاقات بھی کچھ آسانی سے نہیں ہوتی انہیں گھنٹوں انتظار کروایا جاتا اور چند منٹ ملنے دیا جاتا ۔اس میں شوہر کا چہرہ اور آواز بھی صاف نہیں پتہ چلتے دونوں کے درمیان ایک بڑی سی جالی دار دیوار ہوتی ایک انسان کے رہنے کی جگہ میں کئی کئی لوگ رکھے جاتے ،سب کی آواز گڈمڈ ہوجاتی۔ادھر انہیں پولیس گھیرے ہوئے ہوتے تھے۔ادھر وہ دو جلادوں کے ساتھ کھڑے تھے تنہائی میسر نہیں کہ انسان اپنی چند ایک ضروریات کے بارے میں ہی بتا دے کیسا روح فرسامنظر ہوگا ایک باوفا شریک حیات کا۔ہمارے لیے تو سوچنا بھی محال ہے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کیسے برداشت کیا ہوگا!!!!
ایک طرف ان کی ہمسفر کا یہ حال تھا تو دوسری طرف ان کے والدین کے جن کے دو بے گناہ لخت جگر پابند سلاسل تھے ان کے غم ،صبر کے مراحل کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔
آگے بتاتی ہیں کہ، وہ ایک بڑی فیکٹری کے مالک تھے شوہر کے گرفتار ہونے کے باعث خاتون نے پوری فیکٹری سنبھالی اس کا انصرام کسی مرد کی طرح چلایا اس امید کے ساتھ کہ جیسے ہی ان کے شوہر رہا ہوں، اپنی فیکٹری کو دیکھ کر حیران رہ جایئں۔فیکٹری میں استعمال ہونے والی کیمیائی ادویات کی وجہ سے انہیں دمہ کا مرض لاحق ہو گیا ۔اب پھیپھڑے کے عارضے جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔ شوہر کو کھونے کے ساتھ ساتھ ہی خطرناک بیماریاں بھی تحفے میں ملی ہیں۔اگر وہ زندگی میں آگے بڑھنے لگتیں، بھولنا شروع کر دیتیں اور بھول بھی جاتیں، لیکن جیسے ہی ان بیماریوں کی تکلیف بڑھتی تو درد صرف بیماری کا نہیں ہوتا ان کے تمام زخم نئے سرے سے ادھڑ جاتے ، دی گئی سب اذیتیں یاد آنے لگتیں۔
یہ دریافت کرنے پر کہ معاشرے کا رویہ کیسا رہا؟ انہوں نے بڑا کربناک جواب دیا” آپ معاشرے کا پوچھ رہی ہیں ہمارے ساتھ تو سگے رشتہ داروں کا ناروا سلوک رہا ہے رشتہ داروں نے ہمارے گھر آنا جانا چھوڑ دیا تھا ۔میرے شوہر نے اپنے بہت سے عزیزوں کو کھویا ہے۔جہاں تک سماج کی بات ہے جب میں محلے سے نکلتی بڑے تو بڑے چھوٹے بچے تک مجھے دیکھ کر آواز لگاتے کہ” دیکھو دیکھو آتنک وادی کی بیوی جا رہی ہے” ۔پوچھنے پر کہا کہ یہ آوازیں کسنے والے بچے اور بڑے سب مسلمان ہی تھے۔
تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے کہ ان کے مکان مالک نے اس خاتون کا بہت ساتھ دیا ڈھارس بندھائی لوگوں کے دباؤ کے باوجود انہیں مکان خالی کرنے کو نہیں کہا۔ مالک مکان کی بیٹیاں ان کی ہمت بڑھانے کے لیے ان کے پاس آنے لگیں۔
بیس سال کا عرصہ کیسا گزرا؟؟ اور فیصلے سے متعلق سوال پر بتایا کہ بیس سال کا یہ صبر آزما دور بہت مشکل تھا۔ شوہر سے پوچھتیں تو ہمیشہ امید افزا جواب دیتے کہ ان شاءاللہ ہمارے حق میں ہوگا۔
وہ کہتی ہیں کہ” فیصلہ آنے کے بعد مجھے خوشی سے زیادہ محرومی اور تکلیف کا احساس ہوا کہ کاش میرے شوہر آج یہ فیصلہ سننے کے لئے زندہ رہتے۔فیصلے کے دن میں پورا وقت تصور میں ان سے باتیں کرتی رہی وہ مجھے بڑے خوش نظر آئے۔ لیکن یہ سب تصور تھا۔”
انہوں نے تمام ہی قارئین سی دعا کی درخواست کی ہے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ ان کی تمام پریشانیاں، تکالیف دور کر انھیں عافیت کے ساتھ صحت عطا کر۔آمین
اسی طرح بنگلور کے رہنے والے ایک متاثر فرد کی اہلیہ سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت تو ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن بیس سال کا عرصہ ان کے لیے بہت مشکل سے گزرا ہے۔ اور وہ ہمیشہ اپنے شوہر کو پیشیوں پر جانے کے لیے منع کر دیتیں اس طرح ان کے شوہر ٹینشن زدہ ماحول میں گھر سے نکلتے۔ وہ بتاتی ہیں کہ” مجھے اب اس نادانی پر افسوس ہوتا ہے”۔ باربار پیشیوں پر جانے کی وجہ سے انھیں کاروبار میں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب وہ گھر پر ہی تجارت کرتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام مظلومین کے ان بیس سالوں کے نقصان کی بھرپائی کس کے ذمے دی جائے؟
آخر میں ایک بات ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ ہمیں قید کیے جانے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اور رحم دلی کا برتاؤ کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس ہوتا یوں ہے کہ سماج میں ان لوگوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر ہمارا رویہ ہوتا ہے کہ ملنا ملانا تو دور سلام دعا تک ترک کر دیتے ہیں اس موقع پر ہمیں رحماء بینھم کی نصیحت نہیں بھولناچاہیے۔۔
یہ سوال تو جیل میں گزارے گئے اس عرصے کا بھی ہے جو بیس سال سے زیادہ مشکل تھا،جسے ان لوگوں نے ذہنی اور جسمانی اذیت کے علاوہ امید اور وساوس کے درمیان گزارا ہے۔
اپریل ۲۰۲۱