ملک میں کرونا کا قہر ، مچی آکسیجن کی ہاہا کار
اسرائیل کی بڑھتی دہشت اور حماس کا پلٹ وار
ہندوستان میں کورونا وائرس کی صورتِ حال بگڑتی جا رہی ہے۔ یومیہ کیسز چار لاکھ اور اموات چار ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اسپتال بھر چکے ہیں۔اسپتالوں میں بیڈ،وینٹی لیٹر اور آکسیجن کی ہاہا کار دیکھنے کو ملی۔کرونا کی دوسری لہر نے جیسے ہی شدت اختیار کی ملک بھر سے دل کا خون کرنے والی تصویریں سامنے آنے لگیں۔آکسیجن کی قلت سے اسپتالوں کے باہر اور سڑکوں پر لوگ تڑپتے،دم توڑتے دکھائی دئیے۔صورتحال نے اتنی شدت اختیار کرلی کہ شمشانوں میں قطاریں بھر گئیں اور لاشوں کو جلانے کے لئے لکڑیاں ختم ہوگئیں تو لوگ اپنے پیاروں کو گڑھوں اور ندیوں میں پھینکنے لگے۔دل دہلادینے والا منظر تب سامنے آیا جب گنگا ندی کے. کنارے پر 100سے زائد لاشیں تیرتی دکھائی دیں۔ اسی دوران بنگال کے الیکشن کے نتائج سامنے آئے جس میں ممتا بنرجی کی تِرنمول کانگریس کو جیت اور بی جے پی کو شکست ہوئی۔نتائج کے بعد بنگال میں فسادات بھی ہوئے۔ ان سب کے دوران ملک کا میڈیا مختلف پروپیگنڈوں میں مصروف اور کورونا کو لے کر حکومت کی ناکامیوں کو چھپاتا دکھائی دیا۔وہیں عالمی میڈیا کی بدولت کورونا متاثرین کی دردناک آہیں دنیا بھر میں سنی گئیں۔سعودی حکومت نے انسانی خدمت کے طور پر سب سے پہلے قدم بڑھاتے ہوئے 80میٹرک ٹن آکسیجن کی کھیپ ہندوستان روانہ کر دی ہے۔ساتھ ہی سرکاری ذرائع کے مطابق امریکہ، برطانیہ ، فرانس، سعودی عرب، آئرلینڈ، آسٹریلیا، جرمنی، سنگا پور، ہانگ کانگ، یو اے ای، کویت، تھائی لینڈ اور روس نے ہندوستان کو طبی امداد کی یقین دہانی کراتے ہوئے مختلف ضروری اشیاء بھیجنی شروع کردی ہیں۔ سعودی عرب کے شہر دمام سے آکسیجن بھیجی جارہی ہے۔برطانیہ 495 آکسیجن کانسنٹریٹرس اور دیگر اشیاء بھیج رہا ہے جن میں سے 100 وینٹی لیٹرس منگل کو پہنچ چکے ہیں۔ فرانس بھی دو مرحلوں میں مختلف راحت کاری اشیاء بھیج رہا ہے۔ہندوستان کی آرمڈ فورسس، میڈیکل سرویسز کو جرمنی سے 23 موبائیل آکسیجن جنریشن پلانٹس درآمد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسرائیل نے دہشت گردی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے رمضان المبارک میں جمعة الوداع کے دن مسجد اقصی پر اس وقت حملہ کردیا جب مسلمان نماز تراویح ادا کررہے تھے۔جس کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی جم کر پلٹ وار کیا اور دونوں جانب سے مسلسل میزائیل داغے جاتے رہے اور اس جنگ نے شدت اختیار کرلی جو کہ اب تک جاری ہے۔ اب تک اس لڑائی میں 61بچوں سمیت کم از کم 232 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 5000 سے زائد ہیں اور 58000سے زیادہ فلسطینی مسلمان لاپتہ کردیے گئے اور کئی میڈیا ہاؤس سمیت 500 سے زیادہ گھر بموں سے ڈھیر کردیے گئے۔ساتھ ہی 10 اسرائیلی شہریوں کے ہلاک ہو نے کی بھی خبر ہے۔ فلسطین کی حالت تشویشناک ہے۔انسانی حقوق کی تنظمیں خاموش ہیں،جہاں او۔ آئی۔ سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریس) نے اسرائیل کے خلاف مزاحمتی بیان،امریکہ نے فریقین کو جنگ بندی کے لئے تاکیدی بیان اور ہندوستان نے فلسطینی حقوق کے لئے تائیدی بیان جاری کیے وہیں ترکی نے بھی اسرائیل کو دھمکی بھرے بیانات پر اکتفا کرلیا۔لیکن جنگ ابھی جاری ہے اور اسرائیل کی بربریت اپنے عروج پر ہے۔اللہ مسجد اقصی کی حفاظت فرمائے اور ظالمین کو ان کے انجام تک پہنچائے۔ آمین۔
جون ۲۰۲۱