موجودہ حالات میں داعی کے لیے سفرِ طائف سے پیغام

 سیرت کے ابواب سے ہمیں یہ رہ نمائی ملتی ہے کہ مسلمانوں کے لیے حالات چاہے جتنے سخت ہوں، انھیں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سیرت کے البم سے کچھ اوراق  پلٹے  تو نظر سفرِ طائف پر ٹھہر گئی ۔جب پیارے نبی ﷺ مکۃ المکرمہ کی گلیوں میں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ حالت یہ ہوتی کہ پیارے نبیﷺ باہر نکلنے تو مخالفین آپ کی باتوں کو سننے کے بجائے، اجنبیوں جیسا سلوک کرتے۔ ایک دن ایسا گزرا کہ حق کی بات سننے والا ایک شخص بھی نہ ملا۔مخالفین نے ترکیب یہ اختیار کہ بات سنی ہی نہ جائے۔ کیوں کہ بات سننے ہی سے دل میں اترتی ہے۔ آ پؐ دل برداشتگی کی حالت میں وہاں سے لوٹے۔ ایک گھٹن تھی کہ جن کے حق میں خیر کا طلب بہی خواہی کرنا چاہے، وہی استہزاء اور شر ک کا مظاہرہ کرے ۔
اس کے بعد آپ نے طے کیا کہ اب حق کی دعوت کے لیے طائف کا سفر کریں گے ۔ داعی حق کے لیے سفرِ طائف میں بہت سے اسباق ہیں:
حکمت
طائف، مکہ سے بالکل قریب ہی ایک سرسبز وشاداب علاقہ ہے۔ جہاں عربوں کے کچھ قبیلے آباد ہیں۔ بنو ثقیف قبیلے میں قریش کی ایک خاتون جو بنو جمح سے تھیں، ان کے دوبیٹے تھے۔ انہی سے سب سے پہلے ملاقات کا منصوبہ بنایا تاکہ لحاظ داری قائم رہے۔ مکہ سے خبریں طائف پہنچا کرتی تھیں۔ وہاں اجنبی ماحول میں لحاظ داری کے بطور حکمتاً شناسائی سے ملاقات کا منصوبہ بنایا ۔
داعی کے لیے اس میں پیغام ہے کہ اجنبی سے ملاقات کے دوران میں، معمولی سی شناسائی بھی ہوتو گفتگو کی ابتدا کرنے اور پیغامِ حق کی ترسیل میں یہ بہت مفید ہوتی ہے۔داعیانِ حق کو اپنے منصوبے میں اس کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔
دفع
اللہ کے رسولﷺ  نے طائف پہنچ کر فرداً فرداً دونوں سے ملاقات کی۔ دونوں ہی نے آپؐ کی باتوں کا نہ صرف یہ کہ انکار کیا، بلکہ شہر کے اشرارکو آپؐ پر     پتھر پھینکنے پر اکسایا۔آپؐ پر شر پسند وں نے پتھروں سے گھٹنوں اور ٹخنوں پر وار کیا۔آپؐ ا    س تکلیف سے پریشان ہوکر بیٹھ جاتے اور ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیتے ۔گویا کہ دفاعی پوزیشن اختیار کر لیتے۔ داعی کو چاہیے کہ حالات پریشان کن ہوں اور تکلیف حد سے بڑھنے کا امکان ہوتو دفاعی پوزیشن اس کے لیے اھم ہے۔ کارِ دعوت دراصل داعی کی سیلف اسٹیم کے ہائی لیول پرہونے کی علامت ہے ۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی ذات کے تحفظ کا بھی خیال رکھے ۔
انتہائی تکلیف دہ دن تھا، جب ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے آپ ؐ سے پوچھا:

هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ؟ فَقَالَ: ” لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ فَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عرضتُ نَفسِي على ابْن عبد يَا لِيل بْنِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ – وَأَنا مهموم – على وَجْهي فَلم أفق إِلَّا فِي قرن الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ “. قَالَ: ” فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَأَنَا مَلَكُ الْجِبَالِ وَقَدْ بَعَثَنِي رَبُّكَ إِلَيْكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرك إِن شِئْت أطبق عَلَيْهِم الأخشبين ” فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئا (مُتَّفق عَلَيْهِ)

 ’’ یارسول اللهﷺ! کیا آپ پر کوئی دن ایسا بھی گزرا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو ؟آپؐ نے فرمایا: میں نے تمہاری قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں۔احد سے سخت دن، جب میں نے ان کی مصیبت جھیلی، عقبہ کا دن تھا۔جب کہ میں نے اپنے کو ابن عبدیا لیل ابن کلال کے سامنے کیا،جو میں نے چاہا تھا، اس نے وہ جواب نہ دیا تو میں اپنے رخ پر چلا۔ حالاں کہ میں حیران تھا۔ مجھے اس حیرانی سے افاقہ نہ ہوا۔ مگر مقام قرن ثعالب میں تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں ایک بادل کے سامنے تھا، جس نے مجھ پر سایہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس میں جبریلؑ تھے۔انہوں نے مجھے پکارا اورکہا کہ الله نے آپ کی قوم کا کلام اور جو انہوں نے آپ کو جواب دیا، سن لیا ہے۔ آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ ان کفار کے متعلق جو چاہیں حکم دیں۔فرمایا کہ پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا، مجھے سلام کیا، پھر کہا: اے محمدﷺ ! الله نے آپ کی قوم کا کلام سن لیا۔ میں پہاڑوں کافرشتہ ہوں۔ مجھے آپ کے رب نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ آپ مجھے اپنے فیصلے کا حکم دیں۔اگر آپ چاہیں تو میں ان لوگوں پر دو اخشب پہاڑ ملادوں؟تو رسول اللهﷺنے فرمایا:’’میں امیدکرتا ہوں کہ الله تعالیٰ ان کی پیٹھوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک الله کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ (مسلم، بخاری)
اللہ کے نبیﷺکا طائف میں پتھر کھا کر تکلیف سے نڈھال ہوجانا، دفاعی پوزیشن اختیار کرنا اوراس بات کو وقت سے بہت پہلے بھانپ لینا کہ چچا ابو طالب کی وفات کے بعد دشمن کے حوصلے بلند ہیں ۔ایک داعی کے لیے اس میں یہ نکتہ ہے کہ جب وہ دشمن کے حوصلے جان لے تو قدم پھونک پھونک کر اٹھائے ۔
پیارے نبی ﷺ نے طائف کے جس باغ میں پناہ لیتے ہیں، وہاں بھی انتہائی تکلیف دہ حالت میں اس باغ کے مالک کے نصرانی غلام عداس سے گفتگو کرتے ہیں ۔ اس انداز کو بھی داعی پیش نظر رکھے کہ انداز کس قدر محو کردینے والا ہے۔ جب غلام نے انگور کے خوشے سے ضیافت کی تو آپؐ نے’ بسم اللہ‘ کہہ کر کھانا شروع کیا۔ غلام نے کہا: ’یہ کلمات تو عیسی ابن مریم جیسے ہیں‘ ۔آپؐ نے اپنائیت سے پوچھا:’ تم کس شہر سے ہو ؟اور تمہارا دین کیا ہے؟‘ کہنے لگا: میرا نام نینوا ہے۔ میں عیسائی ہوں ۔ آپؐ کی گفتگو چلتی رہی اور وہ غلام مسلمان ہوگیا ۔
یہاں بھی یہ سبق ہے کہ حالات چاہے جس قدر نامساعد ہوں، مومن اور ایک داعی کا کردار سراپا دعوت ہونا چاہیے۔ وہ اپنے اس مشن کو لحظہ بھر کے لیے بھی نہ بھولے ۔
رجائیت
اسی طرح ایک داعی کے لیے رجائیت پسند ہونے کا پیغام ہے۔جب فرشتے نے کہا کہ: اے نبی! آپ کہیں تو ہم ان پہاڑوں کے درمیان قوم کو پیس دیں؟ آپؐ نے جواب دیا: ’نہیں ،ان کی نسلیں ایمان لے آئیں گے ۔‘
اللہ کے رسول ﷺ کی گفتگو میں کس قدر امید ہے۔ داعی کا بھی حوصلہ بلند ہوتا ہے کہ جب نتائج زیروہوں، بظاہر ناامیدی نظر آئے، تب بھی وہ پیغام حق کی ترسیل کے لیے پُر امید ہو ۔
اسی طرح دشمن کے منصوبوں کا اندازا لگانے کے بعد آپؐ نے بہت احتیاط کے ساتھ طائف سے نخلہ تشریف لائے ، بعد ازاں غاز حرا میں پناہ لی اور دیگر طائف کے سرادران کو حمایت کا پیغام بھیجا، جس میں مطعم بن عدی نے آپ ؐ کو حمایت دی ۔ مطعم بن عدی کے دو فرزند تلوار سونت کر پیارے نبی ﷺ کو مکہ لے آتے ہیں ۔قریش نے پوچھا کہ: اے مطعم بن عدی! کیا چیز تمہیں محمد کے قریب لائی ہے ۔مطعم بن عدی نے جواب دیا کہ:’ خبردار! محمد کو کوئی میلی آنکھ سے بھی نہ دیکھے، وہ میری حمایت میں ہیں۔‘‘
لوگوں کی سلیم الطبعی کو ملحوظ رکھنا، ان کی حمیت میں بھی نیکی ہو، اس کو اسلام کے حق میں سازگار بنانے کی سعی، یہ داعی کا کردار ہے ۔
ملکِ عزیز کے حالات اس وقت بہت نامساعد ہیں۔ بے گناہوں پر ظلم وستم کیا جا رہا ہے اور خوف ودہشت کا ماحول ہے۔ کارِ دعوت بھی مشکل ترین بنادیا گیا ہے۔ سفرِ طائف داعی کے حوصلے بلند کرتا ہے کہ دعوت کے مشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں تو داعی کی خاموشی بھی پیغامِ دعوت بن جاتی ہے۔یہاں تک کہ اس کا ظلم سہنا ، اس کی امن پسندی اور مدعو کے حق میں دعا بھی کارِدعوت ہے ۔

2 Comments

  1. Farhat Islam

    Mai ne barha is waqya ko padha hai lekin is andaazme nahi – bohot hi umda likha hai

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر