مومن مومن کا آئینہ ہے
قلمکار‎ : اشفاق النساء

آئینہ آپ کی بات آپ ہی کو بتاتا ہے پیٹھ پیچھے کسی سے نہیں کہتا ہمیں درس ملا کہ مومن کو بھی چاہیے کہ اپنے بھائی کی برائی اسی کے سامنے پیش کرے پیٹھ پیچھے غیبت نہ کرے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
المؤمن مراة المؤ من
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مومن مومن کا آئینہ ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ کوچ کر رہا تھا عیدالفطر قریب تھی گھر کی چار دیواری پر نظر دوڑائی۔مکڑیوں کے جال دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ سوچا تھوڑی فرصت نکال کر صفائی کر لیں چلو ہم نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنایا اور صفائی کی مہم شروع کی کچن ڈر ائینگ وبیڈ روم اس طرح book shelf تک پہنچے۔دورانِ صفائی ایک سیاہی کی بوتل سے ٹکرا گئے۔ہوا تو کچھ نہیں صرف سیاہی کے چند قطرات ہاتھوں کو چھو گئے اور پتہ نہیں وہ کس طرح چہرے تک پہنچ گئے چھوٹی بچی دیکھ کر مسکرانے لگی۔پتہ چلا کہ چہرے پہ سیاہی کے دھبے لگے ہیں بڑا احساس ہوا صرف بچی کے مسکرانے پر شرمندگی محسوس ہوئی۔اور گھر کے دوسرے افراد نہ دیکھ لیں یہ احساس بھی جاگ اٹھا عجیب سا ڈر لگا تب ہی سورۂ رحمن کی آیت کریمہ نے دل پر دستک دی۔
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ
ترجمہ:
اور ہر اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو دو باغ ہیں۔
بس یاد آیا کہ جس طرح ہم گھر کے افراد سے ڈر محسوس کر رہے ہیں اسی طرح ایک روز ہمیں اپنے رب کے سامنے بھی کھڑا ہونا ہے۔
چہرے پر لگے دھبوں سے ہم خائف تو تھے ہی فوراً آئینے کے سامنے پہنچے۔آئینے کا مخلصانہ رویہ دیکھئے جہاں جہاں دھبے لگے تو فوراً بتا دیا اور ہمیں بھی تو دیکھیے قبول کرلیا ۔
دل نے پھر دستک دی۔دیکھ لیجئے آئینہ کتنا صاف گو ہے آپ کے چہرے کی گندگی کو قطعاً گوارا نہیں کیا اور آپ نے بھی اسے قبول کر لیا۔بس اسی طرح ایک مومن کو بھی چاہیے کہ جب وہ کسی مومن کے اندر کوئی کمی دیکھے تو اسے اپنا آئینہ سمجھتے ہوئے زائل کرنے کی کوشش کرے۔ہم نے دھبے صاف کئے اور وہاں سے پرے ہوئے تو ہماری خوشدامن صا حبہ پہنچیں۔ڈر سا لگا پھر ہم ذرا پیچھے ہولیے اور کان دھرنے لگے کہ آئینہ ہماری اس درگت کو بتا دے گا لیکن وہ خاموش رہا پتہ چلا آئینہ آپ کی بات آپ ہی کو بتاتا ہے پیٹھ پیچھے کسی سے نہیں کہتا ہمیں درس ملا کہ مومن کو بھی چاہیے کہ اپنے بھائی کی برائی اسی کے سامنے پیش کرے پیٹھ پیچھے غیبت نہ کرے۔
اور چند باتیں جو آئینے پر غور و خوض کرنے پر ہمیں پتہ چلیں وہ یہ کہ
۱۔آئینے کے سامنے امیر ہو یا غریب ساس ہو یا بہو، بھائی ہو یا بہن چاہے کوئی بھی کھڑا ہو وہ کسی سے نہیں ڈرتا بے خوف و خطر حقیقت کا اظہار کرتا ہے سوچا کہ ایک مومن کو دوسرے مومن کے تئیں اسی آئینے کی طرح بے باک ہونا چاہیے اور کسی شخصیت سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔
۲۔آئینہ تب ہی بات کرتا ہے جب ہم اس سے کچھ پوچھتے ہیں بغیر پوچھے وہ کسی چیز کی شہادت نہیں دیتا ایک مومن کو چاہیے کہ تب ہی شہادت دے جب اس سے پوچھا جائے۔
۳۔آئینہ منہ کی بات منہ پر کہتا ہے دل میں کچھ نہیں رکھتا ایک مومن کو بھی چاہیے کہ کسی مومن کو تنبیہ کرنے کے بعد دل میں اس کے خلاف کچھ نہ رکھے۔
۴۔آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا ایک مومن کو بھی ایک مومن کے تعلق سے ہمیشہ سچی بات ہی کہنی چاہیے۔
۵۔آئینہ اچھائیاں اور برائیاں دونوں بیان کرتا ہے کسی ایک پر اکتفا نہیں کرتا ایک مومن کو بھی چاہیے کہ جب وہ کسی شخص کے متعلق گفتگو کرے تو دونوں پہلو سامنے رکھے۔
۷۔آئینہ ہر چیز کو اس کی اصل مقدار و کیفیت میں پیش کرتا ہے مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتا اگر چہرے پر دو داغ ہیں تو وہ دو ہی داغ بتاتا ہے کم یا زیادہ نہیں کرتا ایک مومن کو بھی چاہیے کہ وہ دوسرے مومن کے تعلق سے کسی بھی قسم کی مبالغہ آرائی سے کام نہ لے۔
۸۔آئینے کی چند خصوصیات ہمارے ذہن میں آئیں اور مندرجہ بالا حدیث کی اہمیت واضح ہوگی
ٔ کہ مومن مومن کا آئینہ ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں آئینہ کی صفات سے متصف فرما دے اور ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے آئینہ کے مثل بنا دے۔آمین