میرا گاؤں
میرے گاؤں کا نام محمد پور ہے۔ میرا گاؤں بہت ہی خوبصورت ہے۔ یہ گاؤں ریاست بہار کے ضلع کشن گنج میں واقع ہے۔ میرے گاؤں کی مٹّی بہت ہی زرخیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے گاؤں میں فصلیں اچھی ہوتی ہیں۔
مجھے میرا گاؤں بہت پسند ہے۔ فجر کی اذان سے پہلے گاؤں کے لوگ جاگ اٹھتے ہیں اور نماز فجر کے بعد ناشتہ وغیرہ کر کے سب اپنے کام کاج میں جٹ جاتے ہیں۔ بچّے اسکول چلے جاتے ہیں۔(کووڈ کی وجہ سے پچھلے سال سے اسکولیں بند ہیں۔) عورتیں اپنے گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ کسان اپنے کھیتوں کی مشاغت کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں۔
مجھے میرے گاؤں کے ہرے بھرے لہلہاتے کھیت بڑے اچھے لگتے ہیں۔ کھیتوں کے پرے بہت دور پہاڑوں کے درمیان سے اگتے ہوئےسورج کا منظر دل کو موہ لیتا ہے۔ وہیں دور سے اچھل کود کرتی ندی، پاس آکر ہمارے کھیتوں کو سر سبز و شاداب بنا جاتی ہے۔
مجھے میرے گاؤں کا اسکول بہت ہی پیارا لگتا ہے۔ جہاں پر صبح صبح بچّے جھومتے گنگناتے ہوئے اسکول جاتے ہیں۔ سب کے لباس، جسم صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ سب طلبہ من لگا کر خوشی خوشی پڑھتے ہیں، مگر آج کل سناٹا چھایا رہتا ہے۔کیوں کہ کووڈ وبا کی وجہ سے اسکول بند ہے۔ اسکول کے باہر ایک بڑا سا میدان ہے۔بچے اسی میدان میں جمع ہو جاتےہیں اور مختلف کھیل کھیلتے ہیں۔ سب مل جل کر رہتے ہیں۔ آپس میں کوئی بھی لڑائی نہیں کرتا۔ سب اخوت کے ساتھ مل کر خوشی خوشی رہتے ہیں اور کھیلتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اسکول تو بند ہے، لیکن گاؤں کے بچے جب میدان میں کھیلنے آتے ہیں تو میدان کے ساتھ اسکول کے آس پاس کی صفائی بھی کر دیتے ہیں۔ وہ بہت خوبصورت دن تھے جب 15 اگست اور 26جنوری جیسے قومی تہواروں میں بچّے صاف ستھرے یونیفارم کے ساتھ ہاتھوں میں چھوٹا سا ترنگا لے کر اسکول آتے تھے اور اسکول کی سجاوٹ کے بعد ترنگا لہرایا جاتا تھا۔ پھر پروگرام اور مقابلے ہوا کرتے تھے، خوب مزا آتا تھا۔
اسکول کے اطراف میں درخت بڑے ہی لمبے اور گھنے ہیں۔ جب ہم اسکول کے چھت پر جاتے ہیں تو انہی درختوں کی ٹھنڈی ہوا دل کو چھو جاتی ہیں۔ اسی چھت سے ندی کا ایک حصّہ صاف نظر آتا ہے۔ ہواؤں کی ٹھنڈک کو محسوس کرکے اور اپنی چشم پُر نور سے ندی کے اس حصّے کو دیکھ کر کلیجا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کاش کہ اب اسکول کھل جائے اور وہ مزے والے دن پھر لوٹ آئیں۔
ہمارے گاؤں کے لوگ کبھی بھی آپس میں لڑائی نہیں کرتے۔ سب ساتھ میں مل جل کر سرور و انبساط کے ساتھ رہتے ہیں۔ کبھی کسی کو کوئی پریشانی آتی ہے، تو سب مل کر اس کی پریشانی کو دور کرتے ہیں۔ جو بھی گاؤں میں نیا آتا ہے تو گاؤں والے اس کا احترام کرتے ہیں۔ ان سے ادب سے بات کرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کے لوگ بڑے ہی اچھے اور نیک دل ہیں۔ وہ کبھی کسی کو برا بھلا نہیں بولتے ہیں بڑوں کی سب تکریم کرتے ہیں۔
ہمارے گاؤں کے لوگ کسی کو بھی خورد و کبیر نہیں سمجھتے، سب ایک دوسرے کو مساوی درجہ دیتے ہیں۔ عصر کی نماز کے بعد ایک دوسرے کے گھر ملنے جاتے ہیں ، رات کے کھانے کے بعد باہر ٹہلنے نکلتے ہیں اور ٹہلنے کے بعد گھر آکر فوراً سو جاتے ہیں۔ پھر صبح جلدی اٹھ کر فجر کی نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں۔ سب اپنی صحت کا اچھا خیال رکھتے ہیں۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ صحت مند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا وبا کا ہمارے گاؤں میں اتنا اثر نہیں ہوا۔
ہمارے گاؤں کے بچّے اور جوان کے ساتھ کسان وغیرہ بھی پڑھے لکھے ہیں۔ اس لیے آس پاس کے گاؤں میں ہمارے گاؤں کے لوگوں کی عزّت ہے۔سب کو اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ہے۔ گاؤں کی صفائی پر زیادہ دھیان دیا جاتا ہے۔ اس لیے اس گاؤں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیشہ چھائی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے میرا گاؤں بہت پسند ہے۔
اسکول کے اطراف میں درخت بڑے ہی لمبے اور گھنے ہیں۔جب ہم اسکول کے چھت پر جاتے ہیں تو انہی درختوں کی ٹھنڈی ہوا دل کو چھو جاتی ہیں۔ اسی چھت سے ندی کا ایک حصّہ صاف نظر آتا ہے۔ ہواؤں کی ٹھنڈک کو محسوس کرکے اور اپنی چشم پُر نور سے ندی کے اس حصّے کو دیکھ کر کلیجا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کاش کہ اب اسکول کھل جائے اور وہ مزے والے دن پھر لوٹ آئیں۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر