میں روایت بدلوں گی

انسان کی عزتِ نفس جہاں مجروح ہو ، وہ اس ماحول سے دور ہوجانا چاہتا ہے تاکہ وہ اس تکلیف دہ لمحے کو بھول سکے کیونکہ زخم خوردگی کی حالت میں دیر تک رہنا اور شکست و ریخت کے احساس کو زیادہ دیر تک طاری رکھنا کوئی آسان کام بھی تو نہیں۔

وہ آج بہت اداس بوجھل قدموں سے گھر لوٹی تھی پورے اسٹاف کے سامنے مس عارفہ زیدی نے اسکی تذلیل کی تھی۔
انسان کی عزتِ نفس جہاں مجروح ہو ، وہ اس ماحول سے دور ہوجانا چاہتا ہے تاکہ وہ اس تکلیف دہ لمحے کو بھول سکے کیونکہ زخم خوردگی کی حالت میں دیر تک رہنا اور شکست و ریخت کے احساس کو زیادہ دیر تک طاری رکھنا کوئی آسان کام بھی تو نہیں۔
لیکن اس کی قسمت کہ وہ مجروح بھی اپنے اسٹاف میں سب کے سامنے ہوئی تھی مجبوری ایسی کہ اب وہ چاہ کر بھی جاب نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ شوہر کی موت کے بعد اسی ایک سہارے پر تو اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ زندگی کی ڈور بندھی ہوئی تھی۔
حالت کی گردش بھی زمین کے محور کی طرح انسان کو کہاں سے کہاں لے آتی ہے۔کیا تو وہ خوشحال زندگی کے بیس سال جہاں اپنی شوہر کی رفاقت میں زمانے بھر کی خوشحالی کے ساتھ گزرے حالات کی دھوپ کا سایہ تک نہ تھا شادی کے دوسال بعد ہی اپنی بیٹے تمیم کے گود میں آنے فرحاں و شاداں تھی کہاں کہ شوہر انور نے بیٹی کے ارمان کا ذکر کیا اور ایک کے بعد دیگرے دو بیٹیاں ذکری اور بصرہ اسکے آنگن کی زینت بنیں۔
اسکو یاد تھا اسکے میکے میں بھائی اور سسرال میں بھی سبھی لوگوں کے درمیان انور کی فیمیلی کی خاص اہمیت تھی۔
بزنس میں ترقی ،ہر نعمت کی فروانی، شاندار بنگلہ، بچوں کی اعلی تعلیم اور بلند اسٹیٹس کے ساتھ اس نے بیس سال ایسے گزارے تھے جیسے کسی تیز رفتار سواری میں ہوا کے دوش پر یہاں تک آئی ہو۔اس سواری کو آرام کی عادت سی پڑ گئی تھی لیکن پھر بھی زندگی کے اس سفر میں یکے بعد دیگرے آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
انور کا ایکسڈنٹ ہوا اور تین دن کی مختصر علالت کے بعد وہ دار فانی سے کوچ کر گئے زندگی کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے تنہا رہ گئی۔
جب جیون ساتھی ہی ساتھ چھوڑ دے تو زندگی کی کیا وقعت رہ جاتی ہے، بہترین سواری سے اتر کر پا پیادہ، تپتی دھوپ میں جلنے والا مسافر ہی یہ دکھ جان سکتا ہے۔ انور کے بزنس پارٹنرز نے اور انور کے بھائیوں نے دھوکے سے سارا بزنس اپنے نام کرلیا۔ سسرالیوں کے اور میکے کا سہارا بھی یکدم چھوٹ تو نہیں گیا لیکن رشتہ دار مصیبت زدہ فیمیلی سے سمٹ سے گئے۔
یوں بھی وہ تو اپنی ذات پر وقت کے گرم تھپیڑے برداشت کرنے کے لیے بچوں کو سایہ فراہم کرنے کا عزم لے کر اٹھی تھی خود تعلیم یافتہ تھی،جاب کے لئے اپلائی کردیا وہ اپنے بچوں کو محسوس نہیں ہونے دینا چاہتی تھی کہ ان سے سب کچھ چھن چکا ہے۔ بچوں کو بتادیا کہ
’’تعلیم پہلے سے جاری اسکولوں ہی میں رہے گی، پاپا نے کافی دولت رکھ چھوڑی ہے۔‘‘
سسرالیوں اور میکے میں بھائیوں بھابیوں سے تعلقات بحال رکھنے کی یہی سبیل تھی کہ ہم محتاج نہیں، آپ کے آگے دست دراز نہیں کریں گے۔ یہی ایک وجہ ہوتی ہے جب رشتے اور تعلقات والے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔
خودداری فطرت نے کچھ زیادہ ہی رکھی تھی، سو اپنی جاب کی تدبیر سے وہ انتہائی تند و تیز موسم کے تھپیڑوں سے زندگی کے اس سفر کو آگے بڑھانے میں لگی تھی۔بعض اوقات وقت کی سفاک دھوپ اس کو جھلسا کر رکھ دیتی، تب وہ دل ہی دل میں رب کو پکارتی کبھی اپنی اسی مخصوص جگہ جہاں انور اور وہ زندگی کے خواب دیکھا کرتے تھے، اپنے خیالوں ہی میں انور سے مخاطب ہوا کر تی۔
’’سارے منصوبوں سے آگاہ کیا کرتے تھے آپ مجھ کو انور !
لیکن تنہا چھوڑ دینے کا ہلکا ذکر تک نہ کیا!‘‘ اور آنسو بہا کر رات کا آخری پہر بھی گزار ہی لیتی۔ عمر کے اس دور سے گزر رہی تھی کہ اشارہ کنائے میں دوسری شادی کے اشارہ بھی ملے لیکن اپنی دونوں بیٹیوں کا خیال آگے بڑھنے نہ دیتا یہ بات نہیں کہ وہ دوسری شادی سے متنفر تھی لیکن احساسِ ذمہ داری اور دوراندیشی نے بیٹیوں کی بیٹے کی تربیت پر زندگی تج دینے کو ترجیح دیا۔
وہ انور سے خیالوں میں گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتاتی کہ ’’ انور میری ذات تو بچوں کی تربیت پر پہلے ہی وقف تھی میں اب بھی ترجیحاً بچوں کی تنہائی کے احساس سے گھبراتی ہوں۔ ‘‘
من ہی من وہ فیصلہ تو کر چکی تھی خودداری کا بھرم باقی رکھنے کی کوشش کرے گی۔

اسکی ساری کوشش یہی ہوتی کہ اپنے رشتہ داروں سے ہر قیمت پر تعلقات بنائے رکھے تاکہ بچوں کو عدم تحفظ کا احساس نہ ہو کہ ہمارا دنیا میں کوئی نہیں یہ احساس بچوں کو یا تو بہت حساس بناکر وقت سے پہلے میچور بنادیتا ہے یا بچے اس احساس کی وجہ سے باغیانہ سوچ بن کر بے راہ روی کی طرف چل پڑتے ہیں۔تربیت کے اس نکتے پر وہ انور کی زندگی میں بھی اور بعد میں مستحضر رکھے ہوئے تھی خیر اس نے سبھی رشتوں کا بھرم باقی رکھا تھا۔
زندگی جب مہربان ہوجائے تو بندے کی یہ حالت ہوتی ہے کہ
’’کرے مس کو مس تو کیمیا ہو ‘‘
اور اگر آزمائش اپنی چادر تان لے تو تسبیح کے ٹوٹے دانوں کی طرح مشکلات آتی ہیں۔دوسال سے وہ زیورات بیچ کر بچوں کی اچھے اسکول کی فیس خاموشی سے ادا کررہی تھی لیکن اس سال تمیم کا اسکول آکسفورڈ میں سی بی ایس ای سے، سی ایس آئی سسٹم میں منتقل ہورہا تھا، لہذا اس کو اس سال فیس کی مد میں ایک لاکھ روپے جمع کروانا تھے۔ بہت دل کڑا کرکے اس نے مس عارفہ زیدی کو ایجوکیشن ٹرسٹ سے قرض کی درخواست تو دے دی لیکن دیتے ہوئے زمین میں غیرت سے گڑ گڑ گئی تھی۔
مس عارفہ نے مسکراتے ہوئے درخواست لے لی لیکن دوگھنٹے بعد اسٹاف میں چلی آئیں اور سب کے سامنے بہت تمسخرانہ انداز میں اخبار پٹختے ہوئے کہا۔
یہ شمائلہ چراغ تلے اندھیرا کی بہترین مثال ہے۔
’’یہ تو وہی بات ہے حقدار ترسے اور شعلے برسے۔‘‘
سبھی اسٹاف ممبر متوجہ ہوئے۔۔شمائلہ گھبراہٹ میں کرسی سے کھڑی ہوگئی وہ سمجھ چکی تھی مس زیدی کیا کہنا چاہتی ہیں۔ آج کے اخبار میں ایک اعلان تھا۔
زبیر سیٹھ ( شمائلہ کے سگے بھائی) کے گھر میں 21 ویں روزے کو زکوٰۃ تقسیم ہوگی۔ سبھی غرباء انکے صحن میں تشریف لائیں۔
شمائلہ کے دونوں بھائی زبیر اور جاوید رمضان میں تقریبا دس دن تک زکوٰۃ کا عام اعلان کرواتے تھے اور غریب بستی کے لوگ لائن لگاکر لے جاتے۔
اور ہاں مس عارفہ زیدی سانس لینے رکیں ’’ میں ذاتی طور پر جانتی ہوں کس کس ٹرسٹ کو یہ آپ کے بھائی ڈونیشن دیتے ہیں اور زکوۃ کی رقم بھی کہاں کہاں خرچ کرتے ہیں۔‘‘
شمائلہ نے اپنے وجود کی ساری قوت کو مجتمع کیا اور کہا؛ ’’مس زیدی میں نے قرض کی درخواست دی ہے ، زکوٰۃ یا صدقہ سے نہیں مانگا۔‘‘
اتنا کہتے ہوئے اسکے کانوں کی لوئیں گرم ہوگئی تھیں اور سارا وجود شرمندگی سے کانپ رہا تھا وہ اس وقت مٹی کی ایسی دیوار تھی جو بس ہاتھ لگاتے ہی ڈھے جائے گی، اسی شرمندگی کے ساتھ گھر لوٹ آئی۔عید آنے میں دس دن تھے گھر کے اخراجات کا وہ نظم کر بھی لے۔لیکن ایڈمیشن کے لئے پیسے کہاں سے لائے؟ وہ لاؤنج میں کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑے سوچ رہی تھی۔اچانک تمیم نے گیٹ کھولا اسکے ساتھ عارفہ زیدی داخل ہوئیں۔وہ تو اتنی مگن تھی کہ گیٹ سے آنے والی کال بیل کی آواز بھی سن نہ سکی تھی عارفہ زیدی کو دیکھ کر اسے صبح کا واقعہ یاد آگیا اور وہ جز بز ہوکر رہ گئی۔
کچھ دیر بعد اسکی خاموشی اور گلا رندھ جانے کا احساس کرتے ہوئے عارفہ زیدی نےکہا؛ شمائلہ! ’’مانا کہ میرا انداز ترش تھا لیکن میری بہن میں آپکو اشارہ دینے لگی تھی کہ اپنے بھائیوں سے جائز حق کا مطالبہ تو آپ کر ہی سکتی ہیں، جو آپ کا وراثتی حق ہے آپ کے والد کے انتقال کے بعد شرعی اعتبار سے وہ آپ کی وراثت ہے لیکن آپ خود داری اور غیرت کے نام پر اپنے بھائیوں سے سسرالیوں سے وراثت کا مطالبہ نہیں کررہی ہیں۔ جھوٹی شان کے لئے ہمارے معاشرے کے بھائی زکوٰۃ کا اھتمام تو کرتے ہیں لیکن بہنوں کو وراثت کے حق سے محروم کردیتے ہیں ۔اگر غور کرو تو زکوٰۃ مال کو پاک کرنے کا نام ہے۔ وہ مال کیا پاک ہوگا ہو جس کی بنیاد ہی غصب پر ہے۔‌‘‘
شمائلہ نے کہا؛ ’’میرے بچوں کو ماموں کے گھر کے تحفظ کااحساس رہتا ہے ، یہ مطالبہ کرنے سے وہ بھی نہ رہے گا۔ ہمارے سماج میں وراثتی حق مانگنے والی بہن کو باغی اور بری لڑکی سمجھا جاتا ہے۔ ‘‘
بہرحال مس زیدی نے اپنے تئیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:
’’ان بھائیوں کو کیا خبر کہ یہ باغی نظر آنے والی لڑکیاں ہی انہیں جہنم کی آگ سے بچاتی ہیں اور بظاہر تہذیب کے نام پر زبان نہ کھولنے والی بہنیں انہیں جہنم رسید کرتی ہیں۔‘‘
مس زیدی نے قرض کی درخواست منظور کروا کر پیسے شمائلہ کو دلوادئیے لیکن سوچ کے نئے زاویہ دے کر رخصت ہوگئیں۔
اکیسویں روزے کی صبح ہی بھائی کے گھر سے دعوت افطار آگئی۔کپڑا اور اناج بھی شمائلہ کے ہاتھ سے تقسیم کروایا گیا۔ اس دوران شمائلہ مس زیدی کی باتوں پر سوچتی رہی۔
’’کیسی ہماری عبادتیں صدقات اور خیرات بس ایک روایت بن کر رہ گئی ہیں، اصل روح کا کیا …؟ عبادتوں کا مزاج کہیں کھو سا گیا یہ زکوٰۃ جس سے مال کا تزکیہ کیا جارہا ہے یہ تو خود ابھی غصب کیا ہوا مال ہے نہیں!!! نہیں تکرار کی آواز گھٹ گئ شمائلہ کی آنکھوں سے بے آواز آنسو دل کی سطح پر گرنے لگے اس کی سوچ کا تسلسل اس وقت ٹوٹا جب تمیم نے کہا؛ ماما میں بڑا ہوکر ماموں کی طرح غریبوں کی خوب مدد کروں گا اور دیکھئیے گا اسی طرح زکوة بانٹا کروں گا۔‘‘
وہ سوچنے لگی شاید اقدار بدل گئی ہیں۔میرا بیٹا بھی ماموں کو مثال سمجھتا ہے کل اس جگہ میری دونوں بیٹیاں.کھڑی ہوں گی انکے دلوں میں آگ لگی ہوگی اور بھائی دوسروں کو سیراب کررہا ہوگا۔
نہیں، اگلے لمحہ اس کی آنکھوں میں روایت کو بدلنے کی چمک آئی اور وہ اپنے بچوں کو لے کر عزم کے ساتھ چلی آئی اس سوچ کے ساتھ میں روایات بدلوں گی، اپنے بیٹے کو حقدار کا حق دینا سکھاوں گی، یہ کام میں اب نہ کرسکی تو کبھی نہیں ہوگا!
عزم تھا کہ سسرالیوں سے اپنے سسر کا حق جو انور کی زندگی میں خسر کا انتقال ہوا، تھا اس ترکہ سےانور کا حصہ اب تک انور کے بڑے بھائی کے پاس ہی ہے اسکے طلب کروں گی ۔
اپنے بھائیوں سے اپنے والد کی وارثت مانگنے میں گریز نہیں کروں گی۔اور ہاں اپنے بیٹے کو بغیر مانگے بہنوں کا حق دینا سکھاؤں گی ۔بہنوں کو مانگنا نہ پڑے وہ وارث تسلیم کی جائے یہ میں کروں گی ۔۔۔جی جی میں روایت بدلوں گی۔‘‘

وہ سوچنے لگی شاید اقدار بدل گئی ہیں۔ میرا بیٹا بھی ماموں کو مثال سمجھتا ہے کل اس جگہ میری دونوں بیٹیاں کھڑی ہوں گی ان کے دلوں میں آگ لگی ہوگی اور بھائی دوسروں کو سیراب کررہا ہوگا۔ نہیں، اگلے لمحہ اس کی آنکھوں میں روایت کو بدلنے کی چمک آئی میں روایات بدلوں گی، اپنے بیٹے کو حقدار کا حق دینا سکھاؤں گی۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مئی ۲۰۲۱