نظم

میں منظر پر نگاہیں جمائے تمہاری تلاش میں ہوں 
ابھی یہیں قریب ہی تو تمہیں پایا تھا
 ابھرتا سورج ریت میں رقصاں قافلوں کو واضح کرتا ہے اور میں ہر انگ میں ’’حق‘‘ دیکھتا ہوں
 وہ کاروان کے آخر میں چلتے اس نوجوان کو دیکھو
 اس کے لب بے اختیار ورد میں ہلتے ہیں 
شاید کلمہ پڑھتا ہوگا! 
اس چٹیل صحرا میں ’’وحدانیت‘‘کے سوا کچھ نہیں گونجتا۔۔ 
میں تیسری رو میں کھڑی دوشیزہ کی گود میں چھوٹا سا بچہ دیکھ رہا ہوں 
اس کے ماتھے پر جہد مسلسل کی دھوپ چمکتی ہے 
رخت سفر باندھے ہر راہی کی منزل کٹھن سہی مگر ارادے بلند ہیں!
 رب کی تلاش میں نکلے ہر مسافر کو حقیقت کا پھل ’’وہ‘‘ ذہن میں اتر کر دیتا ہے
 نادان ساتھی! خدا بولتا ہے!

جولائی ۲۰۲۱