نظم
ذاتِ مومن مومنوں کی یار ہے
اور ’’ اَشِدّاءُعَلَی الْکُفّار‘‘ ہے

دل کی نرمی، شیریں گفتاری و حِلم
خوبی و رعنائی کردار ہے

یا خدا! قلب و ذہن بیمار ہے
موت کا ڈر، زندگی سے پیار ہے

دل مرا پکا موحّد ہے مگر
خواہشاتِ نفس کا آزار ہے

راہِ حق پر چلنے والوں کے لیے
موت آساں، زندگی دشوار ہے
جولائی ۲۰۲۱