نظم
چراغوں کی ہوا بھی چارہ گر ہے
یہی تو امتزاج خیر و شر ہے
ہم اپنے وقت سے پیچھے رہے ہیں
ہمیں درپیش صدیوں کا سفر ہے
بھٹکنا دربدر منزل ہے ان کی
جنوں زادوں کا قصہ مختصر ہے
یہ وحشت دل کے اندر آ بسی ہے
یہ تنہائی تو آخر ہر نگر ہے
ہوئے ہیں خاک کتنے تو بنا ہے
وہ اک رستہ کہ تیری رہگزر ہے
انھیں حسن جہاں آرا ملا ہے
ہمارے پاس اک نقد نظر ہے
ذرا اندازہ کیجے، کب سے در پر
کوئی تسلیم خو ہے، سر بسر ہے
حضور، آخر کہیں تو درگزر ہو
حضور، آخر کوئی بندہ بشر ہے
سلگ اٹھتے ہیں دل گاہے بگاہے
دھواں اٹھتا ہے لیکن بے اثر ہے
ہجوم دوستاں کی خیر، لیکن
ہمارے حال کی کس کو خبر ہے
غزال دشت ہیں سو اس کی بابت
ہمارا ہر حوالہ معتبر ہے

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جون ۲۰۲۱