نقدر قم نہ ہوتو زکوٰۃ کیسے نکالیں؟
(1) نقد رقم نہ ہو تو زکوٰۃ کیسے نکالیں؟ سوال : ایک خاتون صاحبِ نصاب ہے ، تاہم لاک ڈاون کے بعد شوہر کا بزنس متاثر ہوا اور بیوی کے پاس بھی اتنی نقد رقم نہیں ہے کہ وہ زکوۃ ادا کر سکے ۔ زیورات کی شکل میں اس کے پاس چار تولے کا ہار اور تین تولے کے کنگن ہیں ۔ انہیں بیچ کر زکوٰۃ دینا بھی مشکل ہے ۔ ایسی صورت میں زکوٰۃ کس طرح ادا کی جائے؟ جواب : اگر کسی خاتون کے پاس صرف سات تولے کے سونے کے زیورات ہیں ۔ اس کے پاس نہ کچھ نقد رقم ہے نہ چاندی کے زیورات ہیں تو اس پر زکوٰۃ نہیں ۔ اس لیے کہ سونے کا نصابِ زکوٰۃ ساڑے سات تولہ ہے ۔ البتہ اگر اس کے پاس کچھ سونا ، کچھ چاندی اور کچھ نقد ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی (نصابِ زکوٰۃ) کی مالیت کے بقدر ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی ۔ احادیث میں سونا اور چاندی کا الگ الگ نصاب بتایا گیا ہے ۔ فقہاء نے چاندی کو اسٹینڈرڈ مانا ہے اور سونا ، چاندی اور نقد ہونے کی صورت میں تینوں کو ملا کر زکوٰۃ نکالنے کی ہدایت کی ہے ۔ جس پر زکوٰۃ واجب ہے اسے زکوٰۃ نکالنی چاہیے ۔ بیوی کے زیورات پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو تو اسے شوہر پر انحصار نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ خود اس کی فکر کرنی چاہیے ۔ زکوٰۃ ایک سال کے بعد عائد ہوتی ہے ۔ اگر عورت کو اسے ادا کرنے کی فکر ہو تو پورے سال اس کے ہاتھ میں جو پیسے آتے ہیں ، اس میں سے تھوڑا تھوڑا پس انداز کرے تو زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے اسے شوہر کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا ۔ البتہ اگر شوہر اپنی خوشی سے بیوی کی زکوٰۃ نکال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ زکوٰۃ واجب ہونے سے پہلے نکالی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح واجب ہونے کے بعد کسی قدر تاخیر سے بھی ادائیگی کی گنجائش ہے ۔ زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد اگر کسی کے پاس اس کی ادائیگی کے لیے نقد رقم نہ ہو تو اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ حساب نوٹ کرلے اور بعد میں جب اسے کشادگی حاصل ہو تب تھوڑا تھوڑا کرکے یا یک مشت ادا کردے ۔ (2) رشتے دار کو زکوٰۃ دینا سوال : میرے ایک رشتے دار کے گھر شادی ہے _ اس میں پیسہ دینا ہی ہوتا ہے _ کیا شادی کے موقع پر پوری زکوۃ کی رقم اس رشتے دار کو دی جاسکتی ہے؟ جواب : رشتے دار کو وقتِ ضرورت زکوٰۃ دی جاسکتی ہے _ جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہو وہ اسے کئی غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرسکتا ہے اور کسی ایک کو بھی دے سکتا ہے _ عموماً شادیوں میں بہت زیادہ فضول خرچی ہوتی ہے _ غریب سے غریب شخص بھی اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی کرتا ہے تو وہ اور اس کے گھر والے خوب دل کے ارمان نکالتے ہیں اور جہیز ، تلک ، بارات ، ولیمہ اور دیگر کاموں پر بے تحاشا خرچ کرتے ہیں _ شادی کی مُسرفانہ رسوم کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور ان میں خرچ کرنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم نہیں دینی چاہیے _ البتہ اگر کوئی رشتے دار واقعی غریب ہے تو اس کے بچے یا بچی کی شادی کے موقع پر زکوٰۃ سے اس کا تعاون کیا جاسکتا ہے _ اسے کوئی چیز ، جو ازدواجی زندگی میں کام آئے، خرید کردی جاسکتی ہے اور نقد رقم بھی دی جاسکتی ہے ۔ ایک بات یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے _ کسی بھی نام سے رقم یا کوئی چیز دی جاسکتی ہے ۔
اپریل ۲۰۲۱