نوعمرلڑکیوں میں عشق کا مرض2

اپریل 2021ء کے شمارے میں ہم نو عمر لڑکیوں میں عشق کے موضوع پر لکھتے ہوئے اس کے نقصانات پر روشنی ڈالی تھی اور ماں باپ کو سات(7) مشورے دیے تھے جن کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ اپنی بچیوں کو اس لعنت محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد سوالات موصول ہوئے کہ تربیت اور احتیاط کے باوجود یا احتیاط نہ کرنے کے نتیجے میں اگر کوئی لڑکی اس مرض کی شکار ہوجائے تو ماں باپ کو کیا کرنا چاہیے؟ آج اس موضوع کو ہم اختصار کے ساتھ زیر بحث لائیں گے۔

عملی مشوروں پر گفتگو سے پہلے چند اصولی باتوں کو سمجھ لینا ضروری ہے۔
1۔ مرد و عورت کے درمیان کشش، نظام فطرت کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے اعلیٰ وارفع مقاصد ہیں۔ اسی کشش کے نتیجے میں ایک اجنبی مرد، یعنی شوہر اپنی بیوی کے لیے رات دن محنت کرتا ہے اور اپنی محنت کی کمائی اس پر نچھاور کرتا ہے اور ایک اجنبی عورت اپنے ماں باپ، گھر اور خاندان کو چھوڑ کر شوہر کے گھر آبستی ہے۔ اس طرح خاندان وجود میں آتا ہے، نسل کی افزائش ہوتی ہے اور سماج و تمدن کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ان اعلیٰ مقاصد کے لیے جنسی کشش رکھی گئی ہے۔ اسلام نے اس کشش کو بامقصد رخ دیا ہے اور نکاح کے قوانین، زوجین کے فرائض و حقوق اور شوہر بیوی کے انتخاب کے آداب واضح کرکے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ فطری جذبہ ان اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنے۔ ان اعلیٰ مقاصد کو نظر انداز کرکے صرف نفسانی خواہشات یا ہوس کے غلبے میں ناجائز طریقے سے خواہش کی تکمیل یا شوہر بیوی کا انتخاب، یہ پورے انسانی سماج سے غداری ہے۔
2۔ ہم نے پچھلے مضمون میں لکھا تھا کہ کم عمری میں ہونے والا عشق بہت ناپائیدار ہوتا ہے اور اس کی بنیادیں انتہائی کمزور ہوتی ہیں۔ یہ ان کیمیائی مادوں کے خلل کا نتیجہ ہوتا ہے جو اس عمر میں تیزی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ انسانی رشتے صرف چہرے کے محاسن، بات چیت کے انداز یا شخصیت کی ظاہری وجاہت کے سہارے تو نہیں نبھائے جاسکتے۔ اس لیے اسلام نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ان کمزور بنیادوں پر ایک دوسرے کے قریب آنے کے دروازے دور تک جاکر بند کردیے ہیں اور نامحرم مردوں اور عورتوں کے درمیان قربت و بے تکلفی سے منع کیا ہے۔ اسی طرح اسلام نے اگرچہ شادی اور شوہر کے انتخاب میں لڑکی کی رضامندی کو ضروری قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی خصوصاََ کنواری لڑکی کے ولی یعنی باپ یا سرپرست کی رائے کو بھی اہمیت دی ہے۔ بعض مسالک میں ولی کی رضامندی بھی نکاح کے لیے ضروری ہے اور جن مسالک میں ضروری نہیں ہے وہ بھی اس کی رائے کو اہمیت ضرور دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا انتخاب سوچ سمجھ کر تمام باتوں کا لحاظ رکھ کر اور لڑکی اور اس کے سرپرستوں کے درمیان مشورے اور ان کی باہم رضامندی سے ہو، یہی اسلام کو مطلوب ہے۔
3۔ اسلامی احکام میں ترتیب و ترجیح کا تصور موجود ہے۔ اوپر کے پیراگراف میں جو بات ہم نے لکھی ہے، وہی اصلاً مطلوب ہے۔ لیکن سب سے پہلی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ لڑکی کو گناہ سے بچایا جائے اور گناہ سے بچانے کے لیے دوسرے معاملات میں کمپرومائز ضروری ہوتو کمپرومائز کرنا چاہیے۔ یہ شعور نہ ہوتو والدین بڑی غلطیاں کرتے ہیں۔
ان اصولی باتوں کو سامنے رکھ کر ہم ایسے والدین کو، جن کی بیٹی خدانخواستہ اس مرض کی شکار ہوگئی ہے، درج ذیل مشورے دینا چاہیں گے۔

لڑکی جس لڑکے کے عشق میں گرفتار ہے اور شادی کرنا چاہتی ہے، اس کے سلسلے میں درج ذیل میں سے تین باتیں ہوسکتی ہیں:
۱۔یہ شادی شرعاً جائز نہیں ہے۔
۲۔شرعاً تو جائز ہے، لیکن لڑکے کی دینی صورتِ حال، اخلاقی حالت، اس کا گھرانہ، تعلیم وغیرہ لڑکی کے بالکل مناسب حال نہیں ہے اور ماں باپ کو یقین ہے کہ یہ رشتہ پائیدار نہیں ہوسکتا یا لڑکی اس کے ساتھ زیادہ دن خوش نہیں رہ سکتی۔
۳۔ شرعاً جائز ہے۔ لڑکا بھی مناسب ہے، لیکن ماں باپ کو پسند نہیں ہے یا وہ کہیں اور رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔
ان میں جہاں تک تیسری بات کا تعلق ہے، ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر لڑکی بضد ہے تو ماں باپ کو غیر ضروری ضد نہیں کرنی چاہیے۔ اکثر ایسی ہی ضد کی وجہ سے معاملات خراب ہوجاتے ہیں۔ عشق کی صورتِ حال، عام طور پر اسی وقت پیش آتی ہے جب ان باتوں کا اور ان تربیتی تقاضوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا جن کا ذکر ہم نے گزشتہ مضمون میں کیا تھا۔ بعض والدین کو بہت اعتماد ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرسکتی۔ یہ اعتماد ضرور ہونا چاہیے،لیکن اس اعتماد کی وجہ سے کھلی چھوٹ دے دینا بھی نہایت غلط بات ہے۔ شیطان بڑے سے بڑے پارسا کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اختلاط مردوزن سے متعلق اسلامی احکام سب کے لیے ہیں۔ تربیت یافتہ پارساؤں کے لیے بھی ان احکام کی پابندی ضروری ہے۔ اس لیے ان احکام کی خلاف ورزی کی آپ نے چھوٹ دے رکھی تھی اور نامحرم لڑکوں کے میل جول اور بے تکلف روابط کا موقع دے رکھا تھا تو اس غلطی میں آپ بھی شریک ہیں۔ اب پچھتانے کا کوئی حاصل نہیں ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ نقصان کم سے کم کیسے کیا جاسکتا ہے اور آئندہ کے لیے کیا سبق حاصل کیا جاسکتا ہے؟
اس لیے اگر لڑکی ایسے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے، جو چاہے آپ کی پسند کا ہو یا نہ ہو لیکن اس میں کوئی بڑا عیب بھی نہ ہوتو اس مرحلے میں ضدوہٹ دھرمی کی بجائے اس کی خواہش کا احترام کرنا چاہیے۔ اچھے ماحول میں اور ٹھنڈے دل سے محبت کے ساتھ، اپنی پسند و ترجیحات اور اپنی رائے لڑکی پر واضح کردیں۔ لڑکے میں کوئی معمولی خرابی محسوس ہوتو اسے بھی مناسب طریقے سے بتادیں۔ اس کے بعد لڑکی جو بھی فیصلہ کرے، بہتر ہے کہ اس کا احترام کریں اور تسلیم کرلیں۔ کسی لڑکی یا لڑکے کو پسند کرنا بذات خود ناجائز نہیں ہے۔ ایسی مثالیں ہم کو نیک لوگوں کے درمیان بھی ملتی ہیں، بلکہ تاریخ میں معتبر شخصیات کے درمیان بھی ایسے واقعات ملتے ہیں کہ کوئی مرد و عورت کسی وجہ سے پسند آجائے تو اس کو پیغام بھیج کر انہوں نے جائز رشتہ قائم کرلیا ۔سمجھ دار والدین ایسے موقعوں پر لڑکی کی پسند کا خیال رکھتے ہیں اور سماج میں بات پھیلنے سے پہلے جلد سے جلد اپنی بیٹی کو جائز رشتے میں باندھ دیتے ہیں اور اسے گناہ سے اور خود کو بدنامی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر وہ ضد وہٹ دھرمی سے کام لیں تو خواہ مخواہ بات پھیلتی ہے۔
رہی پہلی صورت، یعنی لڑکی کا کسی ایسے لڑکے کے عشق میں مبتلا ہوجانا جس سے نکاح جائز نہیں ہے،یہ انتہائی شدید صورت ہے۔ اس معاملے میں والدین کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتے اور نہ انہیں کرنا چاہیے۔ اس صورت میں درج ذیل تمام تدابیر (جو دوسری صورت کے حوالے سے بیان کی جارہی ہیں) کو بروئے کار لانا چاہیے اور اس کے بعد بھی مسئلہ حل نہ ہوتو سماج اور سماجی تنظیموں کی مدد بھی حاصل کرنی چاہیے۔ اس پر آئندہ ہم تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
2۔ جب اس طرح کا معاملہ علم میں آتا ہے تو عام طور پر گھروں میں بھونچال آجاتا ہے۔ ایک طرف لڑکی ہوتی ہے، جو ایسی شدید جذباتی کیفیت میں ہوتی ہے کہ ماں باپ گھر گھر کی خوشحالی، عزت و سماجی مقام ، ماں باپ کی عزت ان سب کو ٹھوکر مارکر ایک انجان منزل کی راہ پر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور دوسری طرف ماں باپ ہوتے ہیں۔ ان کے لیے بھی یہ نہایت شدید جذباتی صدمہ ہوتا ہے۔ بیٹی پر ان کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ اپنی تربیت کا نقص سامنے آیا ہے، جس پر شدید ندامت و پچھتاوا ہے۔ آنے والے کل کا منظر نگاہوں میں ہے کہ جب یہ خبر پھیلے گی اور رشتے داروں، دوست و احباب اور پورے سماج میں ان کی عزت خاک میں مل جائے گی۔ پھر خود بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے شدید اندیشے ہوتے ہیں۔ ایسی شدید جذباتی کیفیت میں رد عمل شدید ہوتا ہے اور اکثر صورتوں میں ردعمل کی شدت ہی معاملے کو بگاڑ دیتی ہے۔ (جاری)

بعض والدین کو بہت اعتماد ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی کوئی غلط کام نہیں کرسکتی۔ یہ اعتماد ضرور ہونا چاہیے،لیکن اس اعتماد کی وجہ سے کھلی چھوٹ دے دینا بھی نہایت غلط بات ہے۔ شیطان بڑے سے بڑے پارسا کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اختلاط مردوزن سے متعلق اسلامی احکام سب کے لیے ہیں۔ تربیت یافتہ پارساؤں کے لیے بھی ان احکام کی پابندی ضروری ہے۔

ویڈیو :

آڈیو:

1 Comment

  1. سہیل بشیر کار

    بہترین

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر