نو عمر لڑکیوں میں عشق کا مرض
نوعمری میں جذبات کا یہ سیلاب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حکمت کی نشانی ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں بچہ زندگی کے اگلے مرحلوں کے لئے تیار ہورہا ہوتا ہے۔ ایک لڑکی جو ابھی تک اپنی ماں کی نگرانی اور سائے میں پرورش پارہی تھی، اسے اب زندگی کے اگلے مرحلوں کے لئے تیار ہونا ہے۔ اسے جلد ہی سماج میں ایک ذمے دار خاتون کا کردار ادا کرنا ہے۔
شہر کے مسلم علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی جس کی عمر لگ بھگ پندرہ سولہ سال ہو گی، تقریباً اِسی عمر کے ایک لڑکے کے ساتھ بائک پر بیٹھ کر پوش علاقے کے ایک پارک میں داخل ہوتی ہے۔ لڑکی برقع پوش ہے۔ لباس سے کسی اچھے گھرانے کی معلوم ہوتی ہے۔ بہت زیادہ ڈری ہوئی اور گھبرائی ہوئی ہے۔ لیکن کوئی اسے یا جبراً نہیں لایا ہے۔ اس نے اپنی مرضی سےیہ انتہائی قدم اٹھایا ہے اور تنہا ایک لڑکے کے ساتھ انجان علاقے میں آگئی ہے۔ اب یہ جوڑا پارک کے ایک سنسان کونے میں بیٹھا ہے۔ لڑکا اس کے ساتھ بہت بے تکلف ہونے کی کوشش کرتا ہے۔لڑکی مزاحمت کرتی ہے۔لیکن دھیرے دھیرے اس کی مزاحمت کی شدت کم ہوتی جاتی ہے۔ جب وہ گھر سے دور ایک پارک کے سنسان علاقے میں کسی لڑکے کے ساتھ آنے کے لئے تیار ہوگئی تو اب اگلے اقدامات کے لئے اس کا تیار ہونا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ حالات اس کے کنٹرول سے باہر ہیں اور نوعمری کے بے قابو جوش کے آگے وہ بے بس ہے۔
یہ کوئی اچھوتا واقعہ نہیں ہے۔ اس وقت بڑے شہروں میں یہ مناظر عام ہیں۔جگہ جگہ برقع پوش لڑکیاں پارکوں میں، تفریحی مراکز پر اور سنسان علاقوں میں لڑکوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں بوائے فرینڈ اور گرل گرینڈ کا کلچر تیزی سے عام ہورہا ہے۔ مسلم لڑکے لڑکیاں بھی اس سے بچے ہوئے نہیں ہیں۔ حالیہ دنوں میں مسلم لڑکیوں کےغیر مسلم لڑکوں سے تعلقات اور شادیوں کے واقعات پر مسلم معاشرے میں ہر جگہ شدید تشویش کا احساس پیدا ہوا ہے۔اس صورت حال کا ایک کونسلر کی نگاہ سے سنجیدہ تجزیہ اور والدین اور اصلاحی اداروں کے لئے اس حوالے سے کچھ تجاویز پیش کرنا اس مضمون کا مقصد ہے۔
نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کا جنس مخالف کی طرف مائل ہونا اور ان کے سلسلے میں دل میں کشش محسوس کرنا ایک فطری عمل ہے۔ نو عمری کے دور میں جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی، کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ان مختلف تبدیلیوں میں توازن پیدا کرنا اور انہیں اعتماد کے ساتھ ہینڈل کرنا یہ اکثر نوعمروں کے لئے بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ نوعمری میں جسمانی تبدیلی کا بڑا سبب جنسی ہارمونز ہوتے ہیں۔ یہ ہارمونز اُن کے جسمانی خد و خال، اعضاء وغیرہ میں تیزی سے تبدیلیاں پیدا کردیتے ہیں جس کی وجہ سے لڑکیاں بہت پریشان بھی ہوجاتی ہیں اور بہت حساس بھی ۔ کچھ لڑکیوں میں جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تبدیلیاں ایک ساتھ نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر جنسی ہارمونز کے بڑھنے کی وجہ سے جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں مگر جذباتی پختگی نہیں آتی۔جسمانی لحاظ سے تو وہ بالغ ہوجاتی ہیں لیکن ان کا ذہن اور جذبات ابھی بلوغ کے مراحل اور اس کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہوتا۔ ذہن، بتدریج ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔انسانی ذہن کا کچھ حصہ نوعمری کے ابتدائی دور میں ہی مکمل ہو جاتا ہے اور کچھ حصہ جسے پری فرنٹل کارٹیکس prefrontal cortex کہا جاتا ہے، وہ سب سے آخر میں مکمل طور پر ڈیولپ ہوتا ہےیعنی اس وقت جب بچے کی عمر تقریبا 20 سال ہوتی ہے۔پری فرنٹل کارٹیکس دماغ کا وہ حصہ ہوتا ہے جو عمل و نفاذ سے متعلق اہم فیصلوں Executive Decisions کے لئے ذمے دار ہوتا ہے یعنی اچھے برے کا جائزہ لے کر، جذبات سے اوپر اٹھ کر، اپنے بہتر مستقل کے لئے صحیح راہ کے انتخاب کا جو فیصلہ انسان کرتا ہے، اس کا تعلق دماغ کے اس حصے سے ہوتا ہے۔
چونکہ یہ حصہ ابھی پوری طرح ڈیولپ نہیں ہوتا اس لئے نوعمری کے فیصلے جذبات کے ہیجان کے زیر اثر غیر شعوری فیصلے ہوسکتے ہیں۔اس عمر میں ایڈونچر اپنے شباب پر ہوتا ہے۔ نئے نئے تجربات کی خواہش اور رسک لینے اور مختلف چیزوں کو آزمانے کی اکساہٹ انسان کو بے چین کیے رکھتی ہے۔ مگر بروقت صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔ہارمون ڈیولپمنٹ اور جسمانی تبدیلی کی وجہ سے جنس مخالف میں بڑھتی دلچسپی وکشش اور قوتِ فیصلہ کی کمی، ان دو باتوں کا ملاپ، اس عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں سے طرح طرح کی غلطیاں کراتا ہے۔ اور چونکہ پری فرنٹل کارٹیکس ابھی مکمل طور پر بنا نہیں ہیں اسی لیے بچے کبھی کبھار صحیح اور غلط کے بیچ فیصلہ نہیں کر پاتے۔
صنف مخالف کی طرف کشش اور رومانٹک تعلقات کے لئے صرف جنسی ہارمونز ہی ذمے دار نہیں ہوتے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں دماغ کے بارہ مختلف اجزاء متحرک ہوجاتے ہیں اور جوش و جذبات کی شدت پیدا کرنے والے مختلف ہارمونز کا اخراج شروع ہوجاتا ہے۔ ایڈرینالائن نامی ہارمون تناو پیدا کرتا ہے۔ اس کے اخراج سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، پسینہ آنے لگتا ہے اور منہ خشک ہوجاتا ہے۔ اس عمر میں جنس مخالف کی کوئی بات پسند آجائے تو اس کی طرف ایک نظر بھی تیزی سے یہ ہارمون خارج کرنے لگتی ہے۔ ڈوپامائن نامی ہارمون وقتی خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نشہ آور ڈرگس لینے والوں کے اندر بھی ڈرگ کے اثر سے اسی ہارمون کا اخراج نوٹ کیا گیا ہے۔ گویا ٹین ایج عشق، ڈرگ کے نشے سے کافی مماثل ہوتا ہے۔۔ان ہارمونز کے اخراج کی وجہ سے خوشی و مسرت کے احساس کی وقتی شدت اور دل کی تیز دھڑکنوں کو نوعمر لڑکے لڑکیاں محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
نوعمری میں جذبات کا یہ سیلاب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حکمت کی نشانی ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں بچہ زندگی کے اگلے مرحلوں کے لئے تیار ہورہا ہوتا ہے۔ ایک لڑکی جو ابھی تک اپنی ماں کی نگرانی اور سائے میں پرورش پارہی تھی، اسے اب زندگی کے اگلے مرحلوں کے لئے تیار ہونا ہے۔ اسے جلد ہی سماج میں ایک ذمے دار خاتون کا کردار ادا کرنا ہے۔
ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں ادا کرنی ہیں۔ ان سب مرحلوں میں اس کے سامنے طرح طرح کے جذباتی چیلنج درپیش ہونے والے ہیں۔ اسے اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہے۔ اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرنی ہے۔ نوعمری میں انسان ان سب چیلنجوں کے لئے تیار ہوتا ہے۔جنس مخالف کی طرف کشش سے اُسے آنے والی ازدواجی زندگی کی مسرتوں کا احساس ہوتا ہے۔ ہونے والے شوہر یا بیوی کو خوش رکھنے اور اس کی نظر میں محبوب بننے کی خواہش ایک عظیم محرک پیدا کرتی ہے جو مختلف میدانوں میں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے انسان کو ترغیب فراہم کرتی ہے۔وہ اپنی ان خصوصیات پر فوکس کرنے لگتے ہیں جن سے وہ اپنے جوڑے کو متاثر کرسکتے ہیں۔ لڑکوں کی اسپورٹس میں، ورزش اور جم میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔ لڑکیاں اپنے جسمانی محاسن کو لے کر زیادہ حساس ہوجاتی ہیں۔ پھر جس مضمون یا جس میدان میں وہ اچھے ہیں اس میں ان کا رتکاز بڑھ جاتا ہے۔ ان باتوں کے نتیجے میں ان کی شناخت بھی ڈیولپ ہوتی ہے۔ اس عمر میں پہلے بچوں اور بچیوں کے اندر شرم و حیا بھی اپنے عروج پر ہوتی تھی۔ شادی وغیرہ کے ہلکے سے تذکرے سے بھی ان کے چہرے سرخ ہوجاتے تھے۔
جدید مغربی تہذیب کی یلغار نے اس فطری جذبے کو کمزور کردیا ہے۔ لیکن اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوعمری میں اللہ تعالیٰ دراصل جذبات پر قابو رکھنے اور انہیں صحیح رخ دینے کی اور اپنی توانائیوں کو صحیح رخ پر اپنے ڈیولپمنٹ کے لئے استعمال کرنے کی تربیت دینا چاہتا ہے۔
کم عمری کے جذباتی عشق کے نقصانات
جنس مخالف کی طرف کشش اور اپنے جوڑے سے محبت ایک فطری جذبہ ہے۔اسلام اس جذبے کو نکاح کے پاکیزہ معاہدے کے ذریعہ منضبط کرتا ہے اور اسےصحیح رخ دیتا ہے تاکہ یہ فطری جذبہ ، مرد و عورت کے لئے پاکیزہ طریقے سے ایک دوسرے سے تسکین کا ذریعہ بنے، اس کی بنیاد پر خاندان کا ادارہ وجود میں آئے ، انسانی نسل کی افزائش ہو اور آنے والی نسل کی پرورش اور تربیت کے لئے خاندان کا پرسکون ماحول میسر آئے۔ لیکن جب یہ جذبہ وقت سے پہلے اور غلط موقعوں پر متحرک ہوجاتا ہےتو اس سے لڑکے، لڑکی، ان کے خاندان اور پورے سماج کو طرح طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کم عمری میں لڑکوں اور لڑکیوں کی قربت اور محبت اکثر منفی نتائج ہی پیدا کرتی ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمر میں لڑکوں میں جارحیت اور زور زبردستی کے رجحانات ہوتے ہیں۔ جسمانی تعلقات میں زور زبردستی اس عمر میں عام ہے۔جبکہ لڑکیاں اس عمر میں جذباتی استحصال کا آسانی سے شکار ہوجاتی ہیں۔ آسٹریلیا میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق جن کم عمر لڑکیوں نے جسمانی تعلقات قائم کر رکھےتھے ان میں سے ایک چوتھائی کی مرضی شامل نہیں تھی۔ ان میں سے پچاس فیصد لڑکیاں نشے کے اثر میں اور ۲۸ فیصد خوف کے زیر سایہ اپنی عصمتیں گنوا بیٹھیں۔ جسمانی زور زبردستی کے علاوہ جذباتی بلیک میلنگ اور نفسیاتی حربوں سے بھی انہیں مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ مغربی ملکوں کی صورت حال ہے جہاں لڑکیاں زیادہ بے خوف اور طاقت ور ہوتی ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک میں صورت حال کس قدر تشویش ناک ہوسکتی ہے۔
اس عمر میں ہونے والا عشق، انسان کو دیگر مشاغل سے بے پروا کردیتا ہے۔ اکثر جوڑے ساری دنیا سے غافل ہوجاتے ہیں ۔ تعلیم سے ہی نہیں بلکہ دوستوں کے حلقے، ماں باپ، رشتے داروں اور اپنے مشاغل سے بھی لاتعلقی ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں شخصیت کے ڈیولپمنٹ میں شدید رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔
نوعمری کی محبت کے چیلنجوں میں ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ جذبات کی شدت غیر حقیقت پسند ہوتی ہے۔ لڑکے لڑکیاں خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ اپنے پارٹنر کے بارے میں طرح طرح کے خیالی تصورات Fantasiesقائم کرتے ہیں۔ جب حقائق سے واسطہ ہوتا ہے اور خیالی تصورات کا شیش محل ٹوٹتا ہے تو شدید مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس عمر میں محبت کا جوش بہت عارضی ہوتا ہے اور جلد سرد پڑ جاتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں میں ذرا سی تلخی ہوئی کہ وہ تعلقات ختم کر دیتے ہیں ۔۔آسٹریلیا کے مذکورہ سروے کے مطابق نوعمری میں قائم ہونے والے اسی فیصد تعلقات چند مہینوں میں ختم ہوجاتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں خاص طور پر لڑکیاں شدیدنفسیاتی امراض کی شکار ہو جاتی ہیں حتیٰ کہ خودکشی کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ پچھلی باتوں کو بھول کر والدین کی مرضی کے مطابق کہیں شادی کر بھی لی جاتی ہے تو لڑکی زندگی بھر احساس جرم کی شکار رہتی ہے۔ شوہر سے آنکھ نہیں ملا پاتی۔ جرم کا احساس اور سابقہ معاشقوں کے آشکار ہونے کا خوف اس کے اندر شدید ڈپریشن اور اینکزائٹی پیدا کردیتا ہے۔ اپنے شوہر سے صحت مند جذباتی یا جنسی تعلق قائم کرنے میں دشواری درپیش ہوتی ہے۔ ناخوشگوار تعلقات صرف لڑکی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے جڑے تمام افراد، خاص طور پر بچوں پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
لڑکیوں کی تربیت
موجودہ دور میں تعلیمی اداروں کا ماحول، میڈیا، سوشل میڈیا بلکہ اردو کے ناول اور رسالے بھی اس بے ہودہ عشق کی ہمت افزائی میں لگے ہیں۔ اس ماحول سے اچانک نجات ممکن نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ لڑکیوں کی بچپن ہی سے ایسی تربیت کی جائے کہ وہ ان گندگیوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
۱۔حیا کا تصور
جدید تہذیب اور معاشرت نے حیا کو ختم کردیا ہے۔ حیا اسلام کی نہایت اہم خصوصیت ہے بلکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ۔ إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ ہر دین کا ایک امتیاز اور ایک کیرکٹر ہوتا ہے اور اسلام کا کیرکٹر حیا ہے۔حیا ، انسان کو بہت سی برائیوں اور بے حیائیوں سے بچاتی ہے۔ بچیوں میں خاص طور پر حیا کے جذبے کی افزائش کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔ جدید معاشرت اور میڈیا نے حیا کے اس فطری جذبے کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ لڑکیوں میں بھی اب بے باکی اور شوخی کو اچھا سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ ایک نامناسب رجحان ہے۔بے شک لڑکیوں میں بے خوفی ، خود اعتمادی اور جراء ت اظہار ہونی چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی قیمت نسوانی حیا کے فطری جذبے کو قربان کرکے ادا کی جائے جو عورت کا حسن بھی ہے اور اس کا طاقتور محافظ بھی۔
۲۔ارکان خاندان کی محبت
نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ انہیں بھرپور محبت دی جائے۔ ایک ماہر نفسیات نے اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر لڑکے یا لڑکی کے پاس جذبات کا ایک ٹینک ہوتا ہے۔ اگر افراد خاندان خصوصاًماں باپ، اس ٹینک کو اپنی محبت سے بھردیں تو اس کی شخصیت میں متوازن ارتقا ہونے لگتا ہے لیکن اگر یہ ٹینک خالی رہ جائے تو پھر اسے اس کو بھرنے کے لئے جنس مخالف کی طرف راغب ہونا پڑتا ہے۔ اگر گھر میں اسے بھرپور محبت ملے تو ایسے لڑکے یا لڑکی کے جذباتی استحصال کے شکار ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ لڑکیوں کے سلسلے میں خصوصاً ماوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ان کی ایسی دوست بن جائیں جن سے وہ آسانی سے اپنے دل کی بات کہہ سکیں۔خصوصاً لڑکیاں اس عمر میں ، اپنی خوبصورتی کی تعریف چاہتی ہیں۔ مائیں اور گھر کے لوگ تعریف نہ کریں اور انہیں تعریف کلاس کے کسی لڑکے سے ملے تو پھروہ لڑکا اثر انداز ہونے لگتا ہے۔ اگر حسن کی ستائش کی فطری خواہش پوری نہ ہورہی ہو تو کسی اجنبی لڑکے کی پسندیدگی و چاہت کی ایک نگاہ ، لڑکیوں کو فریفتہ کردیتی ہے۔
۳۔اسلامی آداب کی رعایت
اسلام نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مناسب فاصلے سے متعلق جو ہدایات دی ہیں ان کا اصل مقصد یہی ہے کہ اس طرح کے جذبات کے طوفان پر مناسب باندھ قائم ہو۔ مسلم معاشرے میں یہ عجیب کلچر رائج ہوچکا ہے کہ معمر خواتین تو ان احکام کی سختی سے پابندی کرتی ہیں لیکن نوعمر بچیوں کے سلسلے میں سمجھتی ہیں کہ ابھی یہ بچی ہے اور اس کو حجاب اور دیگر پابندیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ ان احکام کی سب سے زیادہ ضرورت اسی عمر میں ہے۔ بلوغ کے فوری بعد شریعت کے سارے احکام نافذ ہوجاتے ہیں ۔ احتیاطی تدابیر تو اس سے پہلے ہی شروع ہوجانی چاہیے۔ حجاب کی سختی سے پابندی، غیر محرم کے ساتھ تنہائی میں ملاقات کی ممانعت، غیر محرموں کے سامنے زیب و زینت کی ممانعت اور غیر محرموں کے ساتھ بے تکلف دوستی، ہنسی مذاق، غیر ضروری گفتگو اور طویل مجالس وغیرہ سے اجتناب ، ان ہدایات کی اگر سختی سے پابندی کی جائے تو خود بخود بہت سے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ بلوغ سے پہلے ہی سے لڑکیوں کو ان کا عادی بنادینا چاہیے۔
۴۔سوشل میڈیا
اس وقت ایک بڑا مسئلہ سوشل میڈیا کے روابط کا ہے۔ بہت سی لڑکیاں جو حقیقی زندگی میں بہت محتاط اور اسلامی آداب کی پابند ہوتی ہیں وہ سوشل میڈیا میں غیر محتاط ہوجاتی ہیں اور سوشل میڈیا روابط کے ذریعہ لڑکوں کےدام میں گرفتار ہوجاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر غیر محرموں کے ساتھ روابط کے بھی اسلامی آداب ہیں۔جنس مخالف کے افراد کے ساتھ سوشل میڈیا روابط بھی علمی استفادے یا کسی حقیقی ضرورت تک ہی محدود ہونے چاہیے۔ بے تکلف گفتگو، ہنسی مذاق، تصویر، لباس و غیرہ پر تبصرے اور چھیڑ چھاڑ کا رشتہ سوشل میڈیا پر بھی ناجائز ہے۔ لڑکیوں کو اس سے سختی سے روکنا چاہیے اور یہ تربیت بھی دینی چاہیے کہ جو مرد یا لڑکے سوشل میڈیا پر حدود سے تجاوز کرتے ہوئے بے تکلف ہونے کی کوشش کریں ، ان سے فوری رابطہ منقطع کرلیں۔
۵۔صحت مند مشاغل
نوعمروں کو بے راہ روی اور گمراہ کن رویوں سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے جوش و جذبے اور اضافی توانائی کو تعمیری رخ دیا جائے۔ اس کے لئے انہیں بامقصد سرگرمیوں اور صحت مند تعمیری مشاغل سے جوڑا جائے اور اس کی ہمت افزائی کی جائے۔موجودہ دور میں اس کا سب سے اچھا اور مفید طریقہ یہ ہے کہ انہیں طلبہ و طالبات کی تنظیموں سے وابستہ کرایا جائے۔ایس آئی او اور جی آئی او میں انہیں پاکیزہ صحبت بھی میسر آئے گی، دین اور دینی احکام کی تذکیر اور ان کے حوالے سے نگہبانی کا بھی اہتمام ہوگا اور ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کے لئے مثبت اور تعمیری استعمال بھی میسرا ٓئے گا۔ اس ماحول کا وہ حصہ بنیں گے تو ان شاء اللہ دیگر فضولیات کی طرف نہ وہ راغب ہوں گے اور نہ اس کی فرصت انہیں میسر ہوگی۔
۶۔آزادی اور کنٹرول میں مناسب توازن
والدین کو ابتداہی سے آزادی اور کنٹرول میں مناسب توازن قائم کرنا چاہیے۔ بعض گھروں میں ایسی شدید پابندیاں ہوتی ہیں کہ بچے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتے۔ اس کے بالمقابل بعض گھروں میں لامحدود آزادی ہوتی ہے۔ اور والدین کی کوئی نگرانی اور کنٹرول نہیں ہوتا۔ یہ دونوں بظاہر دو متضاد رویے ہیں لیکن دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ دونوں صورتوں میں بچوں کے اندر بغاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ صحیح رویہ یہ ہے کہ بچوں کو آزادی دی جائے لیکن اس کے حدود واضح کردیے جائیں۔ انہیں بتادیا جائے کہ وہ کہاں تک جاسکتے ہیں اور کہاں نہیں جاسکتے۔ چھوٹے امور میں آزادی اور بنیادی اصولوں سے تعلق رکھنے والے اہم تر امور میں ضروری پابندیاں، یہ فطری کلچر ہے جسے ڈیولپ کرنا چاہیے اور بچوں کو اس کا عادی بنانا چاہیے۔ جو والدین چھوٹے معاملات میں اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بڑے اور اہم تر معاملات میں بچوں پر اپنی ہدایات نافذ نہیں کرسکتے۔ اس لئے عام معاملات میں انہیں بھرپور آزادی دیں اور جن امور کا تعلق دین کے احکام اور اخلاق سے ہے یا جن پر ان کے مستقبل کا انحصار ہے، ان کے سلسلے میں انہیں حدود و آداب کا پابند بنائیں۔
۷۔بچوں کی سرگرمیوں سے واقفیت
والدین کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں سے واقف رہنا چاہیے۔ انہیں آزادی اورپرسنل اسپیس ضرور دینا چاہیے لیکن زیادہ مداخلت کے بغیر خوشگوار دوستانہ ماحول میں ان پر نگاہ بھی رکھنی چاہیے۔ وہ کیا کررہے ہیں؟ کیا سوچ رہے ہیں؟ کن باتوں کو لے کر پریشان ہیں؟ ان سب سے انہیں واقف رہنا چاہیے۔ بچوں کے دوست کون ہیں؟ ان سے واقف رہنا چاہیے۔ بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بچوں کے دوستوں سے بھی دوستی ہونی چاہیے۔ جو مائیں اپنی بچیوں سے بے تکلف رہتی ہیں، ان کی بچیوں کو ایسے مسائل کا سامنا کم ہی ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ اگر بیٹیاں سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں تو مائیں بھی سرگرم ہوں۔ اس سے ان کی آن لائن سرگرمیاں بھی آپ کی نگاہوں کے سامنے رہ سکیں گی۔
ان سب امور پر بچپن سے ہی توجہ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ اب اگر کسی لڑکی کو یہ ساری تربیت میسر نہیں آسکی یا تربیت کی کوشش کے باوجود وہ اس مسئلے کی شکار ہوگئی تو کیا کیا جائے؟ اس سوال کو ہم اگلے ماہ زیر بحث لائیں گے۔ ان شاء اللہ۔
اپریل ۲۰۲۱