واٹس ایپ کا اونٹ

لڑکا : ’’ جاناں….!‘‘
لڑکی : ’’ ہائیں ! واٹس ایپ دوستی کا تیسرا دن اور میں آپ کی ’جاناں‘ بن گئی؟کمال ہے !‘‘
لڑکا : ’’ہاں ! یہ واٹس ایپ اونٹ ہے، جو صحرائی اونٹ سے تیز دوڑتا ہے ! ‘‘
لڑکی : ’’بھئی ! یہ واٹس ایپ سے اونٹ کا کیا میل ؟ ‘‘
لڑکا : ’’میل…..ارے ہاں صبح آپ کو اپنی تمام تفصیلات میل کردی ہے…..چیک کرلیجئےگا !‘‘
لڑکی : ’’ کافی تیز دوڑ ہے ….میاں مجنوں کے اونٹ سے تیز !‘‘
لڑکا : ’’ آپ نے سنا تو ہوگا کہ اونٹ پر سوار مجنوں صاحب ، اپنی لیلی کی تلاش میں دشت کی خاک چھانی تھی، بالکل اسی طرح میں نے بھی ’’واٹس ایپ‘‘اونٹ پر سوار ، بابائے گوگل کی سرچ کی شمع جلائی،فیس بک کی تو کبھی ٹیوٹر کی خاک چھانی ہے…..جب جنوں حد سے گزرگیا تو اداسی کے بادل ذہن کے ویران آنگن میں برس پڑے اور اس شعر کو سمجھنے کا موقع فراہم کرگئے۔
چلتے چلتے تھک کے پوچھا دل سے پاؤں کے چھالوں نے
بستی کتنی دور بسالی دل میں بسنے والوں نے
…. اسی اثنا ، اچانک آپ مل گئیں۔ ‘‘
لڑکی : ’’ ہا….ہا….ہا…. کتنا ڈراما !‘‘
لڑکا : ’’دلی مراد ہے ، مجنوں کی طرح اونٹ پر سوار صحراء سے گزرتا ہوا کوچۂ جاناں پر حاضری لگاؤں….دولت کدہ کا پتا ارسال کردیں….!‘‘
لڑکی :’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ‘‘
لڑکا : ’’ یار! رشتے کی ترسیل ہوگی…. ‘‘
لڑکی :’’کس کے ؟‘‘
لڑکا : ’’ افکورس میرے ….ابا حضور کی تو شادی ہوچکی…. ‘‘
لڑکی : ’’ سچ ؟ ‘‘
لڑکا : ’’شک کی کوئی گنجائش نہیں !‘‘
لڑکی : ’’ …….. ‘‘
لڑکا : ’’ایک منت مانگی تھی شاہ بابا کی درگاہ پر ، اگر واٹس ایپ کے ذریعے رشتہ ہوا تو میں صحرائی ہیرو ’’قیس ‘‘کی طرح اونٹ پر سوار دلہن کے گھر پہنچوں گا….آہا! منت پوری ہونے کی امید نظر آرہی ہے ‘‘
لڑکی :’’ ہا….ہا….ہا ….لطف انگیز….یہ شاہ بابا کون ہیں؟ آپ کے نانا مرحوم تو نہیں؟ ‘‘
لڑکا : ’’معصومیت کی انتہا ہوگئی….شاہ بابا تو حیدرآباد کے بہت بڑے پیر ہیں۔ خاکسار ادنی خادمِ درگاہ، تین سال میں آدھا اونٹ بابا کی نذر کرتا ہے ‘‘
لڑکی: ’’ آدھا اونٹ ؟اونٹ تو پورا ذبح کیا جاتاہے ؟ ‘‘
لڑکا : ’ہاں…. ! چھ سال میں ایک اونٹ ذبح کرتا ہوں ، اس طرح تین سال میں آدھا ہی ہوا نا۔۔! پوری ھاؤلی ہے سمجھتیں نیں…. ‘‘
لڑکی: ’’یہ کس زبان میں بات کررہے ہیں؟ ‘‘
لڑکا : ’’حیدرآباد ، چار مینار کی….! تین دنوں سے بناوٹی باتاں کرتے ہوئے تھک گیا ہوں…. دکنی زبان میں بہت comfortable محسوس کرتا ہوں۔‘‘
لڑکی : ’’ہممم….صاحبِ فراست ! مزار پرست ہیں؟ ‘‘
لڑکا : ’’نہیں بی بی ! میں تو ایک سیدھا سادھا بندہ جو صرف اور صرف اونٹ پرست ہوں اونٹ میری زندگی ہے….
اونٹ میری بندگی….
اونٹ ہی پہلی چاہت…. ایک شعر بہت زور سے یاد آرہا ہے۔۔عرض کرتا ہوں۔ ‘‘
لڑکی : ’’یہ زورسے کیا ہے؟ ‘‘

لڑکا : ’’ اجی یہ سب باتاں حیدرآباد کے ہیں….آپ ہنسو نککو !آگے آپ کو حیدرآباد چارمینار گلی میں ہی رہنا ہے۔ ‘‘
لڑکی : شروع میں بڑی شائستہ گفتگو لکھی جارہی تھی….ابھی یہ اچانک اونٹ حیدرآباد کیسے پہنچا….؟ ‘‘
لڑکا : ’’ دیکھو ! کہتا ہوں مذاق نککو اڑاؤ….صاف بولروں…. !‘‘
لڑکی : ’’خیر آپ کوئی شعر سنانے والے تھے ‘‘
لڑکا : ’’ سناتا ہوں:
اونٹ میری زندگی ہے، اونٹ میری ہر خوشی
اونٹ گر نہ ہو تو پھر، روٹھی میری اکثر خوشی
کوئی پوچھے مجھ سے گر، ہے کیا خوشی کا فلسفہ
میں کہوں کہ اونٹ سے ہے، اونٹ سے ہے، ہر خوشی

لڑکی :’’تعجب ہے ہر بات میں اونٹ ؟ حتی کہ شاعری میں بھی اونٹ ؟آخر یہ اونٹ کا چکر کیا ہے؟ ‘‘
لڑکا : ’’ وعدہ کرو! بتادیا تو چکرا کر گروگی نہیں….بلکہ خوش ہوگی؟ ‘‘
لڑکی :……..
لڑکا : ’’ خاموش کیوں ہو….؟ بور ہوگئی ؟ ‘‘
لڑکی : ’’نہیں….! آپ کچھ بتانے والے تھے ‘‘
لڑکا : ’’ ہاہاہا …. آج تک میری کمپنی میں کوئی لڑکی بور نہیں ہوئی۔ ‘‘
لڑکی :’’ کونسی کمپنی چلاتے ہو؟ ‘‘
لڑکا : ’’ پیار کی !‘‘
لڑکی :’’ شٹ اپ ! ‘‘
لڑکا : ’’غصہ نککو ہو….مذاق کیا ‘‘
لڑکی :’’ اونٹ سے اس قدر لگاؤ….؟ ‘‘
لڑکا : ’’ اونٹوں کا سردار اور بےتاج بادشاہ ہوں…. دس سال مکمل ہوئے سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر اونٹ چرواتے ہوئے….سات سو ریال تنخواہ ….رمضان شریف میں کفیل سے زکوۃ الگ ملتی ہے …. صحراء اور اونٹوں کے درمیان زندگی گلزار ہے….! اس خوبصورت دشت میں صرف ایک معصوم ہاؤلی بیوی کی کمی محسوس کرتا ہوں ….امید کہ اس کمی کو آپ پورا کریں گی۔بدلے میں آپ کو صحراؤں کا تخت نواز کر چارمینار کی رانی بناؤں گا….!‘‘
لڑکی :’’ ….!!‘‘
لڑکا : ’’ اتنا سناٹا کیوں ہے….؟‘‘
لڑکی :’’ اس سناٹے کو تھپڑ کی گونچ عطا ہو….قانون اگر ایک خون کی معافی بخش دے تو خدا کی قسم ! کمبخت انسان ، میں تیرا خون پی جاؤں !!کم بخت فرزندِ اونٹ….تجھے موت آئےاور میں خوشی سے گنگناؤں ؛
زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے….
لڑکا : ’’ہاہاہا….اررے کل تک انجینئر تھا….سب ٹھیک تھا….آج حقیقت بتادی تو بھڑک اٹھے….عجیب لوگاں ہیں….!محترمہ ! عہدہ چھوٹا یا بڑا ہو سکتا ہے….لیکن روٹی کا سائز انجینئر اور چرواہے کے گھر ، ایک جیسا ہی ہو تاہے….!
لڑکی : سسکیوں کے ساتھ….’’ واٹس ایپ تشکیل دینے والے تجھے میری ہائے لگ جائے !
نمبر بلاک….!

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱