وبا کے بعد ہمارا لائحہ عمل
زمرہ : ادراک
گذشتہ مہینہ کئی پہلوؤں سے ہم سب کے لئے نہایت صبر آزما اور تکلیف دہ رہا۔ جہاں ایک طرف وبا نے کئی سرکردہ شخصیات کو ہم سے جدا کردیا وہیں فلسطین پر ہونے والے اسرائیلی حملوں نے ہر مسلمان کے دل کو بے چین و بے قرار کردیا۔ملک میں آکسیجن کا بحران پیدا ہوگیا اور لاشوں کے انبار لگ گئے۔ یہ تمام صورت حال ہم سب کے لئے نہایت آزمائشی رہی۔ وبا کی بات کریں تو اپریل اور مئی کا مہینہ اس کے عروج کا تھا۔صرف دومہینے میں ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن گئے جن کو دفنانے اور جلانے کے لئے زمین اور لکڑیاں کم پڑگئیں۔کئی ریاستوں میں آکسیجن سلنڈرز کی شارٹیج ہوگئی اور راتوں رات سیکڑوں مریض دم توڑ گئے۔اس صورتحال نے جہاں ایک طرف ملک میں دہشت کا ماحول قائم کردیا وہیں چند باہمت نوجوان ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی جان کو خطرت میں ڈال کر ضرورت مندوں کی مدد کی۔ ان جیالے مردوں نے رسک لیتے ہوئے یہ کام سرانجام دیا جس کا خمیازہ انہیں ڈپریشن اور نفسیاتی بیماری کی صورت میں برداشت کرنا پڑرہا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا جب مریض تک آکسیجن پہنچاتے ہوئے راستے میں ہی موت کی اطلاع ملی جس سے یہ نوجوان بہت متاثر ہوئے۔ ہمیں ایسے باہمت افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور ان جیسے مزید باشعور اور بہادر جوان تیار کرنے چاہئیں۔ اس شمارے میں ہم نے اسی غرض سے ماحولیات کو تھیم بنایا کہ وبا کا ماحولیات سے گہرا تعلق ہے۔ کور اسٹوری یعنی عکس ہادیہ بھی ماحولیات سے متعلق رکھا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی کوششوں سے ماحولیات کی آلودگی کم کرنے کا عزم کریں اور اس سمت بھرپور توجہ دیں۔ یہ دنیا ہمارے لئے تخلیق کی گئی ہے لہذا اس کی دیکھ بھال کرنا ہمارا فرض ہے۔ کورونا سے ہونے والی بے تحاشا اموات نے کئی مسائل پیدا کئے ہیں۔ لاکھوں بچے یتیم ہوگئے ہیں وہیں جوان بیواؤں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔اس دفعہ کورونا کی دوسری لہر نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو ہی متاثر کیا تھا۔جہاں بہت سے بچے ہیں ایسے ہیں جن کے سروں پہ باپ کا سایہ نہ رہا وہیں بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جو ماں باپ دونوں کی شفقت سے محروم رہ گئے۔ اس صورتحال میں ریاست اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ کورونا سے یتیم ہونے والے بچوں کو حکومت گود لے گی اور اب سے وہ حکومت کی تحویل میں رہیں گے۔بظاہر یہ ایک ہمدردانہ قدم معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے ایک منظم ذہنیت کام کررہی ہے۔ باعث تشویش امر یہ ہے کہ جو مسلمان بچے حکومت کی سرپرستی میں تربیت پائیں گے ان کامذہبی تشخص کس حد تک باقی رہ جائے گا؟ لیکن افسوس کہ اتنی بڑی خبر پہ کسی مسلم ادارے یا رہنما کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف معاشرے میں جوان العمر بیواؤں کی تعداد میں بھی لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں کنواری دوشیزاؤں کو مناسب رشتے نہیں مل پاتے وہاں ان بیواؤں کی دوسری شادی تقریبا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ ان میں کسی کی گود میں چند ماہ کا بچہ ہے تو کوئی صرف چھ ماہ کی نئی دلہن ہے جن کے آگے طویل اور مشکل زندگی منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ معاشرتی بحران کی وجہ سے گھر والے بھی انہیں مناسب سپورٹ نہیں دے پارہے ہیں اور یہ خود کو ایک بوجھ محسوس کررہی ہیں۔ یہ احساس ان کے اندر کئی نفسیاتی الجھنوں کو جنم دے رہا ہے۔ اسلام نےبیوہ عورتوں کےحقوق کے باب میں اتنا زیادہ خیال رکھا ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اور معاشرہ اس کی نظیر نہیں دے سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بھی شادیاں کی ان میں سوائے حضرت عائشہ کے سبھی بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ حالانکہ حضور چاہتے تو کنواری عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی پریشانی نہ تھی لیکن بیوہ سے شادی کرکے آپ نے اپنی امت کے لئے گویا اشارہ چھوڑا کہ دین میں بیوہ سے نکاح کرنا عیب نہیں بلکہ سنت نبوی اور حکم ربانی ہے۔
وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔
’’اور جو لوگ مر جاویں تم میں سے اور چھوڑجاویں اپنی عورتیں تو چاہیے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن، پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ کریں وہ اپنے حق میں فائدے کے موافق اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبرہے۔‘‘(سورہ بقرہ۔آیت 234) اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ بیوہ کا عقد ثانی کوئی بری بات نہیں نہ اس میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے بلکہ ایسے خیر کے کاموں میں پیش قدمی کرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں امت کے سربراہوں کو متفقہ طور پہ ایک لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔بیوہ عورتوں کا ایک ڈیٹا تیار کرنے کے بعد ان میں جو مالی طور پہ کمزور ہوں ان کے لئے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنا چاہئے۔ وظیفے کی یہ رقم زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں سالانہ 7,500سے لے کر 40,000کروڑ تک زکوٰۃ نکالی جاتی ہے۔ اس رقم کا بڑا حصہ مدارس کے نام پہ جاتا ہے لیکن یہاں بھی حیرت ہوتی ہے کہ مدارس میں ان پیسوں کا استعمال ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اگر اس رقم کی ایماندارانہ تقسیم کی جائے تو ملک میں یتیم بچوں اور بیواؤں کے تمام مسائل حل ہوجائیں۔ کورونا کے بعد بچوں میں جنسی تشدد کے ریشیو(Ratio) تناسب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن اور بے روزگاری کے باعث جہاں متوسط طبقہ ایک ہی گھر میں رہنے پہ مجبور ہے وہیں والدین کی بیماری یا موت کے باعث تنہا رہنے والے بچے بھی خطرے کا شکار ہیں۔ چونکہ بچے کی حفاظت میں جو رول والدین ادا کرتے ہیں وہ دیگر رشتے دار نہیں کرسکتے۔چنانچہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایسے واقعات کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے جہاں بچے اپنوں کے ستم کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ بچوں پہ جنسی تشدد کے حوالے سے ہمارا معاشرہ زیادہ تر کیسز میں خاموشی اختیار کرتا ہے جس سے مسئلہ ختم ہونے کے بجائے وہیں رکا رہ جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے اس مسئلے پہ سنجیدگی سے غور کرنے کی کیونکہ کسی بھی قسم کا جنسی تشدد یا ہراسمنٹ بچے کی ذہنی و نفسیاتی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ ھادیہ عصرحاضر کے تمام مسائل و موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے آپ کے ذوق مطالعہ کو تسکین فراہم کرے۔شمارہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ہم اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں یہ فیصلہ اب آپ کو کرنا ہے۔
جون ۲۰۲۱