ٹیریس گارڈن میں مائع کھاد
ٹیریس گا رڈن کے لیے مائع کھادیں (لیکوئیڈ فرٹیلائزرز) Best Liquid Fertilizers (ان شاءاللہ یہ مضمون آپ کی ہوم گارڈننگ لائف میں انقلاب برپا کر دے گا) ہم اپنے گارڈن میں کیمیائی کھادوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کیونکہ اگر یہ پودوں کی پرورش اچھی اور جلد کرتی ہیں تو ساتھ ہی ہمارے اور پودوں کے لیے بہت نقصان دہ بھی ہیں۔ بہتر ہے آپ اپنے پھلوں اور سبزیوں کے پودوں کو دیسی کھاد (کمپوسٹ، گوبر، کوکوپیٹ، بھل مٹی، ریت یا خشک پتے وغیرہ) دیا کریں۔۔۔ البتہ پھولوں یا پتوں والے سجاوٹی پودوں کو تھوڑی بہت یوریا اور ڈی اے پی دے سکتے ہیں۔ ہر سیزن یعنی 6 ماہ بعد پرانی مٹی کو گملوں یا گرو بیگز (پلاسٹک بیگز جو نرسری میں پودے اگانے استعمال ہوتے ہیں )سے نکال کر اچھی طرح دھوپ لگوائیں، اس میں مزید غذائی اجزاء شامل کریں، ایک دو دن دھوپ دیں اور نئے بیج یا قلمیں لگانے سے پہلے خوب الٹ پلٹ کر کے پاٹس میں ڈالیں اور پھر ہوم گارڈننگ کریں۔ مذکورہ ٹھوس دیسی کھادیں ہم سال میں دو بار یا کبھی کبھار ہی استعمال کر سکتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو بہت سی مائع کھادوں کے بارے میں معلومات دیتے ہیں جو آپ جب چاہیں یا حسبِ ضرورت اپنے پودوں میں ڈال سکتے ہیں اور ان کی ہریالی اور خوشحالی سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ 1۔ گوشت کا پانی: Meat Water وائٹ اینڈ ریڈ مِیٹ جب بھی گھر میں لایا جاتا ہے تو اسے دھویا جاتا ہے۔ اس سے پہلے اگر آپ گوشت کا پانی ضائع کر دیتے تھے تو اب آپ نے ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ اپنے سنک کے پاس ایک بڑا ٹب یا بالٹی رکھیں اور اس میں ایسا پانی جمع کرتے رہا کریں۔ یہ مِیٹ سیچوریٹڈ واٹر پودوں کے لیے بہت ٹیسٹی کھاد ہے۔ ہر ہفتے ہر گملے کو ایک ایک گلاس دینے سے پودوں کی جڑوں کا ذائقہ بدل جائے گا۔۔۔ بالکل ایس طرح جس طرح گوشت کھا کر آپ کا ذائقہ بدل جاتا ہے ۔ 2۔ سرسوں کی کھل: Mustard Cake سرسوں کا تیل نکالنے کے بعد جو مواد یا Waste بچ جاتا ہے اسے کھل یا کھلی کہتے ہیں۔ سو گرام کھلی ایک گلاس پانی میں 24 گھنٹے بھگو دینے کے بعد یہ بہت اسٹرانگ لیکوئیڈ فرٹیلائزر بن جاتی ہے۔۔۔ اور یہ ہر طرح کے انڈور اور آؤٹ ڈور پلانٹس کے لیے بہت فائدے کی چیز ہے۔ تیار ہونے کے بعد ایک کپ حل شدہ پانی میں مزید ایک کپ سادہ پانی ملانے کے بعد پودوں کو دیں تو زیادہ اچھا رہے گا۔ 3۔ لکڑی کی راکھ: Wood/Dung Ash ہمارے بزرگ لہسن کے پودوں میں یہ راکھ ضرور ڈالا کرتے تھے۔ یہ کاربن، نائیٹروجن، کیلیشیم اور سلفر سے بھرپور ہوتی ہے۔ اسے لیکوئیڈ فارم میں بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن بہتر ہے کہ اسے پودوں کے اوپر پاؤڈر فارم میں “اسپرنکل” کیا جائے۔۔۔ پودے کے پتوں کو بھی فائدہ ملے گا اور جڑوں کو بھی اور ساتھ ساتھ اگر پتوں پر فنگس پرابلم ہے تو یہ راکھ اسے بھی اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ 4۔ چاول کا پانی: Rice Water چاول دھونے کے بعد والا پانی بھی پودوں کی نمو کے لیے بہت “بینی فیشل” فائدہ مند ہے۔ کبھی کبھی یہ ذائقہ بھی پودوں کو چکھنے دیا کریں۔ آپ روزانہ بدل بدل کر کھانے کھاتے پیتے ہیں۔اسی طرح پودوں کو کم خرچ بالا نشین آپ غذا دیجیے ۔ 5۔ مکس سبزی ملا پانی: Vegetables Water تمام سبزیوں بالخصوص گاجر، چقندر، پالک اور دیگر ہری پتیوں والی سبزیاں کے ڈنٹھل کے باریک ٹکڑے کر کے پانی میں پوری رات بھگو کر صبح پودوں کو یہ پانی دیں گے تو ان میں پوٹاشیم، پروٹین، وائٹامن وغیرہ کی کمی تو دور ہوگی، 6۔ کیلے کے چھلکے: Banana Peels بچے اور بڑے کیلے بہت مزے سے کھاتے ہیں اور چھلکوں کو کوڑا دان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ تازہ کیلے کے چھلکے اور ایک دو ہفتہ خشک ہوئے چھلکے دونوں صورتوں میں پانی میں حل کر کے مائع کھاد بنائی جا سکتی ہے۔ پوٹاشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ کھاد بہت مفید ہے۔ 24 گھنٹے ڈپ رہنے سے تمام غذائی اجزاء پانی میں حل ہو جاتے ہیں اور ہم اسے تمام فلاورنگ پلانٹس، جیسے گلاب اور چائنہ گلاب (ہابسکس) وغیرہ میں ہر پندرہ دن کے بعد ڈال سکتے ہیں۔
7۔ سٹرس پلانٹس کے چھلکے: Citrus Peels لیموں، مالٹا، مسمی اور دیگر سٹرس پلانٹس کے “پِیلز” باہر پھینک پھینک کے کوڑے کے ڈھیر نہ لگائیں اور بڑھائیں۔۔۔ ان کو ایک بڑے برتن میں ڈال کر پانی میں ڈبو دیا کریں اور حسبِ ضرورت اپنے تمام پودوں کو ایک ایک گلاس ویکلی “نمبُو پانی” دیتے رہا کریں۔ وائیٹامن سی پودوں کو بھی دیجیے ۔ 8۔ پیاز کے چھلکے: Onion Peels ایک گلاس پانی میں مٹھی بھر خشک پیاز کے چھلکے 30 گھنٹے کے لیے پانی میں ڈبوئے رکھنے سے جب پانی براؤن سا ہو جائے تو اس لیکوئیڈ کو تمام پودوں کو دے سکتے ہیں اور یہ ان کی تمام غذائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بہت ہی کارآمد شے ہے۔ پھولوں اور سبزیوں والے تمام پودوں کو فاسفورس، پوٹاشیم، زنک اور دیگر طاقتی اجزاء فراہم کرنے کا یہ بہت اچھا سورس ہے۔ 9۔ سوڈا واٹر: Carbonated Water کاربونیٹڈ واٹر کی انسانوں سے زیادہ پودوں کو ضرورت ہے کیونکہ وہ کاربن پی کر ہمیں زیادہ آکسیجن دیں گے۔ کچھ لوگ تو اس “ہوائی اور بُلبلائی پانی” 10۔ چائے پتی: Used Tea Petals ماشاءاللہ ہماری اکثریت چائے کی بہت شوقین ہے، لیکن اس سے پہلے اگر آپ چائے پی کر چائے پتی کو ضائع کر دیتے تھے تو اب ایسا نہیں کرنا۔ سارا دن جب بھی چائے بنائیں تو پتی جمع کرتے رہیں اور اگلی صبح اچھی طرح دھو کر دھوپ میں سوکھنے کے لیے رکھ دیں، تاکہ چکنائی اور دودھ کے ذرات نکل جائیں۔ جب اچھی طرح خشک ہو جائے تو ایک گلاس میں ایک یا دو چمچ خوب حل کر کے 24 گھنٹے پڑا رہنے دیں اور پھر گملے میں ڈال دیں، گلاب، پتوں اور پھولوں 11۔ پولٹری مینیور: Poultry Manure مرغی خانے کی گوبر یا کھاد بہت طاقت والی چیز ہے، اسی لیے یہ کھیتوں میں بھی ڈالی جاتی ہے کہ فصلوں کی اٹھان اور پروان اچھی ہو۔ 12۔ انڈے کے چھلکے: Egg Shells استعمال شدہ انڈے کے چھلکوں کو اچھی طرح پیس کر یا باریک کرکے دو تین دن تک پانی میں ڈپ کر کے رکھیں اور ہلاتے رہیں۔ یہ بوگن ویلیا اور اینڈیم کے پودوں بلکہ تمام گھریلوں پودوں کی کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت کام کی چیز ہے۔ 13۔ کمپوسٹ واٹر: Compost Water اچھی تیار شدہ کمپوسٹ پودوں کو ڈائریکٹ ڈالنے کی اپنی افادیت ہے لیکن اگر اسے پانی میں حل کر کے ڈالا جائے تو نتائج جلد اور تسلی بخش ہوتے اور آتے ہیں۔ کچن ویسٹ سے بہترین کمپوسٹ ہن اپنے گھر چہ تیار کرنی چاہیے ۔ 14۔ گائے کا گوبر: Cowdung Water ایک درمیانے سائز کا خشک گوبر کا ٹکڑا لے کر پانی کے ایک گلاس میں 24 گھنٹے کے لیے ڈبو دیں اور جب اگلے دن پانی کی رنگت مہندی جیسی ہو جائے تو یہ مائع کھاد تیار ہے، جو تمام سبزیوں کے پودوں کو فوری نیوٹری اینٹس دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بہت زیادہ گرمی میں اسے استعمال نہ کریں۔۔۔ 15۔ وِیڈی ٹی: Weedy Tea ویسے تو تمام جڑی بوٹیاں (وِیڈز) ہمارے پلانٹس کے لیے نقصان دہ ہیں لیکن اگر ان کو اکھاڑ کر پتوں اور جڑوں سمیت پانی میں ڈپ رکھا جائے تو 24 یا 36 گھنٹوں کے بعد یہ “ویڈی ٹی” جب پودے کھل اٹھیں گے ۔ 16. ڈی اے پی کے دانے: DAP Mixed Water ویسے تو کیمیائی کھاد ٹھیک نہیں لیکن محدود مقدار میں سیزنل فلاورنگ پلانٹس کے لیے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پندرہ بیس دانے ڈی اے پی کھاد لے کر رات کو پانچ 6 گھنٹے پانی کے ایک گلاس میں بھگو دیں اور صبح پارچولاکا یا گل دوپہری اور ونکا (سدا بہار) وغیرہ کے پودوں کو یہ لیکوئیڈ فرٹیلائزر دیں تو ان پر کافی پھول آئیں گے (اس مضمون کی تیاری میں اپنے اور بزرگوں کے تجربات، نرسریوں کے مشاہدات، دی ون صفحات، یوٹیوب اور گوگل سے بھی مدد لی گئی ہے)

ٓ آج ہم آپ کو بہت سی مائع کھادوں کے بارے میں معلومات دیں گے جو آپ جب چاہیں یا حسبِ ضرورت اپنے پودوں میں ڈال سکتے ہیں اور ان کی ہریالی اور خوشحالی سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔

اپریل ۲۰۲۱