پیگاسس
حق رازداری پر حملہ

18 جولائی کی شام اس وقت بھونچال سا آ گیا جب واشنگٹن پوسٹ اور ہندوستانی نیوز ویب سائٹ ’’دی وائر‘‘ نے ایک خبر شائع کر دعوی کیا کہ دنیا بھر کے کئ صحافی و سماجی کارکنان کے موبائل فون ہیک کئےگئے ہیں۔ ہیکنگ کا یہ عمل اسرائیلی کمپنی این ایس او کے ذریعہ ڈیولپ کئے گئے ایک اسپائی سافٹویئر پیگاسس کے ذریعہ کیا گیا۔ پیگاسس ایک سرویلانس سافٹویئر ہے جس کے ذریعہ کسی بھی شخص کا فون ہیک کرکے اس کے معمولات پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔
دی وائر کے مطابق پیگاسس کے ذریعہ جن لوگوں کی جاسوسی کی جا رہی تھی، ان میں سے 50,000نمبروں کا ایک ڈاٹابیس لیک ہوا ہے، جن میں 300سے زیادہ نمبر ہندوستانیوں کے ہیں۔ ہندوستان میں جن لوگوں کی جاسوسی کی جا رہی تھی انمیں صحافی،سماجی کارکنان شامل ہیں۔ جاسوسی کی اس لسٹ میں وہ خاتون اور انکے تقریبا 11رشتےدار بھی شامل ہیں جنہوں نے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔
اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صرف سرکاری ایجنسیوں کو ہی پیگاسس بیچتی ہے، کمپنی کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بار بیچنے کے بعد وہ اپنے گاہکوں کے خفیہ معمولات پر نظر نہیں رکھتی۔
یہ لمحہ فکر یہ ہے کہ عام آدمی کی اپنی کوئی نجی زندگی باقی نہیں بچی ہے۔ انسان کو ہر وقت اس فکر میں مبتلا رکھے کہ اسے چیک کیا جا رہا ہے، یہ حکومت کا ایک گھناؤنا جرم ہے، حق رازداری پر حملہ ہے۔

مینیمم گورنمنٹ میگزیمم گورننس کا دعویٰ بھی نکلا لالی پاپ

2019سے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے گزشتہ ماہ مودی کابینہ میں توسیع ہوئی ہے۔ مینیمم گورنمنٹ میگزیمم گورننس کا دعویٰ کرکے آنے والی مودی حکومت اپنے اس دعوی کو بھی برقرار نہیں رکھ پائی ہے۔7جولائی کو 43نئے وزراء نے حلف لیا، جن میں سے 15کابینی وزیرو 28کو وزیر مملکت بنایا گیا۔ بنائے گئے 15کابینی وزراء میں سے 5وزیر مملکت رہ چکے تھے جنہیں اب ترقی دیکر کابینہ کی وزارت تھمائی گئی ہے۔ کل ملا کر مودی کابینہ میں اب 78وزراء ہو چکے ہیں جبکہ حکومت زیادہ سے زیادہ 81وزراء رکھ سکتی ہے۔
یہ تبدیلی اسلئے بھی اہم ہے کہ 2022میں 5ریاستوں میں بشمول گجرات و یوپی انتخابات ہونے ہیں۔ چونکہ دلی کی ستا کا راستہ یوپی سے ہوکر جاتا ہے، یہی وجہ ہے یوپی سے 7نئےچہروں کو وزارت تھمائی گئی ہے، وہیں گجرات سے بھی 7نئےچہروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ذات پات،مذہب نسل کے سہارے ستا حاصل کرنے والی اس حکومت نے اس مرتبہ بھی یہی حربہ آزمایا ہے۔ یوپی سے جن چہرو‌ں کو جگہ ملی ہےان میں سے تین او بی سی، تین دلت جبکہ ایک برہمن لیڈر ہے۔ اب جبکہ کسان آندولن کی وجہ سے بی جے پی کا ووٹ بینک کھسک چکا ہے، کام میں زیرو دعوی میں ہیرو مودی حکومت اس ہتھکنڈے سے اپنے ووٹرز کو کتنا لبھا پاتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

فاشسٹ طاقتوں کے نشانے پر مسلمان لڑکیوں کی آبرو

مسلمانوں کو نشانہ بنانا فاشسٹ طاقتوں کا ہمیشہ سے حربہ رہا ہے۔ فسادات، طلاق ثلاثہ،یونیفارم سول کوڈ وغیرہ فاشسٹ طاقتوں کے ہمیشہ سے ہتھیار رہے ہیں، لیکن اب ان‌کے نشانہ پر کھلے عام مسلم خواتین کی آبرو ہے۔
گٹ ہب نامی کمپیوٹر ایپلیکیشن سے نامعلوم فرد نے سلی ڈیل نام کی ایپ بنائی ہے۔ ایپ پر 80سے زائد مسلمان لڑکیوں کی تصاویر و انکے ٹوئیٹر ہینڈل کی تفصیلات ڈالی گئ ہیں اس ایپ پر موجود جے این یو طالبہ و فریٹرنٹی موومینٹ کی نیشنل سیکریٹری آفرین فاطمہ کہتی ہیں ’’کہ ہمیں ہماری مسلم پہچان کی وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا ہے اور یہ حملہ صرف مسلمان لڑکیوں پر نہیں بلکہ پوری قوم پر حملہ ہے۔‘‘لدیدہ فرزانہ،نبیہ خان اور دوسری ایکٹوسٹ جنہوں نے اس نفرتی مہم کے خلاف شکایت درج کرائی ہے ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اس سب سے بالکل بھی ڈری ہوئی نہیں ہے بلکہ اس سے حد درجہ غصہ میں ہیں۔
آنلائن پلیٹ فارمز پر ہونے والے احتجاج کے بعد اس ایپ کو ہٹا‌دیا گیا ہے، چو طرفہ مزمت کے بعد خواتین کمیشن نے دلی پولیس کو نوٹس بھیجا ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ مسلم رہنماؤں کی زبانیں امت کی بیٹیوں کی آبرو کی بولی لگنے کےبعد بھی جنبش نہیں کر پا رہی ہیں۔ وہیں پورا ہندو سماج بھی فحاشی کے اس گھناؤنے جرم پر خاموش رہ کر اس کی حمایت کر رہا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کچھ کریگی، یا مسلمانوں کی آبرو پر یہ حملے یونہی جاری رہیں گے۔

افغانستان میں کامیاب ہوتے طالبان

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، طالبان کامیابی کے ساتھ پیش قدمی کر رہے ہیں۔ امریکہ بھی اعلان کر چکا ہے کہ اس کی 90فیصد افواج و ساز و سامان افغانستان سے نکل چکا ہے، 1جولائی کی رات تاریکی میں امریکہ ملک کی سب سے بڑی ائیر فیلڈ بگرام ائیر بیس کو خاموشی سے خالی کر جا چکا ہے۔ امریکی صدر جوئے بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ کا فوجی مشن 31اگست کو ختم ہو جائے گا۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ 85فیصد علاقہ پر انکا کنٹرول ہے۔ ملک کے شمالی اور جنوبی حصوں میں فتوحات کے بعد طالبان شہری علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور‌وہاں اہم سفری راستوں کا کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔
افغانستان میں طاقت کے اس بدلاؤ کا اثر ہندوستان پر بھی نظر آ رہا ہے ۔ گزشتہ سال کشمیر سے دفعہ 370ہٹائے جانے کے بعد سے گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ حکومت نے کشمیری لیڈران سے بات چیت کی ہے، اب وہاں الیکشن کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ افغان ۔طالبان جنگ کی وجہ سے ہندوستان نے عارضی طور پر اپنا سفارتخانہ بھی وہاں بند کر‌دیا ہے۔
ہندوستان کو بھی پہنچا صدمہ: افغان حکومت اور طالبان کے بیچ چلتی جھڑپوں میں ہندوستان نے اپنا پلزر انعام یافتہ صحافی مصور دانش صدیقی کو کھو دیا۔ دانش صدیقی ریوڑرز کے لئے کام کرتے تھے، افغا‌نستاں میں افغان طالبان جنگ کو کور کرنے گئے تھے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اگست ۲۰۲۱