دورانِ نفاس عورت کا خیال

عورت کی اپنی منفرد شخصیت ہے۔ اُس کی اپنی مخصوص پہچان ہے۔ اُس کی فطری ترقّی کے مستقل دائرے ہیں۔وہ گھر کی قانونی ملکہ ہے ۔بنی نوع انسان کی بقاء کا ذریعہ ہے۔ وہ خاندان کی معمار ہے۔اُس کاایک محبوب رنگ بیوی کا ہے ،ایک پُر عظمت رنگ ماں کا ہے ،ایک راحت جاں رنگ بیٹی کا ہے اور ایک پُر کیف رنگ بہن کا ہے۔ان تمام رنگوں کے قوس و قزح سے اُس کی شخصیت مکمل ہوتی ہے ۔ ان تمام رنگوں میں وہ مختلف مراحل سے گزرتی ہے ۔انہی مراحل میں ایک مرحلہ ہے نفاس کا ۔ قرآن مجید میں آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن و سلوک، خصوصاً ماں کے ساتھ حُسن سلوک کی تاکید کی ہے۔ انہی میں ایک آیت سورہ لقمان کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھاکر9ماہ اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اُس کا دودھ چھڑانے میں لگے ،اس لئے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا ،میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔

قرآنِ مجید کی اس آیت میں حمل ،وضع ِحمل، دورانِ نفاس اور رضاعت کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ما ں کا شکر بجالانے کی تاکید کی ہے۔دورانِ نفاس یعنی بچے کی پیدائش کے بعد کا دور جس سے عورت گزرتی ہے، یہ دور یامرحلہ نہایت نازک ہوتا ہے۔اس دور میں عورت کا پورا پورا خیال رکھنا ضروری ہے۔دورانِ نفاس میں عورت میں بہت ساری ہارمونل تبدیلیاں ہوتی ہیں ،جیسے جب ماں کے پیٹ میں بچے کی پرورش ہورہی ہوتی ہے تو progesterone hormone اسے سنبھالے رکھتا ہے اور جب وضعِ حمل کا وقت آتا ہے تو progesterone hormone کم ہونے لگتا ہے اور oxytocin اور prolactin hormones  جسم کے endrocine glands سے خارج ہوتے ہیں ۔oxytocin کو child birth hormone بھی کہتے ہیں ،جس کے خارج ہونے سے رحم مادر میں  contractions ہوتے ہیں اور دردِ زہ پیدا ہوتا ہے جس سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے ۔خدا کی قدرت کا شاہکار ہے کہ جیسے ہی بچہ پیدا ہوجائے اللہ تعالیٰ اُس کی پرورش اور تغذیہ کا بہترین انتظا م ماں کی چھاتی میں دودھ پیدا کرکے کر دیتے ہیں اور اس کے لیے prolactin ذمےدار ہے۔ جب یہ hormones خون میں شامل ہوکر اپنا اپنا کام کرتے ہیں اسی  کے ساتھ عورت کے جذبات خیالات احساسات اور ماں کی ممتا وغیرہ عوامل پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔چونکہ بچے کی پیدائش کا دور ایک تکلیف دہ دور ہے جس میں عورت دردِ زہ کو برداشت کرتی ہے اور ساری تکالیف کو سہتے ہوئے بچے کو جنم دیتی ہے۔ یہیں سے نفاس کا دور شروع ہوتا ہے جس میں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔رحم مادر یعنی uterus or womb of the mother یہ بچے دانی نو ماہ بچے کو اپنے اندر رکھ کر پرورش کرتی ہے تو اس کا سائز کافی بڑا ہوجاتا ہے اور وضعِ حمل delivery کے بعد دوران نفاس وہ اپنی اصل حالت پر آنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔رحم سے بچے کی پیدائش کے بعد مشیمہ جو بچے اور ماں کا کنیکشن تھا وہ باہر نکلتا ہے اور خون جاری ہوتا ہے جس کو نفاس کہتے ہیں ۔
نفاس کی ناپاکی کی مقدار زیادہ سے زیادہ 40دن تک ہے اور کم سے کم کی کوئی قید نہیں۔جیسے ہی عورت پاک ہوجائے اسے غسل کرکے نماز شروع کرلینی ہے اور نارمل زندگی گزارنی ہے۔ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں، رسم و رواج بدعات و خرافات کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے ۔’چھلا‘اور’ چھٹی کے نہان ‘کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ یہ سب گلے کے طوق ہیں جنہیں ہم نے خود ڈال لیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ماں کے سینے میں نو مولود کے تغذیہ کے لیے دودھ آنا شروع ہوجاتا ہے ۔یہ وہ دور ہے جس میں عورت کو محبت، ہمدردی ،اپنا پن ،اچھی غذااور آرام کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس دوران عورت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ جسم میں ہارمونل چینجز ہوتے ہیں جو اُس کی سائکولوجی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔عورت دردِ زہ کو سہتی ہے اور بچے کی پرورش اور نگہداشت کرتی ہے۔ ماں جب بچے کو دودھ پلاتی ہے تو صرف دودھ نہیں بلکہ اپنے جذبات، احساسات، خیالات، فکر، اپنا خون اور منرلز سب کچھ بچے کو منتقل کرتی ہے ۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں میں جنت رکھی ہے اور حُسن سلوک میں تین درجے آگے رکھا ہے۔
حدیث میں ذکر ہے کہ تم کتنی ہی خدمت کرلو اُس کے ایک دردِ زہ کا بھی حق ادا نہ کرسکوگے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس دوران عورت کو خوش رکھیں، محبت دیں، اپنائیت کا احساس دلائیں، ہمدردی کا معاملہ کریں اور پورا پورا خیال رکھیں۔

جب ہم معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ ہم مردوں کو، عورتوں کو سب کوتعلیم یافتہ بنائیں۔ اس دور میں عورت سے زیادہ محبت کریں اور زیادہ خیال رکھیں تاکہ اُس کا یہ نازک دور آسانی کے ساتھ گزر سکے اور بچے کی پرورش اور تربیت صحیح طریقے سے ہوسکے ۔ہم جانتے ہیں کہ ہماری مائیں اور صحابیات وغیرہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتیں تو کس طرح باوضو ہوکر ،تلاوت و ذکر کا ورد زبان پر جاری رکھتے ہوئے ،اپنے خیالات کا لحاظ رکھتے ہوئے کرتیں ،تب کہیں جاکر دین کے داعی اورمجاہد اسلام معاشرے کو ملے ۔اسی طرح ہماری عورتوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہئے ۔دورانِ نفاس ماں کو جو تغذیہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ عام دنوں سے دگنی ہوتی ہے، اس ڈائیٹ چارٹ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کے عام دنوں میں حمل کے دوران نفاس و رضاعت کے دوران عورت کو تغذیہ کی کتنی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایسی غذائیں دیں جو ماں کو تقویت پہنچائیں ۔غذائیت سے بھرپور ہوں اور بچے کو دودھ فراہم کر سکیں۔۔ جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈا، دودھ، ترکاری، بھاجی ،پھل ،مغزیات ،گھی ،سوکھا کھوپرا وغیرہ۔ گرم غذاؤں کا استعمال کرائیں تاکہ نفاس کا خون آسانی سے خارج ہو اور رحم کو اپنی اصل حالت پر آنے میں مدد ہو۔ ماں اور بچہ دونوں سردی سے بچیں اس لئے سرد چیزوں کا استعمال نہ کرائیں ۔پاکی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ بچے اور ماں کو غسل دیں تو مالش اور گرم پانی کے ساتھ دیں دھونی دیں۔ غسل کے فوراً بعد بچے کو کافی پئے بغیر دودھ نہ پلائیں ۔بالوں میں اجوائن ڈال کر باندھیں۔گوند اور مغزیات کے لڈو کا استعمال کرائیں۔ اس دوران صحیح خیال رکھا جائے اور ان سب کا اہتمام کیا جائےتو آگے کی زندگی آسان ہوگی ۔ماں اور بچے کی صحت برقرار رہےگی۔ بیماریوں اور کمزوریوں سے محفوظ رہے گی ۔ اور ایک اشارہ میں کرنا مناسب سمجھتی ہوں۔ ہماری معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں کہ دورانِ نفاس عورت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، بیٹی پیدا ہو تو الگ، بیٹا ہو تو الگ۔اگر بیٹی ہو تو عورت کو طعن و طنز دیے جاتے ہیں، ستایا جاتا ہے ،سسرال کی طرف سے، شوہر کی طرف سے دوسری شادی کی دھمکی بھی دی جاتی ہے ۔یہ سراسر غلط رویّہ ہے جس کی وجہ سے عورت کے صحت پر بچے کی نشو نما اور تربیت پر منفی اثر پڑتا ہے۔میں یہاں یہ بات بتاتی چلوں کہ بیٹا یا بیٹی پیداہو نے میں عورت کا کوئی اختیار نہیں ،سارے کا سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بیٹا وقار ہے تو بیٹی رحمت ہے ۔کوئی کسی سے کم نہیں ۔اولاد چاہے کوئی بھی ہو عظیم نعمت ہے ، اس کی قدر کریں اور برابر کا سلوک کریں۔سائنس کسی حد تک مرد کو اس کا ذمہ دار کہتی ہے کیونکہ مرد کے کروموسومز میں بیٹا پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ،عورت میں نہیں۔ لیکن کل کا کل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔خدا را اس حقیقت کو سمجھیں اور عورت پر ظلم نہ کریں ۔اس کا خیال رکھیں اور اچھا سلوک کریں ،چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، خود قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے

’’ ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ زندگی بسر کر و اگر وہ تمہیں نا پسند ہو تو بھی ہو سکتا ہے تمہیں ایک چیز نا پسند ہو لیکن اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘ سورہ  نساء ،آیت 19 ۔
اور ایک چیز جو معاشرے میں عام ہے وہ یہ کہ دوران نفاس وضع حمل اور رضا عت کے دوران لازم عورت کو اس کے ماں کے گھر بھیج دیا جاتاہے یا مائیکہ والے بلا کر رکھ لیتے ہیں ۔کوئی 40 دن کوئی 3 ماہ 6ماہ 1سال تک رکھ لیتے ہیں جس سے شوہر بیوی کی نجی زندگی متاثر ہو تی ہے جو سراسر غلط ہے۔شوہر بیوی ساتھ رہیں، اپنے گھر میں، اپنے خاندان کے ساتھ رہیں۔ عورت کا پورا خیال رکھنا شوہر اور سسرال والوں کی ذمہ داری ہے نہ کہ عورت کے والدین کی۔سسرالی رشتہ دار اس نکتہ کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔آپ کی بہو آپ کے خاندان کو بڑھانے کا ذریعہ ہے، آپ کی نسل کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے ،اسے اپنی بیٹی کے برابر سمجھنا اور اس کاپورا خیال رکھنا، اچھا سلوک کرنا ،محبت سے پیش آنا ضروری ہے ۔ وہ آپ کی طرح عورت ہے اس کے درد کو اپنا درد سمجھیں، اس کو تنگ نہ کریں طعن و تشنع نہ کریں، اس کا بھرپور خیال رکھیں۔ اپنے بچے کی زندگی کو جنت کا نمونہ بنائیں۔ اپنے بیٹے کا پورا ساتھ دیں۔اسے اپنی زندگی جینے کا پورا حق دیں، خوش و خرم ،ہشاش بشاش سارا خاندان مل کر بنسی خوشی زندگی گزاریں۔ اسلامی تہذیب کو فالو کرتے ہوئے تمام رسم و رواج بدعات خرافات سے بچتے ہوئے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا کر اپنے قول و عمل اور مثالی زندگی سے لوگوں کو دین اسلام کی طرف راغب کریں اور دعوت دیں ۔دین اسلام سادگی ،اعلیٰ اخلاق، اعلیٰ ظرفی و بھائی چارہ کا درس دیتا ہے ۔اس پر کلی طور پر عمل کرکے معاشرے میں امن وسکون قائم کیاجا سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو دین کی تعلیمات پر عمل کرنے اوراپنی اصلاح کرنے کی توفیق دے اور معاشر ے میں انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہمیں بنائے۔

بےگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر مو ت
تحریر سے ممکن ہے نہ تقریر سے ممکن
وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے

قرآنِ مجید کی اس آیت میں حمل،وضعِ حمل، دورانِ نفاس اور رضاعت کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ماں کا شکر بجالانے کی تاکید کی ہے۔دورانِ نفاس یعنی بچے کی پیدائش کے بعد کا دور جس سے عورت گزرتی ہے یہ دور یامرحلہ نہایت نازک ہوتا ہے۔اس دور میں عورت کا پورا پورا خیال رکھنا ضروری ہے۔

0 Comments

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

جولائی ۲۰۲۱