کتاب: قرآن پر عمل
سمیہ رمضان کی لکھی گئی اس کتاب کا اردو ترجمہ جناب ظہیر الدین بھٹی صاحب نے کیا ۔مسلم سجاد صاحب کے پیش لفظ میں اس بات پر خواتین کی پذیرائی کی گئی ہے کہ احیائے دین کی کوششوں کا جو سلسلہ جاری ہے اس میں سرگرمی سے تعاون کرنے والوں میں خواتین بھی پیش پیش ہیں ۔ایک اور اہم نکتہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کتاب صرف خواتین کے لیے نہیں ہے بلکہ یکساں طور پر مردوں کے لیے بھی اہم ہے ۔مرد و خواتین کے لیے یکساں طور پر قرآن کے آیات کی مشق کرنے اور عملاً اس کو اپنی زندگیوں میں نافذالعمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ قرآن کے متعلق سب سے پہلی بات یہ کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔ ’’ جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکیوں کا ہوتا ہے ۔ میں نہیں کہتا کہ’’ الم” ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک دوسرا حرف ہےجبکہ میم تیسرا حرف ہے‘‘۔ اس حدیث کے ذریعے سے قرآن پڑھنے کی اہمیت بتائی گئی ۔قرآن تو عموماً پڑھا جاتا ہے ۔ ہماری مجلسوں میں، محفلوں میں، ہمارے گھروں میں اور تقریباً کم و بیش روزانہ ہی پڑھا جاتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس کو کتنا اپنی زندگیوں میں نافذ کر پاتے ہیں ۔ سمیہ رمضان صاحبہ نے’’ المجتمع” کویت کے رسالے میں شائع ہونے والے سلسلہ وار مضامین کو جو کتاب کی شکل دی ہے اس میں انہوں ان کے اپنے دوروس میں ہوئے تجربات کا تذکرہ کیا ہے ۔ وہ ہر درس کے لیے ایک آیت کا انتخاب کرتی ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کو عملی طور پر اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں اور حقیقت بھی ہے کہ قرآن آیا تھا ہماری زندگیوں میں تبدیلی برپا کرنے کے لیے، جن لوگوں نے عملی طور پر اپنی زندگیوں میں اس کو اپنایا وہ زمانے کے امام بن گئے ۔مصنفہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قرآن ہمارے لیے محض قراءت خوانی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ تدبر و تفکر کی وہ کتاب ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگیاں روشن ہوجائیں گی ۔اس میں سکون برپا ہوگا۔ قرآن کو پڑھنے والے خواہشوں،غفلتوں، اور گناہوں سے اجتناب کرنے کی نیت سے اس کو پڑھیں گے تو قرآن ان کے لیے رہنما ثابت ہوگا ۔ قرآن خود کہتا ہے ۔ ’’کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطاء کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں بڑا ہوا ہو اور کسی طرح بھی ان سے نہ نکلتا ہو ۔‘‘ ( الانعام؛ ١٢٢) قرآن روحوں کو زندہ کرتا ہے ۔ اس کی قوت تاثیر اتنی ہے کہ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ اگر پہاڑوں پر یہ نازل کردیا جاتا تو وہ اس کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے متعلق خود قرآن نے کہا ہے کہ وہ چلتے پھرتے قرآن تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو اپنی زندگی کے ہر گوشے میں نافذ کیا اور اپنی امت کو بھی اس کی تلقین فرمائی ۔ سمیہ رمضان صاحبہ نے منتخب آیات کے ذریعے اپنے معاشرے میں تبدیلی لانے کی بڑی سعی کی ۔ان کے دوروس کے اس سلسلے میں کئی لوگوں نے اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لائیں، چیخ و پکار کرنے والے اپنی تیز آوازوں سے باز آگئے۔طلاق کے قوانین کو معاشرے میں بہتر طریقے سے رائج کرنے کا چلن عام کرنے کی کوشش کی گئی ، کسی نے فحش مواد دیکھنے سے گریز کیا ۔غلط کاموں سے پناہ مانگی، اس لیے کہ اس آسمان و زمین کے درمیان ہر شئے اللہ کی تسبیح کررہی ہے ۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کا جو قرآن سے تعلق تھا اس کا بھی انھوں نے تذکرہ کیا کہ قرآن نے ان کی زندگیوں میں وہ عظیم انقلاب برپا کیا کہ جو اسلام سے پہلے قبیح ترین گناہوں میں مبتلا تھے وہی سب پاکیزہ معاشرے کے معمار بن گئے ۔قرآن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ قیامت تک آنے والی تمام بنی نوع انسان کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے، شرط یہ ہے کہ انسان اس کی طرف پوری طرح سے مائل ہوجائے ۔ والدین سے حسن سلوک، غیر اللہ کی اطاعت کو رد کرنا، میراث کے احکامات، غرض سارے ہی احکام اس میں بیان کیے گئے ہیں ۔اس پر عمل کرنے کے لیے ہمارے اطراف و اکناف میں بھی ایسے دورس قرآن کی محفلوں کا اہتمام ہونا چاہیے ۔جہاں منتخب آیات کے ذریعے اپنےگھر والوں کےہمراہ اپنی ذات کو بھی اس پر عمل پیرا کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔اس ضمن میں یہ کتاب بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ ان کے دوروس کی محفلوں میں شامل ہونے والی خواتین نے اپنے تجربات بھی اس انداز میں پیش کئے ہیں کہ وہ واقعی قاری کے جذبات کو گرماتے ہیں ان کے اندر ولولہ پیدا کرتے ہیں کہ یہ آیات کا نفوذ ان خواتین کی طرح ہماری ہی کوششوں پر منحصر ہے ۔ کتاب کے آخر میں خرم مراد صاحب کا قرآن کے متعلق ایک آرٹیکل بھی شامل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے قرآن کے مطابق زندگی گزارنے کی افادیت پر زور ڈالا ہے ۔ کہتے ہیں کہ قرآن کے مطالعے سے دل میں ایمان پیدا ہونا چاہیے ۔یہ کوئی ترجیحی بنیادوں پر مرحلہ وار عمل نہیں ہے کہ آپ پہلے کئی برس قرآن کو پڑھیں پھر اس کو سمجھنے کی کوشش کریں پھر ایمان کو مضبوط کرنے میں صرف کریں اور پھر اس کے بعد عمل کریں بلکہ کلام الٰہی کے سنتے ہی ایمان کی کیفیت کو محسوس کرنا، پھر اس چنگاری کو شعلہ بننے دینا اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی سعی میں لگ جانا، یہی وہ مطلوب عمل ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے کرتے ہیں ۔ معاشرت، معیشت، سیاست، قوموں کی زندگیوں کو تبدیل کرنے والی یہ کتاب مجھ سے اور آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس پر غور کیا جائے اور اس کا پیغام عام کیا جائے کہ جہنم سے نجات کا یہ واحد ذریعہ ہے
وہ ہر درس کے لیے ایک آیت کا انتخاب کرتی ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کو عملی طور پر اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں اور حقیقت بھی ہے کہ قرآن آیا تھا ہماری زندگیوں میں تبدیلی برپا کرنے کے لیے، جن لوگوں نے عملی طور پر اپنی زندگیوں میں اس کو اپنایا وہ زمانے کے امام بن گئے ۔
مارچ ۲۰۲۱