کرونا میں شدت ، عالمی یوم خواتین اور جنسی واردات نقاب پر پابندی،اسلامو فوبیا پر بڑھتے واقعات

وبائی سال مکمل کرنے کے بعد جہاں ایک جانب کرونا وائرس نے شدت اختیار کرلی ہے وہیں دوسری جانب عوام کے صبر کا باندھ بھی اب ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے،جرمنی اور نیدرلینڈ سمیت کئی ممالک میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور لاک ڈاؤن کے خلاف جم کر مظاہرہ کیا۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم زیادہ مہلک ہے جس میں اموات کے اندیشے ۶۴ فی صدی زیادہ ہیں۔ رواں برس بھی ۸؍مارچ کو عالمی یوم خواتین زور و شور سے منایا گیا ،شہر شہر عورت آزادی مارچ کے علاوہ میڈیا و سوشل میڈیا پر بھی حقوق نسواں و آزادی نسواں پر خوب بحث و مباحثے و بیان بازیاں چلیں ،لیکن ان سب کی قلعی تب کھلتی نظر آئی جب عالمی ادارۂ صحت نے ایک مطالعے کے مطابق اپنی رپورٹ پیش کی کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون جسمانی و جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہے ،خواتین کی یہ تعداد لگ بھگ ۷۳ کروڑ بنتی ہے۔ خواتین میں اسی قسم کا تشدد میانمار میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں معزول جمہوری حکومت کے حق میں کیے جانے والے احتجاج میں ۶ خواتین کی ہلاکت اور ۶۰۰ نوجوان خواتین کی گرفتاریاں ہوئی جس پر اقوام متحدہ نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔ یوم خواتین کے موقع پر سارا عالم آزادی نسواں کے نعروں سے گونج اٹھا ،مگر افسوس!آزادی تو نہیں ملی مگر دو ممالک کی جانب سے نقاب پر پابندی لگا کر حقوق نسواں سلب کیے جانے کی سعی کی گئی۔سوئیزرلینڈ حکومت نے ۵۱ فی صد کی معمولی اکثریت والے ریفرینڈم کے ذریعے عوامی مقامات پر خواتین کے نقاب پر پابندی عائد کی جس پر مسلم تنظیموں نے شدید غصہ کا اظہار کیا۔اسی کے ساتھ بدھ مت اکثریت والے ملک سری لنکا نے بھی مسلم خواتین کے برقعہ پہننے کو انتہا پسندی قرار دیتے ہوئے نقاب پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ۔سری لنکا کے سیکیورٹی وزیر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ خواتین کے برقعہ پر پابندی والے بل پر دستخظ کر چکے ہیں۔ سری لنکا حکومت نے ساتھ ہی ایک ہزار دینی مدارس پر پابندی لگانے کا بھی فیصلہ کیا جس کی وجہ سے عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس پایا گیا اوراسلاموفوبیا کے ان بڑھتے واقعات کے ساتھ ملکوں کی مسلم دشمنی بھی کھل کر سامنے آنے لگی۔۔

قرآن،مسلمان،الیکشن و کسان نفرت کی سیاست سے ملک پریشان

اتر پردیش کے شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیر مین وسیم رضوی کی جانب سے سپریم کورٹ میں قرآن مجید کی جہاد سے متعلق ۲۶ قرآنی آیات کو ہٹانے کی عرضی داخل کی گئی جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غضب و غصہ کا لاوا پھوٹ پڑا ۔رضوی کا سرقلم کرنے پر ۱۱؍لاکھ کا نقد انعام رکھا گیا۔ شیعہ ،سنی سمیت تمام فرقوں سے وابستہ معروف علماء نے رضوی کو خارج از اسلام قرار دیتے ہوئے حکومت سے ملعون کی گرفتاری کے مطالبات کیے۔اس مرتبہ بی جے پی کی جانب سے بھی رضوی کی اس حرکت پر مذمت موصول ہوئی ،پارٹی کے سینئر قائد شاہنواز حسین نے کہا کہ بی جے پی ایسے افراد کی مخالفت کرتی ہے۔ساتھ ہی مرکزی حکومتی ادارے مائناریٹی کمیشن کی جانب سے وسیم رضوی کو اپنے الفاظ واپس لینے اور بلا شرط معافی مانگنے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت والی سیاست کا زہر پھر اپنا اثر دکھانے لگا ۔جھارکھنڈ کے مہیش پور نامی گاؤں میں مبارک  ملک میں خان نامی مسلمان کو ماب لنچنگ کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ایک اور تازہ معاملہ کے مطابق یوگی راج والے اتر پردیش میں ریحان نامی مسلمان بھی بھیڑ کی درندگی کا شکار ہوا۔ ملک سنگھی دہشت گردی کی دل خون کرنے والی تصویر سامنے آئی جس میں غازی آباد سے تعلق رکھنے والا کم سن آصف پیاس کی شدت کو محسوس کر تے ہوئے پانی پینے مندر چلا گیا  توسنگھی شرپسند نندن یادو نے اسے خوب زدوکوب کرتے ہوئے یہ باور کروایا کہ یہ مندر ہے اور یہاں مسلمان پانی پینے کی جرات نہیں کرسکتے۔ بنگال الیکشن کے گھمسان میں قابل مذمت واقعہ پیش آیا جس میں ممتا بنرجی پر جان لیوا حملہ کیاگیا ۔ممتا نے صحت بہتر ہونے کے بعد حریفوں کو خیر منانے کی تلقین کرتے ہوئے جتایا کہ اب وہ ایک زخمی شیرنی ہیں ۔ کسان آندولن کا رہنما چہرہ راکیش ٹکیٹ بھی بنگال الیکشن میں بی جے پی کے خلاف کیمپین کرتے نظر آئے۔بنگال کے اسٹیج سے ٹکیٹ نے خاموش حکومت کو سخت الفاظ میں دھمکی دی کہ جلد ہی ٹریکٹر دہلی میں دوبارہ داخل ہوں گے جس کا نشانہ اب پارلیمنٹ ہوگا اور پارلیمنٹ میں نئی منڈی کھولی جائے گی۔ ملک میں کرونا کا قہر ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق یومیہ ۲۶ ہزار نئے معاملات درج کیے گئے ہیں جو رواں سال کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کرونا کی طرح تبلیغی جماعت کے خلاف زہرافشانی کا سلسلہ بھی برقرار دکھائی دیا ،ایم بی بی ایس کی ایک حوالہ جاتی نصابی کتاب میں تبلیغی جماعت کو ہندوستان میں کرونا وائرس کے پھیلانے کا ذمہ دار بتایا گیا۔معاملہ علم میں آنے کے فوراً بعد ہی دیگر نوجوانوں سمیت طلباء تنظیم ایس آئی او نے مصنف و پبلشر سے گفت و شنید کی جس کے بعد انہوں نے معافی مانگتے ہوئے قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا تیقن دلایا۔

ملک میں سنگھی دہشت گردی کی دل خون کرنے والی تصویر سامنے آئی جس میں غازی آباد سے تعلق رکھنے والا کم سن آصف پیاس کی شدت کو محسوس کر تے ہوئے پانی پینے مندر چلا گیا تو سنگھی شرپسند نندن یادو نے اسے خوب زدوکوب کرتے ہوئے یہ باور کروایا کہ یہ مندر ہے اور یہاں مسلمان پانی پینے کی جرات نہیں کرسکتے۔
اپریل ۲۰۲۱