کووڈ میں کمزور پڑتی معیشت اور امداد باہمی کے مزاج کا فروغ

کچھ عملی مشورے

معاشی صورتِ حال کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں امدادِ باہمی کے مزاج کا فروغ ہو۔امداد کیسی ہونی چاہیے اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔امداد کا وہ تصور ہمیں پیش کرنا ہوگا جس کی مثال ہمیں مدینہ کے ابتدائی دور سے ملتی ہے۔

کووڈ وبا کی اس ناگہانی آفت کے چلتے آج نہ صرف مسلمان بلکہ پورا ملک معاشی اعتبار سے انتہائی خطرناک حالات سے گزر رہا ہے۔کووڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔درمیان میں کچھ مہینے سکون و راحت کے گزرےاورلوگوں نے اپنی معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کی۔لیکن ابھی معیشت سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ کووڈ کی دوسری لہر نے حملہ کر دیا۔جس کی وجہ سے معاشی اعتبار سے بالخصوص ہمارا معاشرہ انتہائی نازک موڑ پر آن پہنچا ہے۔ان متاثرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کر سکتے۔نتیجتاً ہائی بلڈ پریشر، ڈپریشن اور دورۂ قلب کے امراض میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان نازک حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔حدیثِ مبارکہ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ’’فقر کفر تک پہنچا دیتا ہے۔‘‘ان حالات سے نمٹنے کے لیے اور معاشی صورتِ حال کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں امدادِ باہمی کے مزاج کا فروغ ہو۔امداد کیسی ہونی چاہیے اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔امداد کا وہ تصور ہمیں پیش کرنا ہوگا جس کی مثال ہمیں مدینہ کے ابتدائی دور سے ملتی ہے۔
ہمیں اس دور کو یاد کرنا ہوگا جب صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔اس وقت یہ مہاجرین خالی ہاتھ تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو اپنی کھیتی باڑی،کاروبار سب کچھ اللہ کی خاطر چھوڑ کر ہجرت کر گئے تھے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کِیا؟مواخاۃ کا رشتہ قائم کر دیا۔ایک ایک انصار کو ایک ایک مہاجر کا بھائی بنا دیا۔بس پھر کیا تھا۔ان انصاریوں نے وہ مثال قائم کر کے دکھائی جو رہتی دنیا تک کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے نہ صرف اپنی کھیتی باڑیوں میں مہاجرین کو شریک کیا،اپنے کاروبار میں شریک کیا،رہنے کے لئے گھروں کا انتظام کیا بلکہ جن مہاجرین کے پاس بیویاں نہیں تھیں انہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے کر ان مہاجرین سے ان کے نکاح کروا دیے۔نتیجتاً کچھ سالوں بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ مہاجرین بر سرِ روزگار ہوگئے۔ایک وقت ایسا آیا کہ مدینے کی گلیوں میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زکوٰۃ لے کر گھومتے اور کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملتا تھا۔
آج معاشی بحران سے جوجھ رہے اس معاشرے کو بھی ایسے ہی نظام کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر اس معاشی بحران پر قابو پانا مشکل ہے لیکن محض وقتی طور پر مدد کر دینے سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔جب تک بے روزگاروں کو روزگار فراہم نہیں کیا جائے گا تب تک معاشی صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دستِ سوال دراز کرنے والے ایک شخص کو کلہاڑی دے کر روزگار سے لگایا تھا۔ہم ان حالات سے لا علم نہیں ہیں بلکہ ہم اس معاشی صورتِ حال سے بخوبی واقف ہیں اور اس پر اظہار افسوس بھی کرتے ہیں،دعائیں بھی کرتے ہیں،اسے ہم اپنی گفتگو کا موضوع بھی بناتے ہیں اور کچھ وقتی امداد کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ لیکن صرف دعاؤں پر اکتفا کرنا،اور وقتی امداد کر کے مطمئن ہو جانا کافی نہیں ہے بلکہ کوششیں ضروری ہیں۔
قارئین کرام! ذرا رک کر غور کریں۔
کووڈ کے اس پورے عرصے میں ہم نے کتنے لوگوں کو روزگار سے لگانے کی کوشش کی؟کتنے لوگوں کو اس سلسلے میں مفید مشوروں سے نوازا؟
جبکہ موجودہ معاشی حالات چیخ چیخ کر ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم خصوصی توجہ اور انہماک کے ساتھ اس معاشی بحران پر قابو پانے میں جٹ جائیں۔خدارا اپنے معاشرے کو بھیک مانگنے والا معاشرہ نہ بننے دیں۔اس سلسلے میں ہم    اپنا فرض نبھائیں۔
اس سلسلے میں کچھ عملی مشورے پیش خدمت ہیں۔
عملی مشورے۔
َسب سے پہلے تو ہم اپنے رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوست و احباب کے معاشی حالات کا جائزہ لیں۔
ٹارگٹ طے کریں۔
مفید مشورے دیں۔آپ کے مفید مشورے بھی کسی کے برسر روزگار ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔
آپ نے جو ٹارگٹ طے کیا ہے اس کے مطابق گفت و شنید کے ذریعے طے کیجئے کہ آپ جسے روزگار سے لگانا چاہتے ہیں اس کے اندر کیا قابلیتیں ہیں، صلاحیتیں ہیں،
ہنر ہیں وغیرہ وغیرہ۔
کسی گھریلو صنعت کا انعقاد کر کے خواتین بہنوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
کسی کو قرضِ حسنہ دے کر بھی روزگار سے لگایا جا سکتا ہے۔
مشترکہ کاروبار کے ذریعے بھی اس معاشی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس سلسلے میں کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کی معیشت کو مضبوط اور مستحکم بنا دے۔
آمین۔

جون ۲۰۲۱