کہانی میں اشارہ
زمین کو بنجر ہونے سے بچانا ہے
موسم نے تبدیلی کے اشارے دیئے۔ شمبو اب صبح شام کھیت میں کام کرنے لگا۔ ہلکی پھلکی بارش ہونے لگی بیج بوئے گئے۔ شمبو محنت کرنے لگا۔فصل اُگنے لگی۔شمبو محنت کرنے لگا۔فصلیں لہلہانے لگیں۔

میں نے شمبو سے کہا:
’’کہاں جارہے ہو؟‘‘۔۔۔۔
شمبو کہنے لگا:
’’دیدی ایک کسان اپنے کھیت میں بارہ مہینے کام کرتا ہے تاکہ کھیت بہترین فصل دینے کے قابل رہےاور میں بھی کھیت میں کام کرنے کا عادی بنا رہوں۔‘‘
وہ صبح صبح کھیت کی طرف نکل گیا۔اپنے کھیت میں پہنچ کراس نے سب سے پہلے پورے کھیت کا ایک چکر لگایا۔پھر ایک جگہ بیٹھ کر بیلوں کو چارہ ڈالنے لگا۔ کچھ دیر بعد کھیت کی دوسری جانب کچھ غیر ضروری پودوں کو اکھاڑ پھینکا۔دوپہر میں کھانا کھاکر کچھ دیر درختوں کے سائے میں سوگیا۔
یہی کچھ معمول تھا شمبو کا روزکھیت جاکر کچھ نہ کچھ کرتا۔
بنسی، سرپنچ چاچا، راجو چاچا سب ان سے کہتے:
’’ارے شمبو! ابھی توگرمیوں کے دن ہیں تمہارے کھیت میں ایریگیشن بھی نہیں ہے تو آرام کرلو جون میں پھر کام میں لگ جانا ہے۔‘‘
شمبو مسکراکر کہنے لگا:
’’ارے تاؤ۔آرام کی عادت پڑ گئی تو مشکل ہے پھر تو بھوشیہ کے لالے پڑ جائیں گے۔‘‘
موسم نے تبدیلی کے اشارے دیئے۔ شمبو اب صبح شام کھیت میں کام کرنے لگا۔ ہلکی پھلکی بارش ہونے لگی۔ بیج بوئے گئے۔شمبو محنت کرنے لگا۔فصل اُگنے لگی۔شمبو محنت کرنے لگا۔فصلیں لہلہانے لگیں۔شمبو محنت کرنے لگا۔فصل پک چکی تھی۔اب شمبو خوش ہونے لگا۔ فصل کٹ گئی اور شمبو کامیاب ہوگیا۔دو دن اپنے گھر والوں کے ساتھ شمبو خوشی خوشی رہا پھر لگ گیا اُسی محنت پر ۔۔۔۔۔۔۔!!!!
زندگی کے کھیت کو بنجر بنانے سے بچانے والا کوئی شمبو ہے کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ کہانی اچھی لگی ہوگی ہو تو اس اشارے پر غور کریں۔

شمبو = ٹیچر
کھیت = اسکول
فصل = طلباء کا مسقبل

جون ۲۰۲۱