کیا عورت سے شوہر کے لیے دوسری بیوی تلاش کرنے کا مطالبہ درست ہے؟

سوال: شوہر نکاح ثانی کرنا چاہتا ہو تو کیا اپنی بیوی سے یہ مطالبہ کرنا درست ہے کہ وہ اس کے لیے دوسری بیوی تلاش کرے؟ اکثر شوہر یہ مطالبہ کرتے ہیں، جب کہ ایک خاتون کی نفسیات پر یہ ایک طرح کا ظلم لگتا ہے۔
مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو یہ بات درست ہے کہ بیوی کو اس کی راہ میں مزاحم نہیں بننا چاہیے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس کی اجازت دی ہے اور اس اجازت میں کوئی نہ کوئی حکمت پائی جاتی ہے۔ لیکن عورت ہی پر شوہر کے لیے دوسری بیوی تلاش کرنے کی ذمہ داری ڈالی جائے، یہ عورت کے مزاج اور نفسیات کے سراسر خلاف معلوم ہوتا ہے۔
براہِ کرم اس سلسلے میں صحیح موقف کی وضاحت فرمادیں۔

جواب:
قرآن مجید میں مردوں کو ایک سے زائد ( چار تک) نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَآء مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃًٌ

(النساء:۰۳)
’’تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کر لو۔ لیکن اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو۔‘‘
اس آیت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ وقتِ ضرورت اجازت دی گئی ہے۔ بسا اوقات ایسی صورتیں پیش آسکتی ہیں کہ مرد کو ایک سے زیادہ عورتوں سے نکاح کرنا پڑے۔ مثلاً کسی شخص کی بیوی کسی شدید بیماری میں مبتلا ہو، جس کی بنا پر مرد کے جنسی تقاضے پورے نہ ہو رہے ہوں، یا اس کی کوئی رشتے دار عورت مطلقہ یا بیوہ ہوجائے اور اسے سہارے کی ضرورت ہو، وغیرہ۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک سے زائد نکاحوں کو ’عدل‘ کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، یعنی شوہر کو تمام بیویوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لینا ہے اور کسی کی حق تلفی نہیں کرنی ہے، چنانچہ صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اگر مرد کو اندیشہ ہو کہ وہ عدل نہیں کرسکے گا تو پھر وہ ایک سے زیادہ نکاح کرنے کا خیال دل سے نکال دے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے تو وہ خود اپنے لیے دوسری بیوی تلاش کرے۔ یہ کام پہلی بیوی کے حوالے کرنا اور اس سے اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔ یہ کام عورت کے مزاج اور نفسیات کے خلاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے لیے سوکن فراہم کرنے کی جدّو جہد کرے۔ چنانچہ اگر کسی عورت سے شوہر اس کا تقاضا کرے تو وہ اس سے انکار کر سکتی ہے۔
دوسری طرف اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی خواہش پر اس کے لیے دوسری بیوی تلاش کرنے پر رضا مند ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عموماً سوکنوں میں خوش گوار تعلق نہیں رہتے۔ اس بنا پر اگر بیوی کسی غیر شادی شدہ عورت کو جانتی ہو اور اسے امید ہو کہ اگر اس سے اس کا شوہر شادی کرلے تو بعد میں اس کے لیے مسائل پیدا نہیں ہوں گے تو وہ شوہر کے لیے اس کی نشان دہی کر سکتی ہے۔ میں ایسے متعدد خاندانوں کو جانتا ہوں جن میں پہلی بیوی نے شوہر کے لیے رشتہ تلاش کیا، بعد میں دونوں خواتین کے درمیان خوش گوار تعلقات رہے اور انھوں نے شیر و شکر ہو کر زندگی گزاری۔

ویڈیو :

3 Comments

  1. Mohammad Firoz Alam

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    یہ باتیں برسوں کے بتائی اور سمجھائی جا رہی ہیں۔
    عدل تو اب برائے نام رہ گئی ہے۔
    رہی بات دوسری تیسری یا چوتھی بیوی کی تو چونکہ ہندوستان میں ہمارے علماء کرام نے پہلے سے ہی ہمت نہیں جٹائی کہ ایک سے زائد نکاح کریں۔ کیوں کہ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں۔ وہاں کی حکومت کے ذہن میں اب ایسی باتیں نہیں ہے۔ اب اگر ایسی حالت میں ایک بیوی کے رہتے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کے بارے میں سوچے بھی تو وہ ہو سکتا ہے گھر کو مینیج کر لے۔ لیکن قانونی طور پر کئی پیچیدگیاں آئے گی۔ جس کی ہمت آج کے لوگوں میں نہیں ہے۔
    بطور طب پیشہ اپنانے کے بعد مجھے خود ایک معاون کی ضرورت ہے لیکن وہ یقینا اجنبی کے ساتھ اس پیشہ کو چلانا بہت مشکل ہے۔ کیوں میں ایک چھوٹا کلینک چلاتا ہوں۔ کسی اسپتال کا ڈاکٹر نہیں ہوں۔
    لیکن اسپتال میں میری عزت محفوظ رہے گی۔ یا مجھ سے کو غلطی سرزد نہیں ہوگی۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے؟
    بعض دفعہ عورتوں کے حالات جاننے کے لئے سوالات کے دوران خود بھی شرمندگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔
    جب تنہائی میں ایک اجنبی عورت کسی اجنبی مرد کے ساتھ باہم گفتگو کر رہے ہوں تو شیطان کا ورغلانے کے بارے میں شرعی طور پر ثبوت موجود ہے۔
    اب آپ مشورہ دیں کہ مجھے ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔
    جب کہ ہماری خواتین اپنی حالت اور کیفیت غیر محرم مردوں اور عورتوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ بعض دفعہ اعضاء کی نمائش بھی کرنی پڑتی ہے۔
    کئی قسیم طبیعاتی اور نفسیاتی سوالات بھی کرنے پڑتے ہیں۔

    Reply
  2. Mohammad Firoz Alam

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    یہ باتیں برسوں سےبتائی اور سمجھائی جا رہی ہیں۔
    عدل تو اب برائے نام رہ گیاہے۔
    رہی بات دوسری تیسری یا چوتھی بیوی کی تو چونکہ ہندوستان میں ہمارے علماء کرام نے پہلے سے ہی ہمت نہیں جٹائی کہ ایک سے زائد نکاح کریں۔ کیوں کہ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں۔ وہاں کی حکومت کے ذہن میں اب ایسی باتیں نہیں ہے۔ اب اگر ایسی حالت میں ایک بیوی کے رہتے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کے بارے میں سوچے بھی تو وہ ہو سکتا ہے گھر کو مینیج کر لے۔ لیکن قانونی طور پر کئی پیچیدگیاں آئے گی۔ جس کی ہمت آج کے لوگوں میں نہیں ہے۔
    بطور طب پیشہ اپنانے کے بعد مجھے خود ایک معاون کی ضرورت ہے لیکن وہ یقینا اجنبی کے ساتھ اس پیشہ کو چلانا بہت مشکل ہے۔ کیوں میں ایک چھوٹا کلینک چلاتا ہوں۔ کسی اسپتال کا ڈاکٹر نہیں ہوں۔
    لیکن اسپتال میں میری عزت محفوظ رہے گی۔ یا مجھ سے کو غلطی سرزد نہیں ہوگی۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے؟
    بعض دفعہ عورتوں کے حالات جاننے کے لئے سوالات کے دوران خود بھی شرمندگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔
    جب تنہائی میں ایک اجنبی عورت کسی اجنبی مرد کے ساتھ باہم گفتگو کر رہے ہوں تو شیطان کا ورغلانے کے بارے میں شرعی طور پر ثبوت موجود ہے۔
    اب آپ مشورہ دیں کہ مجھے ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔
    جب کہ ہماری خواتین اپنی حالت اور کیفیت غیر محرم مردوں اور عورتوں کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ بعض دفعہ اعضاء کی نمائش بھی کرنی پڑتی ہے۔
    کئی قسیم طبیعاتی اور نفسیاتی سوالات بھی کرنے پڑتے ہیں۔

    Reply
  3. محمد نورالدین ندوی

    تعدد زوجات کی اجازت نہیں بلکہ حکم دیا گیا ہے اور اسلام اس کی ہمت افزائی کرتا ہے۔ اس موضوع پر مفتی طارق مسعود صاحب کی تشریحات سب سے زیادہ قرآن وسنت کی روح کے قریب ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

    Reply

Submit a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

۲۰۲۱ اکتوبر