کیوں بڑھ رہا ہے بچوں میں
خودکشی کا رجحان
زندگی ہی ہرانسان ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے آپ کو دوسروں سے آگے کرنے کوشش کرتا ہے۔یہی حال بچوں کا بھی ہے۔وہ بھی اسی طرح کی کوششیں کرتے ہیں اورکام یابی نا ملنے کی صورت میں وہ ذہنی دباؤ (Depression) کا شکار بن جاتےہیں
حال ہی میں درجہ ششم کے ایک طالب علم نے، جس کی عمر صر ف دس(10)برس تھی، آن لائن گیم کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ایسے بہت سے بچّے ہیں، جو کسی نہ کسی وجہ سے خودکشی کا شکار ہوئے ہیں۔خود کشی دنیا کی بہت بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے،جس کا شکاربچّے بھی بنتے ہیں۔ اس بیماری کو ذہنی دواؤں یعنی (Depression) کہتے ہیں۔
زندگی ہی ہرانسان ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اپنے آپ کو دوسروں سے آگے کرنے کوشش کرتا ہے۔یہی حال بچوں کا بھی ہے۔وہ بھی اسی طرح کی کوششیں کرتے ہیں اورکام یابی نا ملنے کی صورت میں وہ ذہنی دباؤ (Depression) کا شکار بن جاتےہیں اور اگر اس کو صحیح وقت پر نہ پہچانا جائے اور اس کا رہ نمائی نہ کی جائے تو اس کا نتیجہ خودکشی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
بچّے خودکشی کیوں کرتے ہیں؟
بعض بچّے تعلیم میں اچھے نہیں ہوتے اور امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تعلیم کے امتحان میں فیل نہیں ہویے بلکہ اپنی زندگی کے امتحان میں فیل ہو گئے ہیں۔ یہ کیفیت اُن کے ذہنوں میں منفی اثرات پیدا کرتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں خودکشی کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔
کچھ بچّے یعنی (Teenagers) محبّت کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور پھر کسی طرح کا دھوکا ملنے کے بعد بچّے کے ذہن میں کود کشی کرلیتے ہیں۔بہت سے نوجوان نوکری نہیں ملنے کی وجہ سے بےروزگاری سے پریشان ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں۔ بعض بچّے اپنے گھروالوں اور رشتےداروں کی وجہ سے بھی خودکشی کر لیتے ہیں، اُن کے گھروالے اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، اُن کو اپنی مرضی کے کوئی بھی کام نہیں کرنے دیتے ،اُن کے اوپر ذہنی طور سے ظلم تصور کرتے ہیں، ان سب باتوں کی وجہ سے بچّے خودکشی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جو بچّے خودکشی کرتے ہیں وہ ذہنی طور سے بہت کم زور ہوتے ہیں اور اُن کا یہ کم زور ذہن اُن کی اچھی طرح سے پرورش نہ ہونے کے وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی ناکامی کو لے کراتنا سوچتے ہیں کی ذہنی دباؤ (Depression) کا شکار بن جاتے ہیں۔
کم عمر کے بچوں میں خودکشی کرنے کے اشارے اس طرح نظر آ سکتے ہیں:
*خودکشی کے بارے میں بات کرنا یا کچھ لکھنا ،جیسے : ’’میں اپنے آپ کو ختم کر لوں گا۔‘‘
*لوگوں سے خود کو دور کر لینا اورمنشیات کا استعمال کرنا۔
*کسی پریشانی میں خود کو اکیلا سمجھنا اور مایوس ہوجانا۔
*تکلیف دہ چیزوں سے خود کو نقصان پہنچانا جیسے ہاتھ کاٹ لینا یا زہر کہا لینا۔
والدین کی ذمہ داریاں:
بچوں کو غلط کاموںسے روکنے کے لیے سب سے اہم کرداروالدین کا ہوتا ہے۔ وہ بچوں کے ذہن کواچھی طرح سمجھتے ہیںوہ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ زندگی میں کامیابی اور ناکامی ہوتی رہتی ہے اور زندگی کا کوئی بھی امتحان آخری امتحان نہیں ہوتا۔ اگر پھر بھی بچوں میں خودکشی کی رغبت نظر آئے، تو اسے روکنے کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کریں۔
ذہنی دواؤں (Depression) کی پہچان:
اگر بچّہ اُداس بیٹھاہےیا اسے کسی عمل میں جدّوجہد کرتا ہوا دیکھیں تو اس کی مدد کریں، اس کی مدد مانگنے کا انتظار نہ کریں۔ اس کا دل اللہ کے ذکر میں لگائیں اور اس کو رسول اللہ ؐ اور صحابہ کرامؓ کے واقعات بتائیں کہ کیسے نبی ؐ نے اور صحابہ کرامؓ نے پریشانیاں جھیلی ہیں اور ہر پریشانی میں صبر کیا ہے۔ ان باتوں سے اس کے دل کو سکون ملے گا۔
بچوں میں خود کشی کا خیال آنے پران میں اشارہ نظر آجاتا ہے۔ان کی ان حرکتوں کو نظرانداز نہ کریں۔ ان کو گھروالوں اور دوستوں کے ساتھ وقت بتانے کی ترغیب دیں۔ان کو کسی بھی حال میں تنہا نہ چھوڑیں۔
علاج:
بچوں کو سمجھانے کو سمجھانے سے کام نہ چلے تو دواؤں کا استعمال کریں۔ پھر بھی سدھار نہ آئے تو اس سے پیار اور ہمدردی کے ساتھ اس کی مشکل کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ اس کے دل میں خوفِ خداپیدا کرنے کی کوشش کریں۔اگراس کے دل میں اللہ کی محبّت اور اللہ کا خوف پیدا ہوگیا تو وہ ایسے غلط کم کرنے کا خیال بھی اپنے ذہن میں نہیں لائے گا۔
مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنے اصولوں سے دلوں کو تسخیر کرے۔
(دینیات:١١٨)
سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ
۲۰۲۱ ستمبر