گرتوں کو تھام لے کوئی

کم زور انسان زندگی کی حقیقتوں اور تلخیوں سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے نشہ کرتاہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں۔انھیں اپنی اور ان کی زندگی کی قدر و قیمت بتائیں ۔ انھیں بتائیں کہ زندگی قدرت کا انمول عطیہ ہے۔

منشیات فروش وہ زہریلے سانپ ہیں، جو چند پیسوں کی خاطر اپنے ہی جوانوں کو ڈس رہے ہیں ۔ ملک اور مملکت کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ محض چند سکوں کے لیے انہوں نے ایسے پھول توڑ کر گندگی کے ڈھیر پر رکھ دیے ہیں، جنہوں نے کل گلشن کا کاروبار سنبھالنا تھا۔
26 جون کو دنیا بھر میں انسداد منشیات کاعالمی دن منایا جاتا ہے ۔اس کا مقصد لوگوں میں منشیات کے نقصانات کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے اور اس کے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا ہے۔ آج پوری دنیا میں سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں نشے کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں، لیکن افسوس صد افسوس اس کے باوجود دن بدن نشہ خوروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 20کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ منشیات کا سب سے زیادہ استعمال امریکا میں ہوتا ہے۔ 75 فیصد یورپی اقوام منشیات کا سہارا لیتی ہے ۔بھارت میں تقریباً 7کڑور لوگ منشیات کے عادی ہیں۔ سگریٹ سے شروع ہونے والا یہ سفر موت پر ختم ہوتا ہے۔
منشیات کی تقریبا 21 سے زائد قسمیں دستیاب ہیں۔ شراب،سگریٹ، بھنگ ،حشیش، چرس، گانجا ، افیون ،آیوڈیکس ،گٹکھا،براون شوگر اور دیگر نشہ آور ادویات وغیرہ۔
نشہ کئی طریقوں سے کیا جاتا ۔کچھ نشہ والی چیزیں کوپیا جاتا ہے، کچھ دھویں کی شکل میں لی جاتی ہیں اورکچھ زبان کے نیچے یا داڑھ میں رکھی جاتی ہیں۔
نشے کی لت:
ایسے بچے اور نوجوان جن کو ایسے غلط دوستوں کی صحبت میسر آتی ہے، جو نشے کے عادی ہوتے ہیں، ان کے ساتھ رہ کر وہ بچےبھی نشے کے عادی ہوجاتے ہیں ۔ بہت سے لوگ نشے والی چیزیں اپنے بچوں سے منگواتے ہیں، تو آہستہ آہستہ وہ بچے بھی نشہ کی طرف راغب ہونے لگتے ہیں۔ جانے انجانے میں وہ بھی نشہ کرنےوالےبن جاتےہیں۔
ایسے گھر، جہاں ماحول کشیدہ رہتا ہے، ہمیشہ لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں میں نشے کی لت ہوتی ہے۔ منسٹری آف ہیلتھ افیئرز کے سروے کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں90 فیصد فٹ پاتھ پر رہنے والے بچے نشے کے عادی ہیں ۔
وہ طبقہ جو پڑھا لکھا ہے اور ہر طرح کی سہولیات رکھتا ہے اور اپنا آئیڈیل مغربی طرزِ زندگی کو سمجھتے ہیں ۔اہم فنکشنزاور پارٹیوں میں نشہ کرناضروری سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ کا شکار، مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد بھی وقتی سکون حاصل کرنے کے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔
نشے کے اثرات:
نشے سے یاری دراصل موت کی تیاری ہے۔ یہ ایسا زہر ہے جو جسم اور ذہن دونوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ پہلے اس کا اثر جسم پر ہوتا ہے، گھبراہٹ، ہوتی ہے اورغصہ آتا ہے۔ آہستہ آہستہ ذہنی و جسمانی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ نیند غائب ہو جاتی ہے ۔ یہاں سے بیماریاں جنم لیتی ہیں۔پھیپڑے ، گردے اورجگر خراب ہونے لگتے ہیں۔ جسم کے مختلف حصوں میں کینسر ہوتا ہےجو زندگی کا خاتمہ کر دیتاہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 26جولائی 2019 کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ تمباکو نوشی کے سبب 80لاکھ افراد دارِ فانی کو کوچ کر گئے ۔ڈیڑھ کڑور افراد سگریٹ نوشی کے سبب کینسر،ٹی بی اور دلوں کے امراض میں مبتلاہیں۔
دنیا میں انسان اکیلا نہیں رہتا۔بلکہ اس کا رشہ والدین، بھائی بہن، بیوی بچے اور دوست و احباب اور سماج سے ہوتا ہے۔اور اس کے بگاڑ کا اثر ان تمام رشتوں پر پڑتا ہے۔ شراب نوشی کی لت نے کتنے ہی گھر اجاڑ دیےہیں،شرابيوں کے ہاتھوں کتنے ہی اپنوں کا قتل ہوا،کتنوں نے اپنوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر لقمۂ اجل کو لبیک کہ دیا ہے۔اس سے متعلق ہزاروں ایسی دردناک اور غم و رنج کی داستانیں ہیں، جنھیں بیان کرنے میں ہزاروں صحفات کم پڑ جائیں گے۔
احتیاطی تدابیر :
کم زور انسان زندگی کی حقیقتوں اور تلخیوں سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے نشہ کرتاہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں۔انھیں اپنی اور ان کی زندگی کی قدر و قیمت بتائیں ۔ انھیں بتائیں کہ زندگی قدرت کا انمول عطیہ ہے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
بچپن سےہی بچوںپر نظررکھیں۔دوست و احباب کے بارے میں معلومات رکھیں۔بری صحبت سےبچوں کو بچائیں۔اسکول اور کالج جانے والے بچوں کے بیگ کی تلاشی لیا کریں۔ بیگ سے حاصل شدہ چیزوں سے بچے کی عادتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بچہ اگر کھانے پینے کا شوقین ہے توبیگ سے اسنیکس ،چپس ، کیک وغیرہ ملیں گے۔ اگر فلمیں دیکھنے کا شوقین ہے تو پین ڈرائیور،سی ڈی اور فوٹوز نکلیں گے اور اگر وہ نشے کا عادی ہے توبیگ سے سگريٹ ،گٹکا وغیرہ نکلے گا۔ بیماری کا پتہ ہو توعلاج بھی آسان ہو جاتا ہے۔
نشہ کی روک تھام کے لیے عملی تدابیر:
تعلیمی، تحقیقی اور حکومتی اداروں کی طرف سے اس موضوع پر تحقیقی معلوماتی پروگرام رکھے جائیں۔اسکول اور کالجز کی سطع پر منشیات اور اس کے مضر اثرات سے آگاہی کے حوالے سےنصاب میں مضامین شامل کیے جائیں۔ میڈیکل اسٹور اور مستند ڈاکڑ وں کے نسخوں کے بغیر ادویات فروخت نہ کی جا ئیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی دلوائی جائے اور ڈرگز مافیا پر روگ لگائی جائے ۔
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے کوئی
عصر حاضرکا مہلک ترین نشہ ہیروئن ہے۔ جو اس موذی نشے کے پنجے میں آجاتا ہے، یہ اس کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ جس طرح آکاس بیل ہرے بھرے درخت کو چاٹ کر بے برگ و برباد کردیتی ہے، اسی طرح یہ ظالم ہیروئن انسان کی شخصیت کو بالکل تباہ کر دیتی ہے ۔ نشہ آور اشیاء کے رسیا عموما ًوہ نوجوان ہوتے ہیں جو شوق میں سگریٹ پیتے ہیں۔ اس موقع پر اگر ان کو سمجھایا نہ جائے، انہیں اچھا ماحول فراہم نہ کیا جائے تو وہ انھیںنشے کی دلدل میں گھسیٹ لیتی ہے ۔
کئی نشہ کرنے والے کہتے ہیں ہم سکون کی خاطر نشہ کرتے ہیں۔ اف !کیسی خود فریبی ہے۔یہ کیسا اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔ کیا کبھی گندگی کے ڈھیر سے خوشبو آئی ہے۔ دلوں کا سکون اور اطمینان تو صرف اور صرف بندوں کو پیدا کرنے والےخالق کے ذکر میں ہے ۔ جو بندے کو رزق مہیا کرتاہے اوران کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔ ’’اللہ کی یادہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔‘‘(قرآن )
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ،جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ وقت کی ضرورت ہےکہ ہر طرح کی نشہ آور اشیاء پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ان کے بیچنے والوں کے خلاف مہم چلائی جائے۔ اگر ہم وطن عزیز کی باگ ڈور ایک صحت مند اور ذہنی طور پر بھرپور چاق وچوبندنسل کے حوالے کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں نشہ کے خلاف جہاد کرنا ہوگا ۔ یہی وقت کی پکار ہے۔

اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کیلئے تم سے لینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔اگر وہ اپنی راہ میں تم سے کچھ خرچ کرنے کیلئے کہتا ہے تو وہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کیلئے کہتا ہے
( حوالہ کتاب: اسماء الحسنٰی:١٠٦)
سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ

۲۰۲۱ ستمبر