ہم کدھر جارہے ہیں؟؟

ہر چیز کی تصویر لینے کی دکھاوے کی عادت نے انسان کو اتنا متاثر کیا کہ انسان اب جائے حادثے پر ہوتو کسی کی مدد سے زیادہ ویڈیو بنانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے تاکہ دوسروں کو دکھاسکے ۔

لاک ڈاون ختم ہوا اور قریبی رشتے داروں کے ساتھ تفریح کے لیے ایک پہاڑی پر جانے کا پلان بنابے حد خوبصورت نظارہ تھا ۔
دور تک پھیلا ہوا سبزہ، نیلے آسمان پر غروبِ ہوتے آفتاب نے اپنے رنگ میں رنگتے ہوئے آسمان کو سونے قبا پہنادی تھی، قریب ہی پانی کا بہتا چشمہ ماحول کوسحرزدہ بنارہا تھا ایک چٹان پر بیٹھتے ہوئے کنکریاں اٹھاکر پھینکتے پھینکتے کتنا وقت محویت میں گزرا اندازا نہ ہوسکا۔

فَتَبارَکَ اللَّهُ أَحسَنُ الخالِقین

اس خوبصورت منظر نے ساری تھکن اتار دی ۔
سراٹھا کر دیکھا تو ساتھ آئے فیمیلیز میں بچے اور بڑے اپنے اپنے موبائیل تھامے تصویریں بنانے میں مگن تھے ۔ 
لاک ڈاون میں یکسانیت بھرے دن گزار کر یوں فطری مناظر کو قریب سے دیکھنا کھلی فضا میں سانس لینا بھی بڑی نعمت لگ رہا تھا 
 ربی !آپ کی عنایتیں ہیں کہ ہمیں بند کمروں سے نکل کر تفریح کرنےکا موقع عنایت فرمایا لیکن جو منظر سامنے تھا اس پر دکھ گہرا ہوا کوئی ہاتھ ڈجیٹل ڈیوائز سے خالی نہیں تھا،کوئی سیلفی لے رہا تھا، کوئی فیمیلی فوٹو میں مگن، کوئی فطرت کے مناظر کیمرے میں مقید کرنے کا شوقین نظر آرہا تھا ۔کچھ بچے آسمان کے رنگوں کو شوٹ کررہے تھے۔
ہر ایک کی زبان پر تھا اسٹیٹس لگانا ہے پوسٹ بنانی ہے اتنے ویورز دیکھتے ہیں، فلاں کو جلائیں گے حتی کہ بچوں اور خواتین نے ساتھ لائے ٹفن کی بھی تصاویر لے رکھی تھی ۔
سرد آہ بھرتے ہوئے ہم کہیں اپنے بچپن میں کھو گئے اس موبائیل سے پہلے ہم نے بھی تو بچپن گزارا ہے۔ ریت میں غور کرتے نجانے کتنے لمحے گزرے، پانی میں کنکریاں پھینکنا ااور بننے والے دائروں پر غور کرنا شغل ہوا کرتا، کسی تنکے کو اٹھا کر مٹی میں کچھ لکھنے کی کوشش میں گھنٹوں صرف ہوجاتے۔
آسمان میں بکھرے بادلوں کو تکتے ہوئے تخیل کے پردے پر موجود مناظر بادلوں میں نظر آتے ۔
گیلی مٹی سے گھر بنایا کرتے تھے فطرت سے یہ قربت دل کا سکون بنا کرتی جھنجلاہٹ چھو کر نہ گزرتی، قوت برداشت بڑھایا کرتی ۔ خاموشی تفکر کی خاموشی کا لطف آیا کرتا فجر میں جاگتے ہوئے چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی دور کہیں سے مرغ کی بانگ دور کہیں سے ضرور آیا کرتی، دوپہر ہوتو کوئل کوکتی، گھر کے گارڈن میں کھلنے والے پھول پھوپی کو اور رشتہ داروں کو تحفے میں دیا کرتے تھے۔
اس ڈیوائس کے بعد وہ بچپن کہیں کھو سا گیا، غور وفکر اب فسانہ بن چکی ہےاب ایک ہی فکر لاحق ہوتی ہے یہ سامنے موجود فطری مناظر نگاہ اٹھاکر دیکھنے سے زیادہ کیمرے میں مقید کریں اور دوسروں کو دکھائیں یہ لمحے حال کی حیثیت سے کم قبول ہیں ماضی بن جانے کے بعد دیکھیں گے لیپ ٹاپ کے البم میں رکھ کر بعد میں دیکھیں گے دوسرے کو فخر سے دکھائیں گے ۔انسان محفل میں موجود ہوکر بھی تنہا رہنے لگا ہے فطری مناظر سامنے ہیں لیکن انسان کے پاس محو ہونے کی فرصت نہیں ۔سامنے موجود سکون سے زیادہ انسان دوسروں کو دکھانے کی دوڑ میں سکون سے خالی ہوتا جارہا ہے ۔
کائنات کا حسن توازن ہے زندگی کا حسن توازن ہے انسانی عاداتوں کی بے عتدالی انسانی زندگی کا توازن بگاڑ رہی انسانی نفسیاتی الجھنوں کا شکار بنتی جارہی ہے ۔
ہر چیز کی تصویر لینے کی دکھاوے کی عادت نے انسان کو اتنا متاثر کیا کہ انسان اب جائے حادثے پر ہوتو کسی کی مدد سے زیادہ ویڈیو بنانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے تاکہ دوسروں کو دکھاسکے ۔
بالکل اسی طرح ضرورت مندوں کی مدد بھی باعث سکون ہے لیکن اب وہ ادا بھی کیمرے کی آنکھ میں مقید کرکے انسان ترغیب دینے کی آڑ میں خود چھپی ریاکاری کو شیلٹر فراہم کرتا ہے اس خیال سے عاری ہوکر ضرورت مند پر کیمرہ نکال کر تصویر بنانے سے کیا گزر رہی ہے عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔بچے اس حرکت کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔
 جھوٹی خوشیوں کی دوڑ نے انسان کو بے اعتدالی کا شکار بنادیا 
گھر کے بڑے بھی غیر ذمہ دار بنتے جارہے
ایک فیمیلی نے تیراکی کے منظر کو کیپچر کرنے کے لیے بچے کے ہاتھ میں ویڈیو گرافی کے ليے موبائیل دیا اور نگہاں باپ ماں اور بھائی حادثے کا شکار ہوگیے ڈوبنے کامنظر شوٹ کرتے ہوئے معصوم بچہ رونے لگا کہ والدین اور بھائی واپس کیوں نہیں آرہے ننھنے معصوم پر جو گزری اس کا خدا ہی حافظ ہے لیکن رویہ حد درجہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔
اسی طرح اس رویہ کی وجہ سے بچے سفاک بنادئیے جارہے

پچھلے دنوں کرونا سے تڑپتے ہوئے دادا کو جب ایک کمرے میں ڈال دیا گیا تو ایک بچے نےکھڑکی سے خاموشی ویڈیوگرافی کی لیکن مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ سکا حتی کے اپنے دادا کی اکھڑتی سانسیں اور حسرت بھری نگاہیں بھی اس بچے پر بے اثر رہیں ۔
غور کریں تو ہم بچوں کو احساس سے عاری روبوٹ بنارہے ہیں اس مصنوعی کلچر کے ذریعہ ہم بچوں کو کیا دے رہے ہیں اسکا عادی بناکر ہم کونسی فصل کاٹیں گے ۔ہم کہاں جارہے ہیں ۔۔؟؟

جولائی ۲۰۲۱